The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

شجر کاری کی اہمیت اور بڑھتی ماحولیاتی آلودگی

پاکستان میں آنے والی حالیہ موسمیاتی تبدیلی ہم سب کے لئے ہی باعث تشویش ہے گرمیوں کا طویل ہونا سردی کا ایک دو ماہ تک محدود ہو جانا، کبھی خشک سالی تو کبھی بے وقت بارشوں کا ہونا ایسے عوامل ہیں جو نہایت توجہ طلب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوں گی مگر ہم نے مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنےکے لئے بھی کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی ۔ اور نہ ہی پانی کے ذخیرے بنائے ہیں بلکہ سالہا سال سے ہماری سوئی کالا باغ ڈیم پر ہی اٹکی کھڑی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں پانی کی قلت اور بجلی کا مہنگا اور نایاب ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم تمام تر ذمہ داری حکومتی ایوانوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔ مہذب معاشروں میں کچھ ذمہ داریاں اس کے شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں تو اپنا گھر صاف کر کے کوڑا کرکٹ گلی میں پھینکنے کا رواج عام ہے ‘ اور پھر ہم ہر وقت اپنے ملک و حکومت سے نالاں رہتے ہیں۔

مگر ان سب باتوں سے قطع نظر کچھ اقدامات ایسے ہیں جو ہم سب بحیثیت شہری باآسانی لے سکتے ہیں۔ملک میں بڑھتی آلودگی سے کوئی بھی خوش نہیں ہو گا مگر اس پر قابو پانے کے لئے ہم سب اپنی اپنی انفرادی سطح پر ایسے اقدامات ضرور لے سکتے ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی بلکہ ہم ابر ِرحمت سے بھی بروقت مستفید ہو سکیں گے۔ اس میں شجر کاری اور پودوں کی نگہداشت سر فہرست ہے۔ درختوں کی روز بروز بڑھتی کٹا ئی ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس رفتار سےکٹائی ہو رہی ہے اس رفتار سے پیداوار بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور ہم تو ان چند خوش نصیب ترین ممالک میں سے ہیں جن کے ہاں شجر کاری کا سیزن ہر سال دو بار آتا ہے ‘ پہلا جنوری کے وسط سے مارچ کے وسط تک، اور دوسرا جولائی سے ستمبر کے وسط تک۔ مگر اس کے باجود ہمارے ہاں اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ اور اگر پودے لگائے بھی جاتے ہیں تو ان کی نگہبانی اور حفاظت کی جانب بالکل توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ تناور درخت نہیں بن پاتے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر چند تصاویر میری نظروں سے گزری جو کہ چند نوجوانوں کی اپنے تئیں شروع کی جانے والی شجر کاری مہم سے متعلق تھیں۔ یہ نوجوان بذریعہ سوشل میڈیا شہریوں میں شعور بیدار کر رہے ہیں جن کی حوصلہ افزائی یقیناً ہم بھی اپنے اپنے گھروں میں، گملوں میں باغیچوں میں، دالانوں میں، چھتوں پر، اسکولوں، درسگاہوں، سڑک کنارے پودے لگا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہی واحد علاج ہے گلوبل وارمنگ ، گرین ہاؤس افیکٹ سمیت سیلابوں جیسے متعدد امراض کا ۔ کیونکہ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جس کا فضا میں بڑھتا ہوا تناسب گرین ہاؤس ایفکٹ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور جس سے بتدریج گلوبل وارمنگ ہو رہی ہے۔ یقین جانئیے صرف پودے لگا کر ہم بہت سے ماحولیاتی مسائل سے جان چھڑوا سکتے ہیں۔ پودوں اور درختوں کی وجہ سے بارشیں بھی بر وقت اور اچھے تناسب میں ہوتی ہیں۔

جہاں ہمیں اس وقت شجر کاری سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومتی سطح پر چند ایسی مجموعی روشوں کے بھی خاتمے کی ضرورت ہے جن کی کسی بھی مہذب معاشرے میں ہرگز کوئی جگہ نہیں۔ ان روشوں میں سرفہرست ہے انتظامیہ کا رویہ۔ جو سڑکوں کی مبینہ کشادگی کا بہانہ بنا کر درختوں کو بے دری سے کاٹ دیتی ہے۔ بچے کچے درخت واپڈا حکام کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو بجلی کی تاروں میں رکاوٹ کا بہانہ بنا کر کاٹ دیتے ہیں۔ اور جو واپڈا سے بھی بچ جائیں وہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نذر ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اب ہمیں بحثییت ذمہ دار شہری چاہیئے کہ ہم بھی اپنے اپنے تئیں اپنے ارد گرد کا علاقہ سرسبزو شاداب بنائیں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے مناسب آکسیجن اور خوراک کا انتظام کریں ورنہ تیزی سے گھٹتے ہوئے درختوں اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قدرتی نظام بالکل درہم برہم ہو جائے گا جس کی مثال متعدد جانداروں کی ناپید ہوتیں متنوع اقسام اور فضائی آلودگی کی وجہ سے بڑھتے سانس کے امراض ہیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email