روح کا رابطہ ۔۔اعتکاف

اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔

پچھلی قوموں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی، قرآن میں ہے :

ترجمہ کنزالایمان
”اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔ “

اعتکاف حدیث میں

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات (بیویاں) اعتکاف کرتی رہیں۔‘

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔ واجب، سنت اور نفل۔

1 اعتکاف واجب

کسی نے یہ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں ایک یا دو دن کا اعتکاف کروں گا اور اس کا کام ہوگیا۔ یہ اعتکاف واجب ہے اور اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھو کہ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے بغیر روزہ کے اعتکاف واجب صحیح نہیں۔(در مختار، 2 : 129)

2۔ اعتکاف مؤکدہ(سنت )۔

یہ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں کیا جائے گا یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہوجائے اور تیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد یا انتیسویں رمضان کو چاند ہونے کے بعد مسجد سے نکلے۔ یاد رکھو کہ یہ اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ یعنی اگر محلہ کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب آخرت کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے اور اگر ایک آدمی نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب آخرت کے مواخذہ سے بری ہوجائیں گے۔ اس اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں۔(در مختار، 2 : 130)۔

3۔ اعتکافِ مستحب

اعتکاف مستحب یہ ہے کہ جب کبھی بھی دن یا رات میں مسجد کے اندر داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرے۔ جتنی دیر تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب پائے گا نیت کے لئے صرف دل میں اتنا خیال کرلینا اور منہ سے کہہ لینا کافی ہے کہ میں نے خدا کے لئے اعتکاف مسجد کی نیت کی۔(فتاویٰ عالمگیری، 11 : 197)۔

اعتکاف مسجد کے مسنون الفاظ یہ ہیں۔

نويت سنت الاعتکاف

اعتکاف کا اصل مقصد اور روح یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے۔ ساری مصروفیات ترک کرکے اللہ کے ساتھ مشغول ہوجائے۔ سارے تعلقات قطع کرکے صرف اللہ سے تعلق قائم کرے۔ سارے خیالات کو ترک کرکے صرف اللہ کے ذکر اور محبت میں لگ جائے۔ مخلوق کی بجائے اللہ سے محبت پیدا ہو جائے، تو اللہ کی یہ محبت اس دن کام آئے گی جس دن اللہ کے سوا کوئی محبت کرنے والا نہ ہوگا۔ اگر اعتکاف اخلاص کے ساتھ کیا جائے، تو یہ سب سے بہتر عمل ہے۔ اعتکاف میں بندہ ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے۔ بندہ کا خواب بھی عبادت میں حساب ہوتا ہے۔ بقولِ شاعر

نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہیں کہ حضورؐ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور ان کے لیے نیکیاں اس طرح لکھی جاتی ہیں جس طرح کرنے والوں کے لیے لکھی جاتی ہیں (مشکوۃ)۔

مذکورہ حدیث میں اعتکاف کے دو اہم فائدے ذکر کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ کیوں کہ مسجد میں رہ کر گناہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ دوسرا یہ کہ بہت سے نیک اعمال ایسے ہیں کہ معتکف وہ ادا نہیں کرسکتا، جیسے جنازہ میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ لیکن ان اعمال کا ثواب مفت میں معتکف کو ملتا ہے۔

علامہ شعرانی رحمتہ اللہ نے کتاب کشف الغمہ میں حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص رمضان کے مہینے میں آخری دس دن اعتکاف میں گزارے، تو اس کے لیے سات حج اور سات قبول عمروں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور جو کوئی ایسی مسجد میں جس میں پانچ وقت نماز ادا ہوتی ہو، مغرب سے عشا تک اعتکاف کرے جس میں ذکر و اذکار کے سوا کسی سے کوئی باتیں نہ کرے، تو اس کے لیے جنت میں ایک محل تیار کیا جاتا ہے۔

اعتکاف کے چند دیگر مسائل

1۔ اعتکاف کرنے والوں کے لئے بلا عذر مسجد سے نکلنا حرام ہے۔ اگر نکلے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا چاہے قصداً نکلے یا بھول کر۔ اس طرح عورت نے جس گھر میں اعتکاف کیا ہے اس کا اس گھر سے نکلنا حرام ہے۔ اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ قصداً نکلی یا بھول کر، اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

(در مختار، 2 : 133)

2۔ مرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کرے اور عورت اپنے اس گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے گی جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کی ہو۔

(در مختار، 2 : 129)

3۔ اعتکاف کرنے والا دو عذروں کے سبب سے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے۔ ایک عذر طبعی جیسے رفع حاجت، غسل فرض اور وضو کے لئے، دوسرا عذر شرعی جیسے نماز جمعہ کے لئے جانا اگر مسجد میں نماز جمعہ نہ ہوتی ہو۔ ان دونوں عذروں کے سوا کسی اور وجہ سے مسجد سے نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔

(در مختار، 2 : 133)

4۔ اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد میں ہی رہے گا۔ وہیں کھائے، پئے، سوئے مگر احتیاط رکھے کہ کھانے پینے سے مسجد گندی نہ ہونے پائے، معتکف کے سوا کسی اور کو مسجد میں کھانے پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی آدمی مسجد میں کھانا پینا اور سونا چاہے تو اس کوچاہئے کہ اعتکاف مستحب کی نیت کرکے مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے یا ذکر الٰہی کرے۔ پھر اس کے لئے کھانے پینے اور سونے کی بھی اجازت ہے۔

(در مختار، 2 : 134)

5۔ اگر اعتکاف میں بیٹھتے وقت یہ شرط کر لی کہ مریض کی عیادت و نماز جنازہ میں جائے گا تو یہ شرط جائز ہے۔ اب اگر ان کاموں کے لئے مسجد سے باہر گیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا۔ مگر دل میں نیت کرلینا کافی نہیں بلکہ زبان سے کہنا بھی ضروری ہے۔

(فتاویٰ عالمگیری، بہار شریعت، 1 : 474)

اگر مسجد گرگئی یا کسی نے زبردستی مسجد سے نکال دیا اور وہ فوراً ہی کسی دوسری مسجد میں چلا گیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا۔

(فتاویٰ عالمگیری، بہار شریعت، 2 : 473)

6۔ اعتکاف کرنے والا بالکل ہی چپ نہ رہے نہ لوگوں سے بہت زیادہ بات چیت کرے، بلکہ اس کو چاہئے کہ نفل نمازیں زیادہ پڑھے، تلاوت کرے علم دین کا درس دے، اولیاء و صالحین کے حالات سنے اور دوسروں کی سنائے، کثرت سے درود شریف پڑھے اور ذکر الٰہی کرے، اکثر باوضو رہے اور دنیا داری کے خیالات سے دل کو پاک و صاف رکھے اور بکثرت رو رو کر اور گڑ گڑا کر خداوند تعالیٰ سے دعا مانگے۔

(در مختار، 2 : 135)

7۔ اعتکاف کی قضا صرف قصداً اعتکاف توڑنے ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اگر عذر کی وجہ سے بھی اعتکاف چھوڑ دیا مثلاً بیمار ہو گیا یا بلااختیار چھوٹا جیسے عورت کو حیض یا نفاس آیا، جنون یا بے ہوشی طاری ہوئی ان صورتوں میں بھی قضا واجب ہے۔

8۔ معتکف اگر بہ نیت عبادت بالکل چپ رہے کہ چپ رہنے کو ثواب سمجھے تو یہ مکروہ تحریمی اور اگر چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھ کر نہ بھی چپ رہے تو حرج نہیں۔ اور بری باتوں سے چپ رہا تو چپ رہنا مکروہ نہیں، بلکہ یہ تو اعلیٰ درجے کی بات ہے کیونکہ بری باتوں سے زبان کو روکے رہنا بہرحال واجب ہے اور جس بات میں ثواب ہو نہ گناہ یعنی مباح باتیں تو یہ بھی بلاضرورت معتکف کو مکروہ ہیں، کیونکہ بلا ضرورت مسجد میں مباح کلام بھی نیکیوں کو اس طرح کھا لیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

(بہار شریعت، 1 : 474)

9۔ سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اعتکاف ہو یا کوئی بھی عبادت اس میں صرف رضائے الٰہی کی نیت رکھے۔ دکھاوا، نیک نامی اور شہرت کو ہرگز ہرگز دخل نہ دے ورنہ ہر عبادت بے نور و بے رونق بلکہ ضائع و غارت ہو جائے گی اور ثواب کی جگہ گناہ، نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس کے ہر عمل میں نیک نیتی اور اخلاص کی توفیق بخشے۔ (آمین)۔

 

ربیعہ کنول: ربیعہ کنول بلاگر‘ مصنف اور پروڈیوسر ہیں‘ جبکہ بطور وائس اوور آرٹسٹ بھی اپنے فرائض انجام دیتی ہیں