The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

تعلیم یافتہ مائیں ہی مستقبل کی معمار ہیں

اسما طارق


ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ۔۔ ’’علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔‘‘

عورت اور مرد وہ اہم ستون ہیں جن پر یہ معاشرہ قائم ہے دونوں معاشرے کا لازم و ملزوم حصہ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بغیر یہ معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور نہ پھل پھول سکتا ہے اس معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے دونوں کا کردار اہم ہے ۔جس طرح کسی معاشرے کے افراد کی ترقی کیلئے تعلیم لازمی ہے اسی طرح یہ تعلیم مرد و عورت دونوں کے لئے لازم ہے ۔تعلیم جس طرح مرد کے ذہن کے دریچوں کو کھولتی ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ وہ بھی شعور کی منزلوں کو طے کر سکے ۔

اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور عورتوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے جیسا کہ علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

اس حق کے باوجود بہت سی جگہوں پر عورت کو اس حق سے محروم کیا گیا ہے جہاں عورت کےلئے نہ تو عزت کا مقام اور نہ جائز حقوق اسے بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے ۔سب سے زیادہ رکاوٹ اس عمل میں یہ ہے کہ عورت علم حاصل کر کے ہم پر حکومت کرنے لگ جائے گی، وہ بغاوت اختیار کر لے گی اور ایسا وہاں ہی ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کے منافی نظام ہوں۔ اس لئے اس میں تعلیم کا قصور نہیں اس فرسودہ نظام کا عمل دخل ہے جس نے صحیح غلط کے فرق کو ختم کر دیا ہے تعلیم تو ذہن کے بند دریچوں کو کھولتی ہے اور اسے روشنی عطا کرتی ہے تاکہ وہ درست سمت کا تعین کر سکے ۔کوئی معاشرہ تعلیم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کی منزلوں کو چھو سکتا ہے۔

بقول نپولین بونا پارٹ:- ’’بہترین قومیں بہترین مائیں ہی بنا سکتی ہیں‘‘ تعلیم نسواں سے کسی ملک میں معاشی واقتصادی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔ اسی طرح کسی قوم کی ترقی وخوشحالی کا انحصار عورت و مرد کی تعلیم پر مبنی ہے۔ عورتوں کی بنیادی تعلیم کا مقصد انہیں علم سے آگاہ ہی اور ان کی اچھی صلاحیتوں کا اُجاگرکرنا ہے ،ان کے ذہن کے بند دریچوں کو کھولنا ہے ۔جس معاشرے میں عورتیں تعلیم یافتہ ہوتی وہ معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔

اس ضمن میں جو سوال قابل غور ہے وہ ہے کہ عورت کی تعلیم کیوں ضروری ہے ۔لوگ اکثر کہتے ہیں لڑکیوں کو تعلیم کیوں دلوائیں اور اس پر اتنا خرچا کیوں کریں جب اس نے آگے جا کر چولہا چوکی ہی کرنی ہے اور گھر سنبھالنا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ عورت گھر نہ سنبھالے بلکے ہم تو یہ چاہتے ہیں اسے تعلیم ملے تاکہ وہ گھر کے ساتھ ساتھ نسلوں کو بھی اچھے سے سنبھال لے۔عورت کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے ۔اب جس نے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکیں جب وہ خود کسی قابل نہ ہو تو وہاں نئی نسل کیا کرے اور کسے ترقی کرے ۔

سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے اس کی ماں کی بےشمار تربیت ہوتی ہے جو وہ بچپن سے دیتی ہے ۔ عادل ماں کا بیٹا عموما عادل ہی ہوتا ہے کیونکہ عدل اس کی گھٹی میں ہوتا ہے اگر وہ بہک بھی جائے تو اس کی تربیت اس کی راہنمائی کرتی ہے ۔اسی طرح تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی پرورش ان پڑھ ماں سے بہتر انداز میں کر سکتی ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر ان کی ڈھال بن سکتی ہے ۔جب کہ ہمارے ہاں تو عورتوں کی بڑی تعداد قرآن کی بنیادی تعلیم تک سے محروم ہیں اب یہاں ہم سائنسی اور تحقیقی تعلیم کی بات چھوڑ ہی دیں ۔تعلیم چاہیے دینی ہو یا دنیوی وہ بند دریچوں کو کھولتی ہی ہے ۔

اس میں عورتوں اور بچیوں کے لئے سکولوں میں پرائمری تعلیم اور کالجوں میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ، ووکیشنل اور پیش وارانہ تعلیم شامل ہے۔ عورتوں کی تعلیم ادبی و غیر ادبی تعلیمی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ لہٰذا ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کر سکتی ہے اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی، اپنے لئے ذریعہ معاش پیدا کرسکتی ہے، اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کر سکتی ہے، غربت کا ڈٹ کر مقابلہ کر پاتی ہے کسی بھی قسم کے حالات کو چلنچ کرسکتی ہے اس کے برعکس اگر وہ تعلیم یافتہ نہ ہو تو بےبسی اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر سکتی ہے ۔

تعلیم عورت کو خوداعتمادی عطا کرتی ہے اسے خود پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے ۔اس میں خود شناسی کی لہر پیدا کرتی ہے جس سے وہ معاشرے میں اپنی بقاء کی جنگ لڑتی ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔ تعلیم عورت کو حقوق و فرائض کی پہچان سکھاتی ہے اور انہیں احسن طریقے سے پورا کرنا کا ہنر عطا کرتی ہے ۔انیسوی صدی کے شروع تک، عورتیں اور بچیاں صرف گھر یلو تعلیم تک محدود تھیں مگر اب معاشرے گواہ ہے کہ آج والدین اپنی بچیوں کو بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ حصول تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں اور یہی بچیاں کل کو میڈیکل، انجینئرنگ، سائنس، تجارت، بنکاری اور صحافت نیز ہر شعبہ میں اپنے کمال دکھاتی اور ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کرتی نظر آتی ہیں ۔

رنجیت سنگھ نے اپنے دور میں کہا کہ میں اپنی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، ایک اعلٰی فہم بزرگ نے کہا کہ اپنی قوم کی نانی ، دادی ، ماں ،بہن اور بیٹی کے لئے تعلیم عام کر دو اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مشکل سے ہی کہیں کوئی سکھ بیکارملتا ہوتا ہے ۔مرد کی تعلیم تو صرف مرد کو فائدہ دیتی مگر عورت کی تعلیم اس کے ساتھ ساتھ اس کی نسلوں تک کو سنوار دیتی ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچیوں کی تعلیم کے لئے کوشاں رہیں ۔

 

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں