The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

پاکستانی عام عورت بھی تبدیلی کی منتظر

سعدیہ احمد 


موجودہ خاتون اول کا فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اپنا غیر سیاسی مختصر کردار ادا کرنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔ افسوس پاکستانی عوام کو بے غرض اور پر خلوص طور پر فلاحی کاموں میں توجہ دینے والی خواتین کم ملی لیکن ان کی موجودگی قومی تاریخ اسی طرح ہے جیسے آٹے میں نمک کی اہمیت ہوتی ہے ۔اسی طرح کچھ لوگ ہمیں عام زندگی میں بہت ہی کم وقت کے لئے ملتے یں مگر ان کی مثبت سوچ اور شخصیت ذہن پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جس کی بناءپر ہم انھیں بھول نہیں پاتے۔ان کو درپیش آلام و مصائب میں دیکھ کر ہماری روح بے چین ہوجاتی ہے شائد ہم ان کے ساتھ ہونی والی زیادتی کے خلاف ان کا ساتھ نہیں دیتے یا ان کی مدد کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔

چند سال قبل پنڈی میں والدہ کی دوست کے گھر دو روز قیام کیا وہاں ان کی سب سے بڑی بیٹی نائلہ سے میری دوستی ہو گئی۔وہ عمر میں مجھ چھوٹی تھی مگر اس میں موجود صفات کو دیکھ کر مجھے اپنا آپ چھوٹا معلوم ہونا لگا۔ نائلہ اپنی والدہ کی طرح سلیقہ پسند،محنتی اور سادہ شخصیت کی مالک تھی مگر وہ معصوم لڑکی ماں سے کہیں زیادہ حساس تھی۔وہ آج کل کی لڑکیوں جیسی نہ تھی۔والد کے کہنے پر میٹرک کے بعد صرف دینی تعلیم حاصل کر رہی تھی، وہ خودار لڑکی صا حبِ حیثیت والد ہونے کے باوجود اپنے ذاتی خرچ سلائی کڑھائی کر کے نکال لیتی تھی ۔

اس نے مجھے بتایا کے وہ اپنے جہیز کی بھی کچھ چیزیں اپنی کمائی سے جمع کر رہی ہے تاکہ وہ جہیز کے اخراجات میں کچھ اپنا حصہ ڈال سکے ۔اپنے بنگلے کی آرائش میں بھی وہ پیش پیش تھی۔والد کاذاتی کارخانہ تھاجس کے ملازمین کا کھانا ہفتہ میں تین روز گھر سے جاتا تھا جبکہ کھانے کی تیاری بھی نائلہ ،اس کی والدہ اور بہن مل کر کیا کرتے تھیں ۔مجھے یاد ہے کہ ماجدہ خالہ کہ گھر دوسسرے دن میں اور نائلہ ، سورج غروب ہوتا دیکھ رہے تھیں، سردیوں کی آمد آمد تھی ،سرد ہواچل رہی تھی ہم دونوں چائے کا کپ تھامیں چھت پرگھر کی پچھلی طرف باہر کی جانب دیکھ رہے تھیں جہاں ایک کنواں تھا جس کا وجودمجھے خوبصورت شہری آبادی کے بیچ کافی عجیب معلوم ہوا ،کیونکہ اس علاقہ میں تمام سہولیات موجود تھی جبکہ کنواں پانی سے بھراہوا تھا ۔ میرے نگاہ کا مرکز کنواں تھاجبکہ بات چیت کا مرکز روزمرہ کی مصروفیات اور آنے والا کل تھا۔

نائلہ نے مجھ سے میرے مستقبل کا ارادہ پوچھاتومیں نے مزید پڑھائی جاری رکھنے کا کہا۔اس پر وہ کچھ سوچ کر کہنے لگی،”سعدیہ باجی پتہ ہے، ہمارے خاندان میں جلد بیٹیوں کو روانہ کر دیا جاتاہے۔”میں نے شریر انداز میں کہا کہ ،”ارے خالہ کو بھی اس جملہ کو بار بارسننا پڑتا ہوگا کہ ارے بہن! بیٹیاں گھر بٹھانے کی چیز نہیں ،جلدی سے ہاتھ پیلے کردو ۔“ نائلہ یہ سن کر میرے ساتھ قہقہ لگا کر کچھ دیر اس بات پر ہنسنے لگی اور پھر اچانک سے متفکر ہوکراپنے مخصوص نرم لہجے میں پست آوازمیں کہنے لگی،’کہیں جلد بازی میں اباکوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھے“ میں نے اس جلد بازی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایاکہ اسکے والد کے بہن اور بھائی بھی ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ”تم جیسی بے مثال لڑکی کے ساتھ کون کچھ غلط کر سکتا ہے ،فکر نہ کرو،انکل بہت سمجھدار ہیں، کسی ایسے ویسے سے تواپنی اتنی پیاری بیٹی نہیں بیاہ دیں گے “کراچی لوٹنے کے بعد نائلہ سے رابطہ دو ماہ تک مستقل قائم رہا پھر وہ مجھ سے کبھی کبھار ایس ۔ایم ۔ایس پر حال احوال پوچھ لیا کرتھی۔“۔کچھ عرصہ بعد نائلہ کے ہاتھ پیلے ہوگئے ۔ان کے والد جو کے کافی مذہبی تھے اپنے کسی دوست کے کہنے پر ایک مذہبی گھرانے میں نائلہ کی شادی کر دی ۔ شادی کے بعد میرا نائلہ سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ اور شادی کے دو ماہ بعد نائلہ کو خاوند نے گھر سے بے بنیاد الزام لگا کر نکال دیا ۔ اس پر الزام تھاکہ وہ بے حد زبان دراز ہے اور گھریلو ذمہ داریوں سے جان چھڑانے والی لڑکی ہے ،سسرال والوں سے سلوک اچھا نہیں وغیرہ وغیرہ۔

پھر چند ماہ بعد ہمیں خبر ملی کہ نائلہ اس دنیا میں نہیں رہی۔اس خبر کو سننے کے بعد فوری رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہواکہ اس حساس لڑکی نے شوہر کے رویہ اور سسرال والوں کی زیادتی کا اس قدر صدمہ لے لیا کہ وہ اس غم میں گھل گئی۔خاموش رہنے لگی ،اور دیوانوں سی باتیں کرنے لگی یہاں تک کہ کھانا پیناتک چھوڑ دیاپھر ایک صبح نماز فجر کی ادائیگی کرنے وہ نہ اٹھی تو اس طرح سب گھر کو اس کی موت کی خبر ہوئی۔ مزید یہ کہ اس کا خاوند دراصل کسی دوسری عورت کہ عشق میں مبتلا تھا اس لئے اس نے بلاکسی وجہ کہ نائلہ کوگھر سے نکالا اور طلاق کی دھمکی دے کر سچ اگلنے سے روکے رکھا،افسوس کی بات یہ ہے کہ لڑکے کے والدین کو نائلہ کے والد کی جانب سے زیادہ مالی فائدہ کی امید نظر نہ آئی تو انھوں نے بھی اپنے بیٹے کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کا ساتھ دیا۔

معصوم نائلہ جسے اس کے شوہرنے طلاق کی دھمکی دیکر خاموش کر رکھا تھا ،آخری وقت میں والدین کوسچ بتانے کے بعد خاوند کی دوسری شادی کرنے کے فیصلہ پربھی رضامند تھی۔اس کی پوری کائنات اس کا گھر اور شوہر تھا۔شائد اس لئے وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگئی تھی۔ نائلہ کی موت کے فوراََ بعد اس کے شوہر نے شادی رچا لی،جس سے اس کے کردار اور جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا۔نائلہ کے والدین جو بات چیت کے ذریعہ بیٹی کا گھر بسانا چاہتے تھیں،کورٹ کچہری میں جانے کے بجائے معاملے کو رب کے سپرد کر بیٹھے،کیونکہ وہ نائلہ کے والد ین تھے نہ ہی انکی بیٹی نے طلاق کی بدنامی کے ڈر سے کسی کے سا منے منہ کھولانہ ہی والدین نے مری ہوئی بیٹی کامعاملہ کورٹ کچہری میں لے جانے کا سوچا ،انھوں نے عدالت میں جانا اپنے خاندانی وقار کے خلاف سمجھا۔

نائلہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں سوچ کرکبھی مجھے اپنی خودغرضی پر غصہ آتاہے کہ میں اس پرخلوص لڑکی سے زیادہ مستقل رابطہ اپنی ذاتی مصروفیات کی بناءپر نہ رکھ سکی اور کبھی اس بات پر کہ اس کو موت کی نیند سلانے والے تمام کردار ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں ۔ان جیسے لوگوں کی گرفت صرف کاتبِ تقدیر ہی رسّی ڈھیلی چھوڑنے کے بعد اچانک سے زندگی کے کسی ایسے موڑ پر مکافت عمل یا قدرت کے بے مثال طریقوں سے کرتا ہے اور بیشک آخرت میں تو سب ہی کوجوابدہ ہونا ہے۔

بس ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ملک کی شاہی شہزادیاں پارلیمنٹ میں ہم عورتوں کی نمائندہ بن کر سرکاری مراعات اور سہولیات کے صرف مزے لوٹنا جانتی ہیں وہ ان مسائل سے ناآشنا ہیں جو کہ ہمیں درپیش ہیں ۔ غریب اور متوسط عورتیں کی پریشانیاں وہ کیسے سمجھ سکتی ہیں جن کی سیاست میں موجودگی باپ،بھائی اور شوہر کی بدولت ہے۔ ان کی دولت اور طاقت سب عیب چھپادیتی ہیں،بڑے بڑے کے منہ بند کرنے کے لیے کافی ہے۔یہ سب معاشرتی اقتدار ،حدیں اور مذہبی اصول غریب اور متوسط طبقہ کی عورتوں کے لئے ہیں۔ اگر وہ ان کی خلاف ورزی کرے تو باغی اور شہزادیاں کرے تو لبرل یا آزاد خیالات کی مالک کہلاتی ہیں ۔

اگر عام لڑکی کوئی معاشرتی حد عبور کرے اور اس کی سزا بھکتے تو بالکل ٹھیک اور اگر شہزادیاں ملکی دولت ہڑپ کرنے کی سزا بھگتے تو وہ اور بہت بڑی لیڈر جیل کے ریسٹ ہاؤس سے بن کر نکلتی ہیں اور بعدا زاں بی بی اور محترمہ کے نعروں کی گونج پوری دنیا میں زیادہ تیزآواز میں سنائی جاتی ہے۔

یہاں چند چیدہ عورتوں کے حوالہ سے تلخ حقائق کا ذکر کریں تو بچوں کے عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک رپوٹ کے مطابق پاکستان میں 21فیصد لڑکیوں کی شادیاں 18 برس کی عمر سے پہلے ہی کر دی جاتی ہیں۔ (میڈیا برائے شفافیت) نے پنجاب میں عورتوں سے زیادتیاں کے مختلف واقعات کے اعداد وشمار شائع کئے جس میں پولیس ریکارڈ کے مطابق 2014-2016 میں تین سالوں میں عصمت دری کے واقعات ہی 8000 درج کئے گئے۔ ایک انگریزی اخبار میں 5 اپریل 2018 کی رپوٹ میں سندھ ویمن ڈیویلپنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کو شائع کیا جس میں مختلف نوعیت کے کل 1643 عورتوں سے زیادتیاں کے کیس درج ہوئے۔

یہ صرف سندھ اور پنجاب کا مختصر احوال ہے ،ابھی یہاں دیگر دو صوبوں کا کوئی ریکارڈنہیں شامل کیا گیا جہاں خواتین سے ہونے والی زیادتی کے کیس درج نہیں ہو پاتے یا درج نہیں کرائے جاتے۔اس صورتحال کو دیکھ کر جمہوری حکومتوں کی کارکردگی کھل کر سامنے آتی ہے ۔ دوسری جانب پارلیمنٹ میں بیٹھی اپنی مخصوصنشستوں پہ قابض یہ شہزادیاں چند قوانین پاس کرواکر اپنا فرض پورا کر دیتی ہے باقی بات رہی ان قوانین کے نفاذ کی تو وہ عورتوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں خاطر خواہ کمی رونما نہ ہونے کی صورت میں نظر آرہاہے۔

پاکستانی عورت کی حالت یقیناََ جب ہی بدلے گی جب اس کی نمائندگی عام عورت کرے گی کیونکہ شہزادیاں ساٹھ سالوں سے عام عورت بن کر سوچ نہیں پائیں ، نہ ہی شہزادی ہوتے ہوئے کچھ خاص کر پائی وہ محض اپنے خاندان کے مردوں کے ذاتی مفادات کے طور پر استعمال ہوئی ہیں ۔

خاتون اول بشری بی بی نے نئی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی عورتوں اور دیگر بے سہارا افراد کو وزیر اعظم عمران خان سے اچھی امیدیں وابستہ کرنے کا کہا ہے ، اب یہ وقت بتائے گاکہ تبدیلی کی لہر سے مظلوم عورتوں کے درد کا کچھ مداواہو پائے گا ،یا نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email