The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

پاکستانی عوام کے اتحاد سے بھارت لرزہ براندام

پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور ہمارا دشمن کہیں تو ہمارے سامنے ظاہر ہے جیسے حالیہ واقعات کے بعد انڈیا اور اسرائیل کا نام سامنے آیا جب کہ کچھ معاملات میں ہمارا دشمن پوشیدہ ہے ،جس میں کچھ ایسے بد نصیب بھی شامل ہیں جو ہمارے اندر رہ کر ہی ہمیں نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ دونوں محاذوں پہ لڑ سکیں۔ لیکن ایک بات جو نہایت حیران کن ہے وہ یہ کہ جنگیں کبھی بھی فوج نہیں لڑتی ۔ اگر ایسا ہوتا تو سوویت یونین کبھی بھی شکست سے دوچار نہ ہوتی۔ اور شکست کے بعد اپنے ٹکڑے کروا لینا بھی یقینی طور پہ ایسا زخم ہے اُن کا جو کبھی مندمل نہیں ہو سکتا۔ اسی پیرائے میں پاکستان کے معروضی حالات کو رکھ کے دیکھیے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ پاکستان میں بھی فوج تن تنہا کچھ نہ کر پاتی اگر عوام کی طاقت ان کے ساتھ نہ ہوتی۔ سوات آپریشن ہو یا وزیرستان میں کاروائیاں ہر جگہ پہ عوام نے فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دیا اور کامیابی کو یقینی بنایا۔

بھارت نے بالاکوٹ میں ایک متنازعہ آپریشن کیا جس کی تصدیق ابھی تک مشکوک ہے اور بھارتی ائیر چیف کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد تو اس آپریشن کے حوالے سے شکوک نے مزید جنم لیا ہے۔ بقول ان کے ائیر چیف کے کہ ہم لاشیں گنتے نہیں لیکن ہم نے حملہ بالکل درست جگہ پر کیا ہے ۔

لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ اب عالمی تحقیقاتی غیر جانبدار ایجنسیاں و ادارے بھی بھارت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں جب انتخابات عروج پہ ہوں بھارت کے اندر سے بھی اس حوالے سے حقائق سامنا شروع ہو جائیں۔ اور جس طرح اپوزیشن جماعتوں نے وہاں مودی کے خلاف اتحاد کر رکھا ہے یہ بعید بھی نہیں۔ بغض پاکستان میں بھارت ہر حد پھلانگنے کو تیار ہے لیکن پاکستان کے ردعمل نے نہ صرف خود بھارت کو ششدر کر دیا ہے بلکہ بھارت کے کچھ ظاہری اور کچھ پوشیدہ اتحادی بھی انگشت بدندان ہیں کہ اُن کے ساتھ یہ ہوا کیا ہے۔

حالیہ واقعات کو دیکھ لیجیے۔ پاکستان کی عوام ایک مٹھی کی طرح بند طاقت جیسے پاک فوج کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اور بالاکوٹ پہ بھارتی طیاروں کے پے لوڈ گرانے کے بعد بھی جو عوامی غصہ سامنے آیا وہ بھی حقیقت میں اپنی مسلح افواج پہ یقین ہی تھا کہ عوام جانتے ہیں کہ افواج کس قابل ہیں اور قابلیت ہوتے ہوئے پاکستانی عوام کا سوال تھا کہ کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ لیکن حالات و واقعات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جب پاکستان نے ردعمل دیا تو عوام میں نہ صرف خوشی کی لہر دوڑ گئی بلکہ وہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

اور ایک لمحہ صورت حال ملاحظہ کیجیے کہ ایک جانب بھارت ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اپنی حکومت کے لتے لے رہی ہیں۔ اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے راہنما راہول گاندھی سمیت تمام اپوزیشن رہنما مودی کے دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان ہے جہاں عوام اور عوامی نمائندے اپنی مسلح افواج اورحکومت کے ساتھ مسلسل نہ صرف کھڑے ہیں بلکہ وہ بھارت کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ وہ نہ تو ہمارا اتحاد توڑ سکے گا نہ اُس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹا سکے۔

ایوان میں اپوزیشن راہنماؤں کی تقاریر ہوں یا عوامی اجتماعات میں سیاستدانوں کے خطابات ، کسی بھی فورم پہ ایک بھی شخص ایسا نہیں جو اس وقت مسلح افواج کے ساتھ نہ ہو۔ اور پاکستان سے آپ کو ڈھونڈنے سے بھی کوئی آواز ایسی نہیں ملے گی جو اپنی افواج یا موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بات کر رہی ہے۔ جب جنگ کی سی صورت حال پید اہوئی تو پورے ملک میں اتحاد کا عملی نمونہ سامنے نظر آیا کہ سیاستدانوں اور عوام نے اپنے باہمی اختلافات پس پشت ڈال دیے اور ملکی دفاع کے لیے یکجان ہو گئے۔

دنیا کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیجیے۔ جہاں بھی جنگ اپنے عوام پہ مسلط کی گئی کہ کسی بھی فریق کے خلاف ایسی محاذ آرائی کی گئی کہ اپنے ملک کے عوام بد حالی کا شکار ہو جائیں اور عوام کے دل فوج کے ساتھ نہ ہوں وہاں جنگ میں کامیابی کی خواہش بھی دیوانگی ثابت ہوئی۔ لیکن 65جیسی مثالیں سامنے رکھیے کہ جہاں عوام کی طاقت اپنی افواج کے ساتھ ہوں وہاں پہ نہ صرف اپنے سے کئی گنا دشمن کا مقابلہ بھی کر لیا گیا بلکہ ملک بھی ترقی کی راہ پہ گامزن رہا۔ اور وقت دیکھے گا کہ اب بھی پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والے افراد، ادارے، ممالک تاریخ میں اپنے کردار کا جب مستقبل میں مشاہدہ کریں گے تو انہیں اپنی چالوں پہ افسوس ہو گا کہ انہوں نے کس ملک کو للکارا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں