The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

دنیا میں کامیابی کا راز کیا ہے؟

تعظیم احمد


اس جہا ن ر نگ و بو میں ہر شخص اپنے من میں کو ئی نہ کو ئی مر ا د لے کر اپنے مقصد کے حصو ل کے لئے کو شا ں ہے ۔ کا میا بی وہ شے ہے جس کی تمنا ہر شخص کر تا ہے ۔ مگر کا میا بی کیسے حا صل کی جائے ؟ یہ اس دنیا کا سب سے بڑ ا معما ر ہے ۔

کا میا بی حا صل کر نے کے اس معمے کو مختلف نظر یا ت اور فکر کے لو گو ں نے اپنے اپنے اندا ز میں حل کر نے کی کو شش کی ۔ ا طا لو ی مفکر مکا لو ی نے نتیجہ ہی ذ ر یعے کا جو ا ز دیتا ہے کا فا ر مو لا دیا یعنی اگر آ پ کسی بھی مقصد کا حصو ل چا ہتے ہیں تو جا ئز و نا جا ئز کی تمیز کئے بغیر ، تما م میسر ذر ا ئع استعما ل کیجئے ۔ اگر آپ اپنا نصب العین حا صل کر لیتے ہیں تو آپ کے استعما ل کر دہ ذ را ئع چا ہے وہ ا خلا قی یا غیر اخلا قی، در ست اور جا ئز قرا ر پا تے ہیں ۔

بر طا نو ی ادیب فرا نسس بیکن نے اعلیٰ مقا م تک جا نے کا ہر را ستہ گھو متی ہو ئی سیڑ ھیو ں سے ہو کر جا تا ہے کے فلسفے کا پر چا ر کیا جس کا وا ضح کا مطلب یہ ہے کہ کو ئی بھی شخص غیر ا خلا قی یا غیر قا نو نی ہتھکنڈے استعمال کئے بغیر اعلی مقا م نہیں پا سکتا ۔ لیکن ان کے یہ تما م فلسفے اخلا قیا ت کے حدو د و قیو د کو پا ما ل کر نے کے با عث نا قا بل عمل ٹھہر ے۔

کسی بھی مقصد میں کا میا بی حا صل کر نے کے لئے دو عوا مل کا کر دا ر کلید ی ہو تا ہے : ا ول انسا ن کی محنت ؛ اور دوم قسمت۔ ان دونو ن عو امل کے تنا سب کے با رے میں مختلف آرا ء ہیں ۔ کچھ لو گ صر ف قسمت کو کا میا بی کا حصو ل قرا ر دیتے ہیں جبکہ کچھ افر ا د قسمت کے فیکٹر کو یکسر نظر اندا ز کر کے صر ف محنت کے حا می ہیں ۔ مگر اکثر یت کی را ئے یہ ہے کہ محنت اور قسمت کا کر دا ر 50-50ہو تا ہے ۔ یعنی کا میا بی کے حصو ل کے لئے نصف کردار محنت ادا کر تی ہے جبکہ با قی نصف ما ند ہ قسمت ادا کر تی ہے۔

کسی بھی دنیا وی مقصد کو کا میا ب کر نے کو 100 نمبر کا پر چہ ہی سمجھیے۔ بہت سے تعلیمی ادا روں میں کسی بھی مضمو ن کے پر چے میں نمبر و ں کے دو حصے ہو تے ہیں : تھیو ر ی اور سیشنل ۔ تھیو ر ی کے ما ر کس ،پر چہ حل کر کے اپنی قا بلیت کے بل بو تے حا صل کیے جا تے ہیں جبکہ سیشنل ما ر کس ممتحن کے ہا تھ میں ہو تے ہیں اور ممتحن ان ما ر کس کے معا ملے میں مکمل طو ر پر با اختیا ر ہو تا ہے۔ سیشنل ما ر کس دیتے و قت ممتحن ، طا لب علم کی حا ضر ی ، کلاس کنٹر ی بیو ٹیشن ، ڈسپلن اور مجمو عی رو یہ کو مد نظر ر کھتا ہے ۔ طا لب علم کا ر و یہ کلا س میں ا چھا رہا ہو تو طا لب علم کوسیشنل میں اچھے گر یڈز سے نوا زا جا تا ہے۔ خر ا ب رو یہ ر کھنے کی صو رت میں وہ سیشنل ما ر کس سے محر و م ر ہتا ہے ۔

آپ کا کو ئی بھی مقصد جو آپ اپنی زند گی میں حا صل کر نا چا ہتے ہیں ، جیسے 100 ما ر کس کا پر چہ جس کا نصف تھیو ر ی اور نصف سیشنل ہے ۔ اپنے مقصد کے حصو ل کے لئے آپ کی انتھک محنت اورتگ و دو آپ کی محنت 50ما ر کس کی تھیو ر ی پر ہو تی ہے جبکہ با قی کے 50ما ر کس سیشنل ہیں یعنی آپ کی قسمت یا مقد ر ہے۔ اس پر چے کے ممتحن کو ئی اورنہیں بلکہ اللہ تبار ک و تعا لی ہیں ۔ جس طر ح تعلیمی اداروں میں سیشنل ما ر کس کے لئےمجمو عی رویہ دیکھا جا تا ہے با لکل اسی طر ح ممتحن اعلی بھی قسمت کے سیشنل ما ر کس سے نوا زتے وقت یہ دیکھا جا تا ہے کہ امید وار کا رویہ اس کے سا تھی انسا نو ں کے سا تھ، اور ممتحن کے خا ندان وا لو ں (الخلق عیا اللہ ) کے سا تھ کیسا ہے ۔

اگر آپ انسا نیت کے سا تھ صلہ ر ہمی کر تے ہیں ، ایثا رو قر با نی کا رو یہ اپنا تے ہیں ، اخو ت و روادا ر ی کو کا م میں لا تے ہیں تو پھر قو ی ا مید ہے کہ ممتحن آپ کو ر حمت و قسمت کے پو رے سیشنل ما ر کس 50\50سے نوا ز ے گا۔ اور اگر آپ کی محنت میں کو ئی کو تا ہی رہ بھی گئی ہو تو پھر بھی ر حمت خدا و ند ی کے شا مل ہو نے سے آ پ کا میا ب ہو جا ئیں گے ۔ لیکن اگرآُ پ خلق خد ا سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اخو ت و پیار ، مہر با نی جیسی ا قدا ر کو نظر اندا ز کر کے صر ف محنت اور ما دیت اپنی (تھیو ر ی ) پر تکیہ کر تے ہیں تو پھر چا ہے آپ جتنے جتن کر لیں ، جب ر حمت خدا وند ی کے 50 ما ر کس ہی شا مل نہیں ہو ں گے تو آ پ کی کا میا بی کے امکا نا ت بھی معدو م ہو جا ئیں گے ۔

کا میا بی حا صل کر نے کا وا حد جا ئز اور ا خلا قی طر یقہ یہی ہے کہ خلق خد ا کو یا د ر کھیے۔ لو گو ں کے سا تھ صلہ ر حمی کیجیے۔ ان کے سا تھ محبت سے پیش آئیے ۔ ان کی مد د کیجیے۔ آپ کے یہ ا عما ل آپ کو ا للہ تبا ر ک و تعالیٰ کا قر ب عطا کر یں گے۔ اس کا نتیجہ آپ کو اللہ اپنی رحمت سے نوا زے گا ۔ اور پھر کا میا بی کے دروازے آپ کے لیے کھلتے چلے جائیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email