The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

اللہ کو گوشت اور خون نہیں پرہیزگاری درکا رہے

انسانی تاریخ کی ابتداء سے ہی قربانی کو اہل خیر کا شعار بنایا گیا اور یہ قربانیوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام کے بیٹوں سے ہی شروع ہو گیا۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ.(المائدہ 27)۔

ترجمہ: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پہ آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کی خبر تلاوت کیجئے جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس وقت بھی اس بات کی وضاحت کی گئی کہ قربانی کا مقصد جانوروں کا خون بہانا نہیں ہے بلکہ تقوی اور پرہیز گاری کو پختہ کرنا اور اس میں اضافہ مقصود ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔(إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ، ترجمہ: یقینا اللہ صرف پرہیز گاروں سے ہی (قربانی) قبول کرتے ہیں۔(المائدہ27)۔

قربانی کا مقصد ابراہیم علیہ السلام سے بھی یہی تھا۔

فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ( 105الصافات)۔

ترجمہ:اور جب دونوں (باپ اور بیٹا) نے اللہ کا حکم تسلیم کر لیا اور ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا لیا اور ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آواز دی۔ یقینا آپ نے خواب سچا کر دیا،یقینا ہم اسی طرح احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ قربانی کا مقصد آج امت محمدیہ میں بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

لن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ۔

اللہ تعالی کو ہر گز ان(جانوروں) کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا لیکن اس کو تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے۔(الحج 37)۔

یاد رکھئے! اسلام کی تمام عبادات صرف حرکات و اعمال نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں ایسی حکمتیں اور فوائد ہیں جو انسانی معاشرے کو حسن بخشتی ہیں۔ حلال و حرام جانور تو ذبح ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن ان مقدس ایام کا انتخاب اور ان فضیلت والے دنوں کے آخری دن اس عظیم عمل کا حکم اور اس دن کو دنیا کا بہترین دن قرار دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مقصد خون بہانا نہیں ہے بلکہ خون بہا کر اپنے مال کی قربانی پیش کر کے اللہ کی عبودیت کا ثبوت دینا ہے کہ اے اللہ میرے ہاتھ سے چلنے والی چھری کے ساتھ جس طرح یہ جانور ذبح ہو گیا میں اسی طرح

اپنی خواہشات کو تیرے نام پہ تیری رضا کے لیے قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔
میں اپنے مال کو اسی طرح صرف تیری رضا کے لیے لٹانے کے لئے تیار ہوں۔
میں اپنی جان کو تیرے رستے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔

میں اپنے ذاتی انتقام کی آگ اور اپنی ذاتیات کی وجہ سے کسی بھی عداوت و بغض سے بری ہوں بلکہ میرے سارے احساسات و جذبات صرف تیرے نام ہیں۔

الغرض کہ مجھے تیری رضا کمانے کے لیے کسی بھی چیز کی قربانی کرنی پڑے تو یں ہر گز دریغ نہی کروں گا۔ جو مسلمان اس عہد و پیمان اور اس جذبہ ایمانی کے ساتھ جانور ذبح کر لیتا ہے۔ وہ یقینا اپنی زندگی میں ایک واضح اثر محسوس کرتا ہے وہ اپنے جذبات میں واقعتا ایک روحانیت محسوس کرتا ہے۔وہ اپنے ایمان سے حقیقی طور پہ لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات اور اپنے نفس پہ واقعتا ایک ایمانی بیریئر لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ آئیے قربانی کرنے سے پہلے عزم کیجئے کہ میں اس عبادت کے مقصد کو حاصل کروں گا اور اس عبادت کی لذت اپنے ایمان و یقین میں محسوس کروں گا تاکہ میں اس آیت مبارکہ کا مصداق بن جاؤں ۔

قل إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الأنعام 162)۔

کہہ دیجئے یقینا میری نماز ، میری قربانی، اور میری زندگی، اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں