The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

مریم نواز، قومی سیاست داں یا کرپٹ سیاست داں؟

پاکستان کا ایک المیہ رہا ہے اور آج بھی ہے کہ اس دھرتی سے زیادہ مقدم ملک سے اہم شخصیات رہی ہیں اور شخصیات پہ حرف آیا نہیں اور ملک کے رہنے یا نہ رہنے کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ جناب آپ کے اجداد نے اگر ملک کے لیے جہدو جہد کی تھی تو اس لیے نہیں کی تھی کہ آپ اس ملک کے مختار کل بن جائیں کہ جو چاہیں آپ فیصلہ کریں وہی قانون بن جائے۔

اس ملک کی بنیادوں میں تو ایسے گمنام شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے کہ جن کے لاشے بھی شاید مٹی میں ایسے دب گئے کہ زمین بھی ہموار ہو گئی اور اس زمین پہ آج کوئی اکڑ کے اس ملک کے خلاف بات کرتے ہوئے جب چلتا ہے تو شاید اسی زمین کے نیچے وہ لاشہ تڑپ جاتا ہو گا۔ اور اس ملک کی آبیاری ان ماؤں، بہنوں نے اپنی عزتیں لٹا کر کی ہے جن کے ناموں سے بھی آج کی نسل واقف نہ ہو گی۔ اور ان میں سے کتنی ہی ایسی تھیں جو ایسے گمنام کنوؤں میں کود گئیں کہ جن کے میٹھے پانی آج کی نسل پیتے ہوئے اس ملک کی عزت و تکریم پہ ہرزہ سرائی کرتی ہے۔

پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر ہوتا تو یقینی طور پر کسی کو اعتراض نہ ہوتا کہ یہ تو فلاں کے باپ دادا کی جاگیر ہے جو چاہیں کہیں اس کو۔ لیکن اگر اس پاکستان کے معمار ہی وہ ہیں جنہوں نے ایسے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں کہ انہیں یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ ان کا نام بھی باقی رہے کہ کوئی ان کے نام کو بنیاد بنا کر اس ملک سے کچھ مانگتا پھرے تو ہم اور آپ کس باغ کی مولی ہیں جو اس دھڑلے سے وطن عزیز کے خلاف بولیں۔

مریم نواز گرفتار ہو چکی ہیں۔ اور ان کے پارٹی کارکنان جو ایوان کا حصہ ہیں، انہوں نے طوفان بدتمیزی برپا کر ڈالا کہ اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔ یاد رکھیے کسی بھی ملک میں ہزاروں سیاستداں ہوتے ہیں لیکن ان میں سے معدودے چند ایسے افراد جو انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں، وہ راہنما بن پاتے ہیں۔ ان گنتی کے چند افراد کو سیاست کے گرو لیڈر مانتے ہیں۔ اور اس لمحے مریم بی بی کے پاس بھی ایک سیاستدان سے لیڈر بننے کا سنہری موقع ہے۔ اب یہ ان پہ ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں یا اس موقع کو گنواتی ہیں۔

اگر مریم بی بی اس لمحے اپنی ذات کا سوچتی ہیں، صرف ایک سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے خود کو منسلک سمجھ کے سوچتی ہیں۔ تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت پاکستان میں موجود ہزاروں سیاستدانوں کی طرح ہی تاریخ کا کوئی گمنام گوشہ پائیں گی۔ لیکن اس وقت اگر وہ خود کو تمام سیاسی وابستگی سے ایک لمحے کے لیے ہٹ کہ خود کو صرف پاکستانی سمجھتی ہیں تو دو رائے ہو ہی نہین سکتیں کہ وہ تاریخ میں اپنا مقام ایک راہنما کے طور پہ پا لیں گی۔ لیکن اس حوالے سے فیصلہ مریم نواز صفدر کو کرنا ہے کہ وہ اس لمحے کیا چاہتی ہیں۔

اگر صرف سیاستدان ہی بننا ہے تو اپنی گرفتاری کو کیش کروائیے۔ ایوان میں ہنگامہ کروائیے۔ اور پارٹی کارکنان کو احکامات دیجیے کہ وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ متنازعہ بیانات کی بھرمار کر دیجیے۔ دوسرے سیاستدانوں کے خلاف اخلاقی معیار سے کئی درجے نیچے گفتگو کیجیے۔ آپ کو کوئی نہیں روکے گا اور آپ کا درجہ پاکستان کی تاریخ میں بھی ایک عام سیاستدان سے بڑھ کے نہیں ہو گا۔

لیکن اگر مریم صاحبہ اس وقت وسعت قلبی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی ذات کو، اپنے خاندان کو، ملک کے لیے سمجھتے ہوئے، اس لمحے پاکستان کو سب سے پہلے سمجھتی ہیں تو وہ صرف ایک بیان دے سکتی ہیں، وہ صرف اپنے قابل بھروسہ ساتھی کی مدد سے میڈیا میں ایک پریس ریلیز جاری کروا سکتی ہیں جس میں صرف مختصر سی تحریر ہو کہ میری گرفتاری اس وقت اہم نہیں اور میں مقدمات کا سامنا کروں گی۔ میری اپنے کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ میری گرفتاری پہ احتجاج و ہنگامے کے بجائے کشمیر کے مسئلے کو ترجیح بنا لیں۔

حکومت سے اختلافات ہم رکھتے ہیں اور رکھیں گے لیکن اس وقت ہماری ترجیح کشمیر ہونی چاہیے۔ ہمیں کشمیر میں جاری ظلم و ستم پوری دنیا کو دکھانا ہے۔ اور پاکستان کے خلاف کسی قدم پہ ہم حکومت اور اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ بس اتنی سی بات۔ اور آپ یقین کیجیے مریم نواز جیل میں قید میں رہتی ہیں تو بھی اس ملک کی ایک بڑی راہنما بن کے ابھریں گی۔ اور پاکستانی سیاست میں ان کے نام کا ڈنکا بجے گا۔ لوگ انہیں ان کے نام سے پہچانیں گے۔ وہ یہ بھول جائیں گے کہ مریم بی بی نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ لیکن اس حوالے سے فیصلے کا اختیار صرف اور صرف مریم بی بی کے پاس ہے۔

کردار پہ بحث نہیں، کرپشن کا فیصلہ بھی عدالتوں نے کرنا ہے ، ذات کا بخیے ادھیڑنا بھی مقصور نہیں، صرف ایک لمحہ سوچیے آج مخالفین بھی بھٹو کا نام لیتے ہوئے اپنا لہجہ احترام کے دائرے میں کیوں لے آتے ہیں؟ کیا کبھی سوچا کہ اس کے ذاتی کردار کے بجائے اس کا نام ایک علامت بن کے کیسے ابھرا؟ بھٹو نے پاکستانی سیاست کی سختیاں برداشت کیں۔ اس نے اپنے باپ دادا کے نام کو کیش کروانے کے بجائے ایسے فیصلے کیے کہ بھٹو سیاسی کارکنوں کے دل میں اتر گیا۔

فوری اور بروقت فیصلہ آپ کا نام تاریخ میں امر کر دیتا ہے اور اگر آپ فیصلے میں تھوڑی سی بھی تاخیر کر دیں تو آپ بھی تاریخ میں ایسے گمنام رہتے ہیں جیسے اربوں لوگ رہتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں