The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

آزادی مارچ اور دھرنے پر اخلاقی سوالات اٹھ گئے

یوسف ابوالخیر

مولانا کا مارچ اور دھرنا اس وقت حالات حاضرہ کا اہم موضوع اور شہہ سُرخیوں میں ہے۔ خاکسار کے ذہن میں اس بابت چند سوالات کلبلا رہے ہیں جو تسلی بخش جواب چاہتے ہیں اور اس حوالے سے راہ نمائی کی غرض سے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

سب سے پہلے اگر ہم مارچ کا نقطۂ آغاز دیکھیں تو جے یو آئی کی جانب سے مذہبی کارڈ کا استعمال دکھائی دے گا لیکن پھر ان مذہبی نعروں اور مطالبات پر خالص سیاسی اور حریفانہ کشاکش غالب آگئی جسے بعض صاحبانِ بصیرت نے مولانا کی تحریک کا اصل محرک بھی قرار دیا ہے۔

ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اصول پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا کی اُس پِچ پر کھیلنے سے انکار کردیا جس پر بہرحال بلاول کو کریڈٹ دینا بنتا ہے۔ مگر مولانا نے اپنے سیاسی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سڑک پر آنا ضروری جانا اور مذہبی کارڈ سے یوٹرن لیتے ہوئے دھرنے کا رُخ پھیر دیا وزیراعظم کے استعفے کی جانب۔

اگر حکومت کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے تو بادی النظر میں وزیراعظم کی نظریاتی سمت تو کم از کم درست دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اب تک کوئی ایسی قانون سازی یا حکومتی اقدامات سامنے نہیں آئے جس سے آئین کی اسلامی دفعات کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔ بلکہ اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان نے جس مدلل اور بے باکانہ انداز سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان کا مقدمہ لڑا، اس پر خود مذہبی حلقے وزیراعظم کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ ہاں البتہ معیشت اور گورننس کا جائزہ لیا جائے تو اس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت بہرحال ہے، مگر اسے ناکامی تو نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں جس سے ٹیکس چوروں کی چیخیں بھی سنائی دیں اور بڑے لٹیروں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا۔ لہٰذا دونوں معاملات کا جائزہ لینے کے بعد بہرحال کسی بھی حکومت کی کامیابی یا ناکامی محض چودہ پندرہ ماہ میں تو ٹٹولی نہیں جاسکتی۔ برسوں کے بدترین بگڑے ہوئے حالات و معاملات کی درستی کے لیے وقت تو درکار ہوتا ہی ہے، ساتھ میں اقدامات بھی لازم ہیں۔

اب واپس آتے ہیں دھرنے کی جانب۔ مولانا کے کنٹینر پر تمام چھوٹے بڑے سیاسی اداکاروں کی تصویریں، حتیٰ کہ قوم پرست اور خاتون رہنما تک کی تصویر موجود ہے، اگر کسی کی نہیں ہے تو سپریم کورٹ سے سرٹیفائیڈ صادق اور امین سینیٹر سراج الحق کی نہیں۔ جماعت اسلامی دینی فکر اور اپوزیشن میں ہونے کے باوجود دھرنا اسٹیج پر موجود نہیں ہے، مگر حکومت کی خاموش تائید بھی نہیں کررہی، بلکہ اپنے کارکنان اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہے۔

اسی طرح کرپشن کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی مانند جے آئی چیف سراج الحق ایسے سیاست داں ہیں جن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ اور وہ دھرنا اسٹیج پر موجود نہیں ہیں، جب کہ وہ لوگ اسٹیج پر ہیں جن پر الزامات ہیں۔

اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی جانب کہ عمران خان نااہل ہیں اور ان کو ہٹایا جانا ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھر کون ہو گا اگلا وزیراعظم؟ سیاسی پنڈتوں کے مطابق مولانا کے ہاتھ میں تو وزارت عظمیٰ کی لکیر ہی نہیں، تو پھر اقتدار کسے سونپا جائے گا؟ ان کو جو ملک کو اس حالت تک پہنچانے کے جرم میں شریک رہے ہیں؟ وہ جو کل تک ایک دوسرے پر کرپشن کے کیسز بناتے اور پیٹ پھاڑ کر لوٹا گیا قومی خزانہ نکالنے کے اعلان کرتے رہے ہیں؟ یا وہ جو ان لوٹ کھسوٹ کرنے والی پارٹیوں اور انھیں این آر او دینے والے سے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرتے رہے ہیں؟

اگر دھرنے کا انجام انھی چوروں لٹیروں کو پھر سے مسلط کرنا ہے تو کوئی صاحبِ عقل کیسے اس دھرنے کی حمایت کر سکتا ہے؟ دوسرا اگر دھرنے سے ہونے والے انتشار کی صورت میں مارشل لا کو جواز ملتا ہے تو بھی کوئی محب وطن ایسے دھرنے کی حمایت پر آمادہ نہیں ہوگا۔

اب آپ خود بتائیے کہ دھرنے کی کن اخلاقی و اصولی بنیادوں اور کس نتیجے کے امکان پر حمایت کی جائے؟؟

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں