The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

بغاوت کو ماتھے کا جھومر کہنے والی بلقیس خان کی شاعری

بلقیس خان کا تعلق میانوالی سے ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھیں شاعری سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔ بلقیس خان نے جب اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظ کا روپ دینے کا سلسلہ شروع کیا تو ابتدا آزاد نظم سے کی۔ بعد میں‌ انھوں نے غزل جیسی مقبول صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی اور مشق سخن جاری رکھتے ہوئے ایک خوش فکر اور پختہ گو شاعرہ کے طور پر ادبی حلقوں میں پہچان بنانے میں کام یاب رہیں۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

غزل

کوٸی تہمت نہ کچھ الزام لگانے والے

کیسے میلے ہوئے أٸینہ دکھانے والے

اس تبسم میں چھپی سسکیاں بھی دکھلاتا

مسکراتی ہوٸی تصویر بنانے والے

اے زمانے کے رویّوں سے الجھتے ہوئے شخص

تیرے تیور بھی ہوئے آج زمانے والے

میں نے ماتھے پہ بغاوت کا سجا کر جھومر

ہاتھ تھاما تھا ترا، ہاتھ دکھانے والے

اتنی جلدی تو کسی سوچ میں ڈھل سکتے نہیں

ہم تخیل میں الگ دنیا بسانے والے

پھر بھلا کون بھروسہ کرے کس پر بلقیس

نیند جب لوٹ گئے خواب دِکھانے والے

Print Friendly, PDF & Email