خلاء میں آباد کاری اور گھومتی کالونیاں

دنیا کی سب سے بڑی آن لائن خرید و فروخت کی کمپنی ایمیزون کے مالک اور اپنے خرچے پر خلاء کی سیر کرنے والے جیف بیزوس نے پیش گوئی کی تھی کہ ”ایک وقت ایسا آئے گا جب انسانوں کی ایک بڑی تعداد زمین چھوڑ کر خلاء میں منتقل ہوجائے گی اور صرف چند منتخب گروہ ہی زمین پر رہ جائیں گے۔“

واہ بھئی، خلاء نہ ہوا خالہ جی کا گھر ہوگیا۔ نہ رہے جون ایلیا، ورنہ یہ پیش گوئی سُن کر اپنا شعر یوں تبدیل کرلیتے:

ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بُو، تم ”خلائی“ جاﺅ گے، ہم ”خلائی“ جائیں گے
ہر طرف ہورہی ہے یہی گفتگو، تم ”خلائی“ جاﺅ گے، ہم ”خلائی“ جائیں گے

ہمارے فلم ساز تو عرصے سے ہمیں خلاء میں بسنے کے لیے تیّار کر رہے ہیں، ”چلو دل دار چلو، چاند کے پار چلو“ جیسے گیت فلم سازوں کی اسی ذہن سازی کی کوشش ہیں، لیکن ان گانوں کے نتیجے میں گھر سے بھاگنے کے تو بے شمار واقعات نے جنم لیا، لیکن زمین سے فرار کا ایک ماجرا بھی سننے کو نہ ملا۔

پیش گوئی کرنے والے نے پیش گوئی کردی اور ہم یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہے ہیں کہ خلاء میں پہنچ کر انسانوں کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا! اب یہی دیکھیے کہ خلاء میں پہنچ کر سارے ہی ”مہاجر“ ہوجائیں گے، پھر فرزندِ زمین اور دھرتی کے اصل وارث کے فلسفوں اور ان کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کا کیا بنے گا؟ اور جو ”مہاجر“ نام پر سیاست کرتے ہیں وہ بھی گئے کام سے۔

خیر اہلِ سیاست کے لیے کیا پریشان ہونا۔ عاشق ملاقات کا اور سیاست داں فساد کا کوئی نہ بہانہ تراش ہی لیتے ہیں۔ غم تو ہمیں شاعروں کا ہے جن کے سارے استعارے، تشبیہات اور تلمیحات یہیں دھری رہ جائیں گی اور وہاں انھیں شاعری کے لیے بڑے جتن کرکے نیا سامان کرنا پڑے گا۔ سو آج جسے چاند سی کہا جاتا ہے، خلاء میں اس کے لیے ”کرۂ ارض سی حسین ہو تم“ اور ”سُرخ تیرے مریخ جیسے لب“ والے مصرعے وجود میں آئیں گے۔

ہمیں یہ بھی پریشانی ہے کہ اگر خلاء پر خلائی مخلوق آباد ہوئی تو؟ یہ ”مخلوق“ تو زمین پر ناک میں دَم کر دیتی ہے، وہاں ہمارا کیا حال کرے گی! اور اگر اس مخلوق نے انسانوں کو خلاء میں بسنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ”میاں! کہاں منہ اٹھائے چلے آرہے ہو! بس گھومو پھرو اور پتلی گلی سے واپس نکل لو، بسنے وسنے کی نہیں ہورہی“، تو ہم کیا کریں گے؟ یوں نامراد ہو کر واپس آنے والے تاعمر گاتے رہیں گے:ہماری سانسوں میں آج تک وہ ”خلاء“ کی خوشبو مہک رہی ہے

اور اگر بہ زور خلاء میں بس گئے تو غیر قانونی پناہ گزین، غیر خلائی اور پناہ گیر جیسے القابات سے نوازے جاتے رہیں گے۔ ویسے یہ نوبت آنے کا امکان نہیں، ہمیں امریکیوں، انگریزوں اور دیگر یورپی اقوام پر پورا اعتماد ہے کہ وہ اپنا تجربہ بروئے کار لاتے ہوئے خلائی مخلوق کے سارے حقوق معطل کرکے انھیں جنگلوں بیابانوں میں بھیج دیں گی اور ان کا یہ خلائی مشن مقامی آبادی کو ”مہذب بنانے کی مہم“ کے احسان میں بدل جائے گا۔

ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم بلاشبہ کہہ سکتے ہیں کہ خلاء میں پہنچ کر بعض حضرات ملنے جلنے والوں سے اس قسم کے دعوے کر رہے ہوں گے، ”ارے زمین پر نیو کراچی میں ہماری یہاںںںںںں سے وہاںںںںںں تک زمینیں ہی زمینیں تھیں۔“ کسی کو مچھر کالونی میں اپنا محل نما مکان یاد آرہا ہوگا تو کوئی گیدڑ کالونی میں اپنے ہرے بھرے باغات چھٹ جانے پر غمگین ہوگا۔ یہ سب سن کر ملنے جُلنے والے صرف جَلنے بُھننے والے ہوکر رہ جائیں گے۔ قیاس تو یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ہجرت، حسبِ سابق، سیدوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کردے گی!

انسانوں کی خلاء میں‌ منتقلی کی بابت اس خبر میں بتایا گیا ہے،”آنے والے وقتوں میں زمین ایک ایسا سیارہ بن جائے گی جہاں لوگ صرف سیر سپاٹے کے لیے ہی آئیں گے۔ انسان سلنڈر نما گھومتی ہوئی لمبی اور بڑی کالونیوں میں رہیں گے جو خود ہی اپنی کششِ ثقل بنائیں گی۔“

یعنی یہ ہوا کرے گا کہ ادھر تعلیمی اداروں میں چُھٹّیاں ہوئیں، ادھر لوگوں نے بوریا بستر باندھا اور خلائی جہاز میں بیٹھ کر زمین کی طرف چل دیے۔ پوچھنے پر پتا چلے گا کہ فلاں صاحب ”گاﺅں گئے ہوئے ہیں“ یا اپنے ”مُلَک“ جا رہے ہیں۔ زمین پر سیر سپاٹے کے لیے آنے والے اپنے بچّوں کو بتائیں گے،”دیکھو! یہ تاج محل ہے۔ یہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی کی محبت میں بنوایا تھا۔“ بچّے تاج محل کو دیکھ کر کہیں گے، ”حیرت ہے“، ابّو پوچھیں گے،”اس کی خوب صورتی پر نا۔“ بچّے جواب دیں گے،”نئیں نئیں، بیوی سے محبت پر!“ ابّو بتائیں گے،”یہ ہے علامہ اقبال کا مزار، انھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔“ بچّے پاکستان دیکھ چکے ہوں گے، ”چچ چچ“ کر کے کہیں گے،”انھیں ڈراﺅنے خواب کیوں آتے تھے ابّو جی!“

ابّو بچّوں کو پورا کراچی گھمانے کے بعد پوچھیں گے،”ہاں بھئی، کیسا لگا کراچی؟“ بچّے حیران ہوکر کہیں گے، ”پاکستان میں گاﺅں اتنے بڑے ہوتے ہیں۔“

ہم اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ یہ سلنڈر نما گھومتی کالونیاں کیسی ہوں گی؟ اور ان میں رہنا کیسا ہوگا؟ کیا منظر ہوگا صاحب! کالونیاں ڈبیلو گیارہ اور چنگچی کی طرح گھومتی پھر رہی ہیں۔ ادھر سے ”لانڈھی“ جارہی ہے، تو ادھر سے ”لالو کھیت“ چلی آرہی ہے۔ ”ڈیفنس سوسائٹی“، ”اورنگی“ سے دامن بچا کر نکل رہی ہے اور ”ناظم آباد“،”بہادرآباد“ سے ذرا چھو جانے پر ”سوری“ کہتی آگے بڑھ رہی ہے۔

لو جی، ”کورنگی“ گھومتے گھومتے ”نیو کراچی“ سے ٹکرا گئی اور جھگڑا شروع ہوگیا۔ نیو کراچی والے چیخ رہے ہیں،”دکھتا نئیں ہے کیا، نئی کرانچی میں گُھسے آرہے ہو، آئندہ ایسا کرا ناں تو بھوت بُری ہوگی ایمان سے“،

کورنگی سے جواب آئے گا، ”اپنی لین میں کیوں نئیں چلتے بے، ہم کولنگی والے ہیں، متھا گھوم گیا ناں تو گٹکے کی طرح چبا کر تھوک دیں گے۔“ انھیں لڑتا دیکھ کر ”ملیر“ بھاگی بھاگی آئے گی اور آتے ہی کہے گی،”بابو! ٹشن بازی مت کرو، پیلے ہی خلاء میں بھوٹ ٹینشن چل لی ہے۔“

ایسا بھی ہوگا کہ لالوکھیت قریب سے گزرتے دیکھ کر لانڈھی کے گھر میں شور مچ جائے گا،”امّاں امّاں! لالو کھیت کالونی پاس سے نکل لئی ہے، چلو جلدی کود کر خالہ کَنے ہو آئیں۔“ محبّت کرنے والے ایک دوسرے کو واٹس ایپ میسیج دیا کریں گے، ”جانو! آج ہماری ناظم آباد تمھاری گلشنِ اقبال کے قریب سے گزرے گی، تم اپنی کالونی کی منڈیر پر آجانا میں اپنی کالونی کی منڈیر پر آجاﺅں گا۔“

کہتے ہیں کہ پڑوسی تبدیل نہیں کیے جا سکتے، لیکن خلاء میں آباد کاری اور گھومتی کالونیاں وجود میں آنے کے بعد یہ سہولت حاصل ہوجائے گی کہ جو کالونی جس کالونی کے ساتھ گھومنا چاہتی ہے اس کے پہلو میں خلاء میں مٹر گشت کرتی رہے، اور جس سے دور رہنا چاہتی ہے اسے دفع دور کر دے۔

اب ہوگا یوں کہ ادھر پاکستانیوں کی کالونی نظر آئی اُدھر بھارتیوں کی کالونی ”دور چلو دور، وہ پاکستان آرہی ہے“ کہتی کھسک لی۔

امریکیوں کی کالونی نے چین کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا اور یوٹرن لے کر کسی اور راستے پر چل دی۔

ہم سوچ رہے ہیں انسان خود کو اور کرّۂ ارض کو بچانے کے لیے زمین چھوڑ کر خلاء میں مقیم ہوجائے گا تو کیا اس کی زندگی میں آنے والا زمین کا خلاء پُر ہوسکے گا؟ کاش ایسا ہو جائے کہ ہم خود خلاء میں جانے کی بجائے اپنے بم اور اسلحہ، نفرت، وحشت اور لالچ خلاء میں ایسی جگہ بھیج دیں جہاں یہ سب کسی بلیک ہول میں جاکر فنا ہوجائیں، اور زمین امن، خوب صورتی اور محبت کا گہوارہ بن جائے۔

محمد عثمان جامعی: محمد عثمان جامعی سینئر صحافی،ناول نگار، کہانی نویس اور شاعرہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر بلاگز کے علاوہ طنز و مزاح پر مبنی ان کی تحریریں قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ محمد عثمان جامعی کی تخلیقات میں سندھ، بالخصوص شہر کراچی کے المیوں کی لفظی تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ان کا ناول”سرسید،سینتالیس،سیکٹرانچارج“جب کہ فکاہیہ مضامین اور شاعری پر مشتمل کتابیں بالترتیب ”کہے بغیر“ اور ”میں بس ایک دیوار“ کے نام سے شایع ہوچکی ہیں۔