میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ…( رومانوی غزل )

خوش فکر نوجوان شاعرہ بلقیس خان کا تعلق میانوالی سے ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی میں‌ شاعری کا آغاز کرنے والی بلقیس خان نے اسکول ہی کے دور میں شعر و ادب سے متعلق سرگرمیوں میں حصّہ لینا شروع کردیا تھا۔ تخلیقی سفر کا آغاز کیا تو نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی، لیکن غزل ان کی پسندیدہ صنفِ سخن ہے۔

کامرس کے مضمون میں‌ گریجویشن کے بعد بلقیس خان ایک نجی بینک میں‌ ملازمت اختیار کر لی اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں‌ ایم اے کیا۔ ان کا کلام ملک کے مؤقر ادبی جریدوں اور روزناموں کی زینت بنتا رہتا ہے۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

دشمن بنامِ دوست، بنانا مجھے بھی ہے
اس جیسا روپ اس کو دکھانا مجھے بھی ہے

میرے خلاف سازشیں کرتا ہے روز وہ
آخر کوئی قدم تو اٹھانا مجھے بھی ہے

انگلی اٹھا رہا ہے تُو کردار پر مرے
تجھ کو ترے مقام پہ لانا مجھے بھی ہے

نظریں بدل رہا ہے اگر وہ، تو غم نہیں
کانٹا اب اپنی رہ سے ہٹانا مجھے بھی ہے

میں برف زادی کب سے عجب ضد پہ ہوں اڑی
سورج کو اپنے پاس بلانا مجھے بھی ہے