The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

گر اس کا ساتھ ملے تو ستارے مل جائیں…( ایمان قیصرانی کی شاعری)

ایمان قیصرانی کی شاعری میں درد مندی، سوز و گداز اور احساس کی شدّت کی نمایاں ہے، اور اس وصف کے ساتھ وہ اپنے خیالات کو نہایت دل نشیں‌ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ شاعرہ کے دو مجموعۂ کلام منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ یہاں ہم ایمان قیصرانی کی خوب صورت غزل آپ کی نذر کررہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

اسیرِ ہجر کی آب و ہوا بدلنے کو
کبھی خوشی بھی ملے ذائقہ بدلنے کو

میں جس کے نقشِ قدم چومنے کو نکلی تھی
اُسی نے مجھ سے کہا راستہ بدلنے کو

ہزار زخم سہے اور پھر یہی سوچا
چلو اک اور سہی تجربہ بدلنے کو

گر اس کا ساتھ ملے تو ستارے مل جائیں
وہ ناگزیر ہوا زائچہ بدلنے کو

ملے ہیں ہم کبھی پھر سے جدا نہ ہونے کو
چلو یہ فرض کریں مسئلہ بدلنے کو

یہاں پہ خود کو بدلنا ہے، گر بدلنا ہے
سو تم سے کس نے کہا ہے خدا بدلنے کو

وہ خود تو کھو چکا دنیا کی بھیڑ میں ایماں
مجھے بھی کہہ گیا اپنا پتہ بدلنے کو

Print Friendly, PDF & Email