The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

آجائے نہ یہ خط کسی مخبر کے ہاتھ میں ….

اردو زبان اور شاعری سے لگاؤ رکھنے والی فوزیہ شیخ نے جب خود کو موزوں طبع پایا اور اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا تو غزل جیسی مقبول صنفِ سخن ان کی توجہ کا مرکز بنی اور اسے اپنے خیالات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ شاعرہ نے نظمیں‌ بھی کہی ہیں، لیکن ان غزل ان کی محبوب صنفِ سخن ہے۔ فوزیہ شیخ کی ایک تخلیق باذوق قارئین کی نذر ہے-

غزل
دیتی نہیں ہوں اس لیے کمتر کے ہاتھ میں
آجائے نہ یہ خط کسی مخبر کے ہاتھ میں

کیا کھول کر کروں گی میں کشتی کے بادباں
موجِ ہوا کا رخ ہے سمندر کے ہاتھ میں

پوشاکِ زندگی تجھے سیتے سنوارتے
سو چھید ہو گئے ہیں رفو گر کے ہاتھ میں

کہتے ہو پھر کہ بیٹی کی قسمت خراب ہے
ہیرا تو خود تھما دیا پتّھر کے ہاتھ میں

ہوتی ہے دال بھی من و سلویٰ سے بہترین
محنت کے آبلے ہوں جو شوہر کے ہاتھ میں

کانٹوں کے خوف سے رہی خوشبو سے بے نیاز
حالانکہ پھول تھے یہاں اکثر کے ہاتھ میں

تالے پہ آپ اندھا بھروسہ نہ کیجیے
ہوتی ہیں گھر کی عزتیں بھی در کے ہاتھ میں

Print Friendly, PDF & Email