The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

کیا عمران خان کے کامیاب جلسے کسی کی آنکھوں‌ میں کھٹک رہے ہیں؟

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے بعد وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور وہ خاموشی سے وزیراعظم ہاؤس سے خود گاڑی چلا کر بنی گالا روانہ ہوگئے۔

اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد عمران خان نے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی جلسے کرنے کا اعلان کردیا تحریک انصاف نے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے سب سے پہلے شہر پشاور کا انتخاب کیا اور گزشتہ ہفتے کراچی میں ایک بڑا جلسہ کیا گیا جس میں عوام کے ساتھ شوبز کی مشہور و معروف شخصیات نے بھی شرکت کی۔

عمران خان ان دونوں جلسوں میں عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو زبردستی ختم کیا گیا ہے اور عوام میں عمران خان کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ دوسری جانب نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے اتحادی ابھی تک وفاقی کابینہ تشکیل نہیں دے سکے ہیں اور آج پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے فوری الیکشن کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

موجودہ صورتحال اور سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو اس وقت جہاں عمران خان عوام کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں، وہیں تحریک انصاف اور اداروں کے درمیان تناؤ کی فضا بھی نظر آرہی ہے، اگر ملک میں صاف شفّاف طریقے سے عام انتخابات ہوجاتے ہیں تو امکان ہے کہ تحریک انصاف پھر سے برسر اقتدار ہوگی لیکن اگر دھاندلی ہوئی تو تحریک انصاف کا کامیاب ہونا مشکل ہوگا۔

2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان اقتدار کے ایوان میں لایا گیا ہے اور سیاسی مخالفین نے ان کی حکومت کو ’سیلکٹڈ‘ کہا تھا۔

ملک کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے اور مختلف ادوار میں منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد فوجی حکمرانوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا، عوام کو بلدیاتی نظام کے ذریعے بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بناتے ہوئے ان سے جلد انتخابات کروانے کا وعدہ بھی کیا، لیکن پھر ملک میں جمہوریت کی بحالی میں تاخیر ہوتی چلی گئی اور سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کو خود ساختہ جلاوطنی اور کارکنوں کو قید و بند کی صعوبتیں‌ جھیلنا پڑیں۔ موجودہ حکومت بننے سے قبل ملک میں ایک بار پھر آئینی بحران پیدا ہونے اور اداروں کے مابین تصادم کی باتیں ہورہی تھیں جو اب دم توڑ چکی ہیں۔

عمران خان کو اپنی پارٹی کی مضبوطی اور عوام میں‌ اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ احتجاجی جلسے ضرور منعقد کریں، لیکن پارلیمنٹ میں سیاسی بصیرت سے اپنی مخالف اتحادی جماعتوں کا مقابلہ کریں اور اپوزیشن کا کردار بھرپور طریقے سے نبھائیں۔ آئین کی پاس داری، جمہوری راویات اور پارلیمنٹ کا احترام ان کی پارٹی کو مضبوط بنائے گا اور یہ ان کی سیاسی بقا کے لیے لازم ہے۔

عام انتخابات میں اگر تحریک انصاف جیت جاتی ہے اور عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ اسی صورت میں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرسکیں گے جب وہ دو تہائی اکثریت سے ایوان میں پہنچیں گے، ورنہ ہوا کا رخ بدلتا دیکھ کر اتحادی جماعتیں اس وقت بھی ان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہیں جس کی حالیہ مثال ایم کیو ایم اور باپ پارٹی ہیں جنہوں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اپوزیشن کے کیمپ میں‌ چلی گئی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں