ذہنی دباؤ کینسر کے علاج کی راہ میں رکاوٹ

ایک اور خاتون رشتے دار کینسر سے ہار گئیں۔ آخری اسٹیج پر کینسر کی تشخیص ہوئی اور محض پندرہ روز میں زندگی اور موت کی کشمکش تمام ہوئی۔

محض اڑتیس سال کی عمر میں انھیں موت کی آغوش میں جاتا دیکھ کر سبھی صدمے سے نڈھال تھے۔ والدہ نے جب یہ خبر دی تو ان کے بچّوں کا خیال آیا۔ ماں کی جدائی بارہ سالہ بیٹی اور آٹھ سالہ بیٹے پر کس قدر بھاری ہوگی۔ بوجھل دل کے ساتھ ایک کزن سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ کینسر سے تو مرحومہ گزشتہ پانچ سال سے جنگ لڑ رہی تھیں۔ کزن چونکہ مرحومہ کے زیادہ قریب رہی ہے، اس لیے اس کے غم اور غصّے میں شدت بھی زیادہ تھی۔

تقریباً 13 سال قبل مرحومہ نے پسند کی شادی کی تھی۔ بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون نے اپنے حسنِ اخلاق سے سسرال والوں کا دل جیت لیا، مال و دولت، بہترین رہائش سمیت ہر نعمت خاندان پر سایہ کیے ہوئے تھی۔ شوہر کی زندگی بدل گئی تھی جس کی گواہ میں بھی ہوں، لیکن اگر کچھ نہ بدلا تو رویّہ۔ مرحومہ سے ڈانٹ ڈپٹ شوہر کا معمول تھا۔ مرد تو غصہ کرتا ہی ہے، یہ پٹی مرحومہ نے بھی پڑھی ہی ہوگی۔ لہٰذا محفلوں میں سب کے سامنے بھی شوہر جھڑک دے تو فرق نہیں پڑتا تھا۔ برے رویّے کے خلاف برداشت کو ڈھال بنا کر زندگی کی گاڑی چلائی جارہی تھی لیکن سفر اس وقت دشوار ہوگیا جب اس میں دوسری بیوی بھی سوار ہوگئی۔ اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور میں ذاتی طور پر اس کی وکالت کرتی ہوں لیکن ایک سے زائد شادی بھی انصاف اور عدل سے مشروط ہے۔ پہلی بیوی کو اعتماد میں لیے بغیر اس کی عزّتِ نفس کو ٹھیس پہنچا کر اس کا ساتھ نبھانے کا عہد کیے بغیر ایسا کوئی قدم اٹھانا باعثِ تکلیف بنتا ہے اور صدمہ پہنچاتا ہے۔ اسی صورتِ حال کا مرحومہ کو بھی سامنا کرنا پڑا۔ تذلیل کا سلسلہ تو پہلے سے جاری تھا اور اب ساتھ چھوٹ جانے کا خوف ناقابلِ برداشت ہوسکتا تھا۔

کزن نے جب یہ ماجرا سنایا تو میرا بے ساختہ یہی سوال تھا کہ وہ اس اذیت سے نجات پا سکتی تھی۔ میکے جانا مشکل نہیں تھا، شرعی راستہ بھی موجود ہے۔ کزن نے تلخ انداز میں کہا چونکہ اس نے پسند کی شادی کی تھی تو نبھانے کا بوجھ اسی پر تھا۔ شادی میں فیل اور پاس ہونے کا خوف زندگی ہار جانے کے خوف سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہی ڈر پڑھی لکھی، نوکری پیشہ یا بزنس وومن سمیت کسی خاتونِ خانہ کو بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں مرحومہ کی کیفیت کا اندازہ لگانا اور کزن کی بات سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا۔ میرا اگلا سوال سسرال والوں سے متعلق تھا کہ وہ تو بہو کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے، کیا انھوں نے ساتھ دیا، جواب ملا کہ نہیں۔ وہ بیٹے کے سامنے مجبور تھے، برداشت کرنے کو کہتے رہے۔ یہ سن کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب تک ہمیں برداشت کے معنٰی بھی نہیں معلوم اور اس لیے رشتے اور تعلقات برقرار ہیں۔ ورنہ کیا تباہی نہ ہوتی۔ مرحومہ نے ایسے نسخوں پر من و عن بلکہ کچھ زیادہ ہی عمل کیا اور نتیجہ یہ کہ کینسر پھیلتا رہا۔ دل میں درد کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ بچّہ دانی کی تکلیف کا کیسے پتہ چلتا، جب کینسر سے برداشت نہ ہوا تو اس نے تڑپانا شروع کیا، ٹیسٹ ہوئے اور ڈاکٹر نے ‘خوش خبری’ سنائی کہ درد ختم ہونے کا وقت آگیا ہے، اب مرض کی آخری اسٹیج ہے۔ سات روز گھر اور سات روز اسپتال میں رہنے کے بعد انھوں نے سفرِ آخرت اختیار کیا۔

اس ناگہانی موت پر میں نے انکالوجسٹ سے رابطہ کیا اور پوچھا اسٹریس کا کینسر سے کتنا گہرا رشتہ ہے؟ انھوں نے بتایا کہ اسٹریس یا ذہنی دباؤ اگرچہ کینسر کی وجہ نہیں لیکن کینسر کے علاج میں بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ ذہنی دباؤ کا شکار شخص بیماری کی تشخیص نہیں کرپاتا، اس کی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے جس سے دوا یا کیمو مؤثر ثابت نہیں ہوتی اور سب سے بڑی بات تشخیص ہو بھی جائے تو جینے کی چاہت نہیں ہوتی۔ ایسے میں کینسر تو راہِ فرار کا کام دیتا ہے۔ سوال اور جواب کے اس سلسلے میں جو نتیجہ نکلا وہ یہی تھا کہ قریبی لوگ یا جیون ساتھی کے غیر معقول رویّوں کو آپ تو برادشت کر لیں گے لیکن آپ کا جسم ایسا نامعقول نہیں، وہ اصولوں پر ہی کام کرتا ہے۔ اور اصول یہ ہے کہ جو غلط ہے، اسے درست کرنے کی ذمہ داری ہماری نہیں، لیکن جان بچانا ہم پر فرض ہے۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن زندگی کی جنگ لڑنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس جنگ کو اپنے اصولوں کے تحت لڑنے کی ضرورت ہے۔

ذہنی دباؤ کے بوجھ تلے دَب کر صلاحیتوں کو ضائع کر کے زندگی کو گزارنا بجائے خود ایک قسم کا کینسر ہے۔ ہمیں اس کینسر کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اگر کسی کو اس کا مقابلہ کرتے دیکھیں تو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

شہر بانو معیز علی: شہر بانو دستاویزی فلمیں بنانے کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔