The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

رائے : سی او پی27 میں جو چاہے ہو لیکن موسمیاتی مالیات کا تفصیلی تجزیہ کرنا نہایت ضروری ہے

اس سال یوکرین میں جنگ چھڑی ہوئی ہے جبکہ پچھلے سال کورونا کے وبائی مرض نے موسمیاتی تبدیلیوں کے ہولناک نتائج پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ ان دونوں واقعات نے موسمیاتی تبدیلی پر عالمی سطح پر بات چیت اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دہائیوں پرانے مذاکرات کی غیر سنجیدگی کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔

وبائی مرض نے انکشاف کیا کہ عالمی مالیاتی نظام کتنی آسانی سے رک سکتا ہے، اور پیرس آب و ہوا کا معاہدہ اس امکان سے کتنا غافل ہے۔ اس سال نے دکھایا کہ جنگ کس طرح عالمی ماحولیاتی معاہدوں کی طرف سے توّجہ ہٹا دیتی ہے۔

یورپ اپنی توانائی کی فراہمی کی وجہ سے پریشان ہے کیونکہ روس سے گیس کا بہاؤ کم ہو گیا ہے۔ یورپی حکومتوں نے جن میں جرمنی، اٹلی، آسٹریا، ہالینڈ شامل ہیں اپنے کوئلے کے پاور پلانٹس کو دوبارہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وہی قدرتی ایندھن ہے جس کے استعمال کو روکنے کے لئے انہوں نے صرف ایک سال پہلے گلاسگو میں COP26 (کانفرنس آف پا رٹیز 26) میں پورے اعتماد کے ساتھ تمام معیشتوں کو جبراً آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

کوئلہ توانائی پیدا کرنے کا سب سے آلودہ ترین طریقہ ہے اور اس کے جلنے سے ہوا میں سب سے زیادہ مقدار میں کاربن پیدا ہوتا ہے لیکن یورپین پالیسی ساز دنیا کو یقین دلارہے ہیں کہ کوئلہ جلانا ایک ضروری متبادل ہے کیونکہ اس سے موسم سرما میں توانائی کی فراہمی کی کمی سے بچنے میں مدد ملے گی۔ جرمنی کے وزیر اقتصادیات نے یہاں تک کہا کہ یہ ایک تلخ فیصلہ ہے لیکن ملک کو آنے والی طویل سردیوں کی تیاری کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔

ترقی یافتہ ممالک کو وہی دلیل استعمال کرتے ہوئے دیکھنا دلچسپ ہے جو ترقی پذیر ممالک برسوں سے دے رہے ہیں۔ ‘ہمیں اپنے آپ کو کاربن کے اخراج سے متاثر معیشت کے بجائے صاف ستھری معیشتوں میں منتقل کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پہلے اپنے لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے’۔

انسان حالات کی ستم ظریفی پر حیرانی کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

اس پس منظر میں، ممالک اس نومبر میں شرم الشیخ میں اپنے سالانہ موسمیاتی اجلاس کے لیے ایک بار پھر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی موسمیاتی مالیات سی او پی 27 میں باضابطہ مذاکرات کے حوالے سے ہر طرح سے مرکزی اہمیت کا حامل ہوگا۔

آئیے موسمیات مالیات کے ایجنڈے کو دیکھتے ہیں۔

نئے مالیاتی معاہدوں کی بنیاد ممالک کی ضروریات پر رکھیں
ترقی یافتہ ممالک نے 2020 تک ہر سال ترقی پذیر ممالک کو 100 ارب امریکی ڈالر فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، تاہم 100 ارب امریکی ڈالر میں عوامی پیسہ، نجی پیسہ یا دونوں شمار کیے جاتے ہیں۔ موسمیاتی مالیات پر ایک نیا اجتماعی مقدار کے ہدف کو 2025 کے بعد طے کرنا ہے۔ لیکن اس ہدف کو اچانک حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ اس کے پیشرو کوپن ہیگن میں موسمیاتی سربراہی اجلاس کے دوران ہوا تھا۔ اسے پچھلے 13 سالوں میں سیکھے گئے اسباق پر مبنی ہونا چاہیے۔

سب سے تنقیدی سبق یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کی بنیاد پر کسی بھی مالی معاہدے کا تعین کیا جائے۔ اس طرح کے ایک واضح نقطہ آغاز کو مذاکرات کاروں نے 30 سال قبل محسوس کیا اور دستاویزی شکل دی اور یو این فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) پر اتفاق ہوا۔ تاہم اس فیصلے کو نافذ کرنے میں ہمیں کئی دہائیاں لگیں۔ایک ‘نیڈ ڈیٹرمینیشن رپورٹ’ (NDR) جس میں تخفیف اور موافقت کے لیے مالیات کی ضرورت شامل تھیں COP کو 2021 میں پیش کیے گئے۔ یہ رپورٹ ترقی پذیر ممالک کے ذریعہ سے جمع کرائے گئے ذرائع سے مرتب کی گئی ہے اور اس میں موافقت کے باہمی ابلاغ، قومی موافقتی منصوبہ، قومی ابلاغ، نیشنل ڈٹرمنڈ کنٹریبیوشن ( NDCs ) شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کی طرف سے شناخت کردہ کل بائیس ہزار ضروریات میں سے تقریباً چھ ہزار پانچ سو کی لاگت آئی ہے۔ یہ تقریباً تیس فیصد ہے۔ ضروریات کی لاگت کی کل قیمت پانچ سے گیارہ کھرب امریکی ڈالر ہے۔

تمام ممالک نے سیکٹر اور سب سیکٹر کے لحاظ سے تخفیف اور موافقت کے لیے ضروریات کی لاگت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کس سیکٹر میں رقم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ترقی پذیر ممالک نے تخفیف کی ضروریات سے زیادہ موافقت کی نشاندہی کی ہے، لیکن تخفیف کے منصوبوں کی لاگت بہتر ہے۔ اسکی ایک وجہ ڈیٹا کی غیر دستیابی، ٹولز اور موافقت کی ضروریات کا اندازہ لگانے کی صلاحیت کی کمی ہو سکتی ہے۔

اگر چہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی ضروریات کے لیے لاگت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، یہ NCQG کے لیے ایک حقیقت پسندانہ بنیاد کا واضح طور پر اشارہ بھی دیتا ہے۔ موجودہ 100 ارب امریکی ڈالر کا وعدہ اصل ضروریات کے 0.9 فیصد اور 2 فیصد کے درمیان کہیں بھی ہے۔ لہذا COP27 میں جب ہم آب و ہوا کی کارروائی پر عزائم بڑھانے کے بارے میں بات کرنا شروع کرتے ہیں، تو ہمیں اس بات چیت کو موسمیاتی مالیات اور ضرورت کے مطابق ہدف کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔

مالیاتی ضروریات کو سمجھنے میں بہتری آئی ہے
خود ممالک کی طرف سے شناخت کردہ مقداری ضروریات کے علاوہ نئے ہدف سے حاصل کی گئی سمجھ بوجھ سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے جو گزشتہ چند سالوں میں ان ممالک کی طرف سے سامنے آئی ہے جنہوں نے دستیاب موسمیاتی مالیات کو استعمال کیا ہے۔

سب سے پہلے نئی اور اضافی گرانٹ کی صورت میں مالی امداد کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (سی پی آئی) کی 2021 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ موسمیاتی مالیات کا 61 فیصد حصہ قرض کے طور پر اٹھایا گیا ہے، جس میں سے صرف 12 فیصد کم لاگت یا رعایتی قرض ہے۔ موسمیاتی کارروائی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، جو انھوں نے پیدا ہی نہیں کیا ہے، مزید قرض دیا جائے۔ قرض اور قومی آمدنی کے تناسب میں اضافہ کمزور معیشتوں کی کریڈٹ ریٹنگ کو مزید متاثر کرے گا۔

اس کے بعد، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی موافقت کے لیے مالی اعانت کی فوری ضرورت ہے۔ یہ اقتصادی ترقی کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2021 کے موافقت کے فرق کی رپورٹ کا تخمینہ ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں میں 2030 تک سالانہ موافقت کے اخراجات 155 اور 330 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہوں گے۔ اس کے باوجود موافقت مالیات کل عوامی مالیات کے صرف 14 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔

تیسرا، نجی شعبہ کوئی مستقل حل نہیں ہے، اور نہ ہی یہ موسمیاتی مالیات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے اصرار کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر کو کھولا نہیں جا سکا۔ اگر ہم اسی سی پی آئی رپورٹ کو دیکھیں، جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں تمام سرکاری اور نجی شعبوں میں تمام موسمیاتی مالیات کا حساب لگاتی ہے، تو یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نجی عناصر نے 20-2019 میں کل کا صرف 49 فیصد حصہ دیا۔ اس میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر گھریلو اخراجات بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد صاف ظاہر ہے کہ نجی مالیات کو پبلک سیکٹر کی مالی امداد کے لیے متحرک کرنے کے تمام وعدے اب تک سراب ثابت ہوئے ہیں۔ کیا ہمیں اب بھی موسمیاتی مالیات پر ایک نئے اجتماعی مقدار کے ہدف کے لیے اسی دلیل پر انحصار کرنا چاہیے؟

ہمارے پاس موسمیاتی مالیات کی تعریف اور شمار کے طریقہ کار پر بھی ایک معاہدہ ہونا چاہیے۔ تعریف کی عدم موجودگی میں، ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک میں منتقل ہونے والی رقم پر آج کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اگر رقم کی منتقلی کا راستہ واضح نہیں ہے تو موسمیاتی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوگی، اور ممالک کی ترقی کی رفتار ہمیں پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ میں مقرر کردہ دو ڈگری سیلسیس ہدف تک سے کتنی دور یا قریب لے جاتی ہے، یہ ایک صورت حال غیر واضح رہے گی۔

آخر میں، ترقی پذیر ممالک کو اپنے آپ کو رسمی سی او پی ا یجنڈے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ جب پاکستان اب تک کے آنے والے تاریخ کے بدترین سیلاب کی زد میں آیا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اس وقت ایسا بین الاقوامی طریقہ عمل موجود نہیں تھا جو ضرر اور نقصان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو، لہذا ملک کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ زندگیوں اور معاش کو بچانے کے لیے اپنے یا قرض پر لیے گئے وسائل کو استعمال کرے۔

موسمیاتی فنانس کو اقوام متحدہ کے مذاکرات پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے
ہمارے پاس موسمیاتی مالیات کی تعریف اور شمار کے طریقہ کار پر بھی ایک معاہدہ ہونا چاہیے۔ تعریف کی عدم موجودگی میں، ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک میں منتقل ہونے والی رقم پر آج کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اگر رقم کی منتقلی کا راستہ واضح نہیں ہے تو موسمیاتی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوگی، اور ممالک کی ترقی کی رفتار ہمیں پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ میں مقرر کردہ دو ڈگری سیلسیس ہدف تک سے کتنی دور یا قریب لے جاتی ہے ، یہ ایک صورت حال غیر واضح رہے گی۔

آج پاکستان ہے، کل ایک دوسرا ملک تھا، اور آنے والے کل میں بدقسمتی سے کوئی اور ملک ہوگا۔ اگرچہ سی او پی 27 ضرر اور نقصان کے لیے مالیاتی سہولت کے قیام پر بحث کرے گا جیسا کہ سی او پی سے پہلے کی گئی مشاورت سے جنم لینے والی پیش گوئی کچھ خاص نہیں تھی۔ اس لیے پاکستان کو جس قسم کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا آیندہ اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہوا جائے۔

سی او پی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس سے ترقی پذیر ممالک ، جن کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہیں قرضوں کی تنظیم نو کا مطالبہ کرنے سے نہیں روکنا چاہیئے ۔ ہم نے یورپی یونین اور امریکہ کو 2021 COP کے موقع پر 2030 تک میتھین کے اخراج کو 30 فیصد تک کم کرنے کا عالمی عہد کرتے ہوئے دیکھا۔ خود کو پابند کرنے کے لیے تقریباً 100 ممالک ملے۔ یہ کبھی بھی رسمی مذاکرات کا حصہ نہیں تھا، پھر بھی ایک مثبت نتیجہ نکلا کہ COVID-19 وبائی بیماری کی وجہ سے عالمی صحت کے بحران کے پیش نظر قرضوں کو دوبارہ فنانس کیا گیا۔ اسی طرح وہ ممالک جو موسمیاتی اثرات کے انتظام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح سلوک کیا جانا چاہئے۔

قرضوں کا بحران موسمیاتی کارروائی کے ہر عمل میں رکاوٹ ہے۔ ان دونوں کو جدا جدا دیکھنے کے بجائے مسئلے کو ایک ہی رخ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

(موسمیاتی مالیات کی ماہر کشمالہ کاکا خیل کی یہ تحریر دی تھرڈ پول سے لی گئی ہے جسے پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں)

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں