اورنگزیب عالمگیر، جو 1658 سے 1707 تک مغل سلطنت کے چھٹے بادشاہ تھے، اپنے متنازعہ پالیسیوں کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں، جنہوں نے ان کی انتظامی اور اقتصادی کامیابیوں پر پردہ ڈال دیا۔
ان کا دورِ حکومت ایک نہایت موثر اور جامع انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اہم اقتصادی اصلاحات کا دور تھا جس نے مغل سلطنت کو کئی چیلنجز کے باوجود مستحکم رکھا۔ تاہم، ان کی وراثت کو سیاسی طور پر متنازعہ بنایا گیا، پہلے برطانوی راج کے دوران اور بعد میں بھارت میں بی جے پی کے زیر حکمرانی۔
اس مضمون میں، ہم اورنگزیب کی انتظامی اور اقتصادی مہارتوں، ان کی حکومت کی شمولیت کو اور ان کے خلاف ہونے والی سیاسی تنقید کو جانچیں گے۔
اورنگزیب کی انتظامی مہارت
اورنگزیب کی انتظامی صلاحیتیں بے نظیر تھیں اور ان کی حکمرانی کو مغل بیوروکریسی کی کارکردگی کی بلند ترین سطح قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک وسیع سلطنت وراثت میں پائی اور اسے اپنے دور میں زیادہ سے زیادہ وسعت دی، کشمیر سے لے کر دکن تک۔ ان کی انتظامی اصلاحات میں شامل ہیں:
-
مرکزی حکمرانی: اورنگزیب نے مرکزی حکومت کو مضبوط کیا اور تمام فیصلے اپنے پاس رکھے۔ وہ اپنے ریاستی معاملات کو ذاتی طور پر دیکھتے اور تفصیل سے فرمان (شاہی احکام) جاری کرتے۔ ان کا عملی انداز حکومت کو مضبوطی سے قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوا۔
-
شمولیتی انتظامی ڈھانچہ: مذہبی عدم برداشت کی عمومی کہانی کے برخلاف، اورنگزیب کا انتظامی ڈھانچہ غیر معمولی طور پر شمولیتی تھا۔ انہوں نے ہندوؤں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، جیسے راجہ جے سنگھ اور جسونت سنگھ، جو جنرل اور گورنر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ ان کے وزیر خزانہ، رگھوناتھ راؤ بھی ہندو تھے۔ یہ شمولیت حکومتی استحکام اور مختلف علاقوں میں وفاداری کے لیے ایک عملی حکمت عملی تھی۔
-
عدالتی اصلاحات: اورنگزیب انصاف کے معاملے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور اکثر قانونی معاملات میں مداخلت کرتے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے “فتاوی عالمگیری” مرتب کیا، جو اسلامی قوانین کا ایک جامع ضابطہ تھا اور حکومتی طریقہ کار کو معیاری بنایا۔ ان کے عدالتیں تمام رعایا کے لیے دستیاب تھیں، خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔
-
فوجی اور لاجسٹک کارکردگی: اورنگزیب کی فوجی مہمات خاص طور پر دکن میں حکمت عملی اور لاجسٹک مہارت کی مثال تھیں۔ انہوں نے ایک منظم اور ڈسپلن کی حامل فوج رکھی جو سلطنت کی حفاظت اور وسعت میں اہم تھی۔
اقتصادی اصلاحات اور استحکام
اورنگزیب کی اقتصادی پالیسیوں نے مغل سلطنت کو طویل فوجی مہمات اور داخلی مشکلات کے باوجود مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اصلاحات میں شامل ہیں:
-
زمین کی محصولات کا نظام: اورنگزیب نے زمین کی محصولات کے نظام میں اہم اصلاحات کیں، جس سے ریاست کو آمدنی میں استحکام حاصل ہوا۔ انہوں نے محصولات کے افسران میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے اور کسانوں کو زیادہ ٹیکس سے بچانے کی کوشش کی۔
-
تجارت اور معیشت: اورنگزیب کے دور میں تجارت اور معیشت کا فروغ ہوا۔ انہوں نے ایک مستحکم کرنسی نظام قائم کیا، اور اعلیٰ معیار کے سکے ضرب کیے جو اقتصادی لین دین کو آسان بناتے تھے۔ ان کی پالیسیوں نے داخلی اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا، اور مغل سلطنت ایک بڑی اقتصادی طاقت بنی رہی۔
-
مالیاتی تدابیر: 1679 میں جزیہ (غیر مسلموں پر عائد ٹیکس) کی دوبارہ عائد کرنا اکثر مذہبی عدم برداشت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مالیاتی تدبیر تھی جو دکن کی مہنگی جنگوں کے دوران سلطنت کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے تھی۔ یہ ٹیکس یکساں طور پر نافذ نہیں کیا گیا اور کچھ گروہوں جیسے غریبوں اور مذہبی علما کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
اورنگزیب کی رواداری
اورنگزیب کی حکمرانی میں کٹرپن کا وہ عالم نہ تھا جتنا کہ اکثر ان کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ ان کی پالیسیاں مذہبی جنونیت کے بجائے عملی سوچ پر مبنی تھیں۔ مثال کے طور پر:
-
ہندو شرکت: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اورنگزیب نے ہندوؤں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، ان کی انتظامی اور فوجی مہارتوں کو تسلیم کیا۔ یہ شمولیت ایک متنوع سلطنت میں استحکام کے لیے ضروری تھی۔
-
مندر کی سرپرستی: اگرچہ اورنگزیب کو مندر توڑنے پر تنقید کا سامنا ہے، مگر انہوں نے کئی ہندو مندروں کی دیکھ بھال کے لیے گرانٹ بھی جاری کیں۔ مثال کے طور پر، انہوں نے چترکوت کے بالاجی مندر اور آسام کے اومانند مندر کے لیے زمین کی گرانٹس دیں۔ یہ اقدامات مذہبی پالیسی پر ایک زیادہ پیچیدہ نقطہ نظر کو ظاہر کرتے ہیں۔
-
ثقافتی سرپرستی: اورنگزیب نے فنون اور ثقافت کی سرپرستی کی، اور فارسی و سنسکرت میں کئی آثار کا آغاز کیا۔ ان کے دور میں ہندو مت کی تحریریں فارسی میں ترجمہ کی گئیں، جو ثقافتی تبادلے کے لیے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی کردار اور تنقید: برطانوی راج اور بی جے پی کے دور میں
اورنگزیب کی تنقید سیاسی ایجنڈوں کی بنا پر کی گئی، جو برطانوی راج اور آج کے بھارت میں بی جے پی کے زیر حکومت رہے۔
-
برطانوی راج کے دوران: برطانوی نوآبادیاتی مورخین نے اورنگزیب کو ایک جابرانہ اور مذہبی جنونی حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ اپنے اقتدار کو ایک “تمدنی مشن” کے طور پر جائز قرار دے سکیں۔ ان کی مذہبی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی۔
-
بی جے پی کے دور میں: آج کے بھارت میں اورنگزیب کو مسلم جارحیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، خاص طور پر ہندو قوم پرستی کے بیانیے میں۔ بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں اس کی حکمرانی کا حوالہ دے کر کمیونل جذبات کو بڑھاوا دیتی ہیں اور ہندووں کے مظلوم ہونے کا بیانیہ فروغ دیتی ہیں تاکہ ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرکے ووٹ لیا جاسکے۔
اورنگزیب کا دور حکومت انتظامی چمک، اقتصادی اصلاحات، اور متنازعہ مذہبی پالیسیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا۔ ان کی حکومت اور عملی حکومتی طریقہ کار کو ان کی سیاست سے متعلق تنقیدوں کے پیچھے چھپایا گیا ہے، جو برطانوی راج اور موجودہ بھارت میں سیاسی ایجنڈوں کے زیر اثر رہی ہیں۔ اورنگزیب کی وراثت کو پورے تناظر میں جانچنے سے ہمیں تاریخ کے ایک متنازعہ حکمران کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی انتظامی اور اقتصادی کامیابیاں ان کی حکمرانی کی صلاحیتوں کا ایک واضح ثبوت ہیں، چاہے ان کی مذہبی پالیسیوں پر بحث جاری رہے۔
مراجع:
-
رچرڈز، جان ایف۔ “مغل سلطنت”۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1993۔
-
چندرا، ستیش۔ “مدنی ہندوستان: سلطنت سے مغلوں تک” (حصہ دوم)۔ ہار اینڈ پبلشنگ، 2005۔
-
ٹرُشکے، آڈری۔ “اورنگزیب: انسان اور افسانہ”۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس، 2017۔
-
سرکار، جادوناتھ۔ “تاریخ اورنگزیب”۔ اورینٹ لانگ مین، 1912۔
-
عالم، مُظفر۔ “مغل شمالی ہندوستان میں سلطنت کا بحران”۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1986۔
-
ایٹن، رچرڈ ایم۔ “مندر کی توہین اور ہندوستانی مسلم ریاستیں”۔ جرنل آف اسلامک اسٹڈیز، 2000۔
-
شرما، سری رام۔ “مغل بادشاہوں کی مذہبی پالیسی”۔ ایشیا پبلشنگ ہاؤس، 1962۔