فیچر فلم یا کسی تاریخی کردار اور واقعات پر مبنی اکثر فلمیں دنیا کے کسی بھی خطّے میں بسنے والے فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ بالخصوص جب فلموں کا کوئی تاریخی کردار اور اس سے جڑے ہوئے واقعات کسی قوم کے مذہب اور اس کی ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہندوستان کی بات کی جائے تو یہاں شہاب الدین غوری سے لے کر شہنشاہ ظہیر الدین بابر کے علاوہ برصغیر کے طول و عرض میں سکھ اور ہندو راجاؤں اور حکم رانوں کی دلیری، بہادری اور سخاوت کے ساتھ ساتھ ان کے دور حکومت میں جنگوں، بغاوتوں اور فتوحات کو کہانی کی شکل میں پردے پر بہت پسند کیا گیا ہے لیکن فلم ایک ایسا میڈیم ہے جو دیکھنے والے کے مزاج، طبع اور اس کی نفسیات پر بھی براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ اگر کوئی فلم کسی خاص مقصد کی تکمیل کے لیے بنائی گئی ہو اور کسی پروپیگنڈے کو فروغ دیتی ہو تو اس پر سماج میں ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے ۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس ملک اور جس خطے میں فلم جیسے مقبول میڈیم کے ذریعے جس رجحان کی عکاسی کی جائے گی، وہاں ویسا ہی کلچر دیکھنے کو ملےگا۔ بلاشبہ فلم اس دور میں ایک مؤثر اور ہمہ گیر میڈیم کے طور پر ابھرا ہے جس کا مثبت استعمال کیا جانا بھی ضروری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کا بھارت مودی کے پچھلے دور حکومت کے بعد آج تک عدم برداشت، دنگا فساد اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کے لیے عالمی میڈیا میں بھی زیر بحث آرہاہے۔ لیکن بھارتی حکومت اس حوالے سے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کررہی بلکہ انتہا پسندی کو ہوا دی جارہی ہے. بھارت میں جنونی سیاست اور مذہبی بنیاد پر غنڈوں کی پشت پناہی کے ساتھ فلمی دنیا میں بزنس کی خاطر تشدد، مار دھاڑ، قتل و غارت گری اور عدم برداشت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ فلم کے پردے سے پنپتے ہوئے ان رجحانات سے بھارت میں نوجوان طبقہ اور ہندو انتہا پسند متاثر ہوکر مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں پر عرصۂ حیات تنگ کررہے ہیں۔
چھاوا وہ فلم تھی جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ آج کا فلم ساز صرف اپنا منافع دیکھتا ہے۔ چاہے اسے جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا کیوں نہ پڑے۔ یہاں یہ بات پھر دہرانا چاہیں گے کہ فلموں کا اثر انسانی زندگی پر زیادہ گہرا ہوتا ہے، اور تاریخ پر مبنی فلموں سے ہمیں تاریخ کے ان اوراق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو ہم سے پوشیدہ ہیں۔ لہٰذا کوئی فلم بعض صورتوں میں تو ذہن کو تبدیل کرنے اور معاشرے کے سدھار یا بگاڑ میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
چھاوا، ہندوستانی فلم بینوں میں بہت مقبول ہورہی ہے اور ریلیز کے بعد ہی ایک ہفتے میں 200 کروڑ سے زائد کا بزنس کرلیا تھا جو ایک بڑی کام یابی تھی۔ یہ فلم چھترپتی سمبھاجی مہاراج (Chhatrapati Sambhaji Maharaj) کو ایک دلیر جنگجو اور سرفروش کے طور پر پیش کرتی ہے جب کہ اس میں مغل شہنشاہ اورنگزیب کو ظالم اور ہندوؤں سے نفرت کرنے والے حکم راں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بھارت میں اس فلم کی ریلیز کے بعد پرتشدد واقعات اور مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب ہراساں کرنے کے علاوہ اب مغل بادشاہ کے مقبرے کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس فلم کے بارے میں ناقدین پہلے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ اس سے سماج میں نفرت اور تعصب کو فروغ ملے گا لیکن بھارت کے سنجیدہ و باشعور طبقہ کی آواز کو کسی نے نہیں سنا اور اب صورت حال خراب تر ہوتی نظر آرہی ہے۔ البتہ فلم سازوں کا دعویٰ رہا کہ اس فلم کا مقصد کسی کو بدنام کرنا اور حقائق کو مسخ کرنا نہیں ہے۔
فلمی ناقدین کہتے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ کے کئی جنگجو کردار ایسے ہیں جن کی دلیری و جرأت اور سرفروشی کی داستان کو بڑے پردے پر پیش کرنے کے لیے بھارتی فلم ساز تحقیق سے زیادہ مسالے کی ضرورت محسوس کررہا ہے اور ملک میں مذہبی انتہا پسندی کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس فلم میں بھی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اب سوشل فلموں کا زمانہ نہیں رہا اور آرٹ سنیما سے سرمایہ تو شاید نکالا جا سکے، مگر کمائی ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں کمرشل اور مسالا فلمیں ہی ہیں جو بزنس نہیں بلکہ خوب بزنس کرتی ہیں، مگر فلم جیسے مؤثر میڈیم کو کسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔
‘چھاوا ‘ تاریخی موضوع پر ایک ایکشن فلم ہے جس کے ہدایت کار لکشمن اتیکر ہیں۔ فلم ‘میڈ ڈوک فلمز’ کے بینر تلے ریلیز کی گئی ہے۔ فلم کی کہانی مراٹھا چھترپتی سمبھاجی کے دور کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں بولی وڈ کےاداکار وکی کوشل اور ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کی سپر اسٹار اداکارہ رشمیکا مندانا نے کام کیا ہے۔ فلم کا ایک اور تاریخی اور مرکزی کردار مغل شہنشاہ اورنگزیب ہیں اور یہ کردار اکشے کھنہ نے نبھایا ہے۔ فلم اور سنیما میں دل چسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ ماضی میں بولی وڈ میں ہند و مسلم اتحاد اور یکجہتی کا درس و پیغام دیتی فلمیں بنائی جاتی رہی ہیں۔ لیکن اب اس کے برخلاف فلمیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ چھاوا کی کہانی ہندو حکم راں سمبھاجی کے شیوا جی مہاراج کی موت کے بعد مراٹھا بادشاہت کو سنبھالنے کے بعد اورنگزیب سے جنگ اور پھر موت تک کے واقعات کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ ایک قابل جانشین بننے کے لیے سمبھاجی کی کوشش اور مراٹھا عروج کی خواہش اس کا موضوع ہے۔ سمبھاجی کا دور مغلوں، شیدیوں، میسور اور پرتگیزیوں سے لڑائی میں گزرا۔
ہندو حکم راں سمبھاجی کے بارے میں مراٹھا مؤرخین اور مصنفین نے لکھا ہے کہ وہ کئی درباریوں کے وحشیانہ قتل اور پھانسیوں کے ذمہ دار تھے، انھوں نے اقتدار میں آکر مراٹھا شاہی دربار کے اہم ارکان کو بھی پھانسی دی تھی جس کے بعد انھیں انتظامی کمزوری اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اسی کے بعد سمبھاجی کے خلاف اندرونی صفوں میں ایک بڑی سازش شروع ہوئی۔ مصنفین کے مطابق آخر میں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں سمبھاجی نے دھوکہ کھایا۔ یہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے کہ شیوا جی انھیں اقتدار نہیں دینا چاہتے تھے اور اس کی وجہ بعض غیر ذمہ داریاں اور سمبھاجی کی جنسی بے راہ روی بھی تھی۔
چھاوا میں سمبھاجی اپنے سب سے قابلِ اعتماد کمانڈر اور سرپرست شخصیت ہمبیر راؤ موہتے کی موت کے بعد مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اورنگ زیب کی قید میں اپنی جان کے بدلے سلطنت اور مذہب سے دست برداری کے لیے زور اور تشدد سہتے ہوئے موت کا سامنا کرنے کی وجہ سے انھیں ہندو سماج میں ہمدردی ملی۔ سمبھاجی کی موت نے اس وقت مرہٹوں کو مزید جوش و خروش کے ساتھ اپنی مزاحمت جاری رکھنے کی ترغیب دی، دوسری طرف اورنگ زیب کا مرہٹوں کے خلاف انتقام اور مسلسل جنگ اس کی پوری مغل سلطنت کو کم زور کرنے کا باعث بنا۔ 1689 میں سمبھاجی کی موت کے بعد اورنگ زیب نے دکن کے علاقے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزارا، اور وہاں بھی مراٹھا جنگجوؤں سے الجھے رہے یہاں تک کہ وہ خود بھی لحد میں اتر گئے۔
پاپولر یا مقبول سنیما کے ذریعے پیسہ ہی کمایا جاتا ہے، لیکن بھارتی فلم سازوں میں چند برسوں کے دوران دانستہ کچھ فارمولے استعمال کرنے اور مسالا لگانے کا رجحان بڑھا ہے جس پر تنقید کی جارہی ہے۔ اس فلم کو ہی دیکھ لیجیے جس میں اورنگزیب کے کردار کو منفی اور بری طرح مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ اورنگزیب کے مزار کو ڈھانے کے مطالبے کے ساتھ وہاں مسلمانوں کو مارنے پیٹنے اور قتل کرنے کے واقعات کی صورت میں نکل رہا ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر کےشہر ناگ پور میں کشیدگی کے بعد کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ مغل حکمران اورنگزیب عالمگیر کا مقبرہ گرانے کا وہ مطالبہ ہے جس کے ساتھ انتہا پسند ہندوؤں نے شہر وںشہروں ہنگامہ آرائی کی اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔
ماضی کا یہ کردار جسے تاریخ میں سمبھاجی مہاراج کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، شیوا جی مہاراج کا بیٹا تھا۔ مغل شہنشاہ اورنگزیب کو شیوا جی نے مشکل سے دوچار کر رکھا تھا۔ شیوا جی نے اپنی آزاد ریاست کی بنیاد اس وقت رکھی تھی جب ہندوستان کے مغربی حصے میں تین اسلامی سلطنتیں تھیں۔ احمد نگر کی نظام شاہی، بیجاپور کی عادل شاہی اور گولکنڈہ کی قطب شاہی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تینوں آپس میں لڑتے تھے اور شمال سے مغلیہ حکم راں ان سلاطین کو اپنا تابع فرمان ہونے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے تاکہ جنوبی ہند پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ شیوا جی نے ان حالات میں بیجا پور کے چار پہاڑی قلعوں پر قبضہ کر کے بغاوت کا علم بلند کیا۔ ادھر اورنگزیب ایک طاقت ور فوج کے ساتھ بہت شہرت رکھتے تھے۔
مشہور مؤرخ رابرٹ اورمن کے مطابق اورنگزیب نے شیوا جی کو کچلنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی۔ لیکن بھارت میں اورنگزیب کی اس قسم کی فلموں کے ذریعے جو شبیہ پیش کی جارہی ہے، وہ غلط ہے۔ اسے سخت گیر مسلمان اور ہندوؤں کا دشمن بتایا جاتا ہے جس نے کئی منادر گرانے کا حکم دیا اور ہندو عقائد کے مطابق کئی تہواروں یا رسومات پر پابندیاں لگائیں۔ ایک امریکی تاریخ داں آڈرے ٹرسچکی نے اورنگزیب سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگزیب نے مندروں کو اس لیے مسمار کروایا کیونکہ وہ ہندوؤں سے نفرت کرتا تھا۔ مصنف لکھتی ہیں کہ اورنگزیب کی اس شبیہ کے لیے انگریزوں کے زمانے کے مؤرخ ذمہ دار ہیں جو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کے تحت ہندو مسلم مخاصمت کو فروغ دیتے تھے۔ اورنگزیب وہ بادشاہ تھے جس نے 49 سال تک 15 کروڑ افراد پر حکومت کی۔ ان کے دور میں مغل سلطنت تقریباً پورے برصغیر پر پھیل چکی تھی۔ ٹرسچکی یہ بھی لکھتی ہیں کہ ’اورنگزیب کے حکم سے براہ راست چند منادر ہی توڑے گئے۔ ان کے دور حکومت میں ایسا کچھ نہیں ہوا جسے ہندوؤں کا قتل عام کہا جا سکے۔ دراصل، اورنگزیب نے اپنی حکومت میں بہت سے اہم عہدوں پر ہندوؤں کو تعینات کیا۔‘ ادھر ہندو تاریخ داں اور بعض کٹر مذہبی شخصیات نے جہاں شیوا جی کو ایک جرات مند اور باغی حکم راں بتایا ہے، وہیں ان کے بعد تخت سنبھالنے والے سمبھاجی مہاراج کی بھی خوب تعریف کی ہے۔
بہمنی سلطنت زوال کے بعد پانچوں حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ان میں سے مغلوں نے پہلے نظام شاہی کو ختم کیا، پھر عادل شاہی کو ختم کیا، پھر قطب شاہی کو ختم کر دیا۔ صرف مراٹھا ہی ان کے ماتحت نہیں تھے۔ اب اورنگزیب بھی شیوا جی کو اپنا منصب دار بنانا چاہتے تھے۔ تاریخ کے ایک اور پروفیسر کدم کہتے ہیں کہ وہ نظام شاہی اور عادل شاہی کے منصب دار تھے۔ اس نے نظام شاہی کو مغلوں سے بچانے کی بھی بہت کوشش کی۔ اسی وقت سے مغلوں اور شیوا جی کے خاندان میں دشمنی شروع ہوئی۔
مورخین لکھتے ہیں کہ اورنگزیب نے مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہوئے راجہ جے سنگھ کو فوج کے ساتھ دکن بھیجا۔ راجہ جے سنگھ کو کام یابی ملی اور شیوا جی مغلوں کے ساتھ معاہدے پر راضی ہو گئے۔ اس معاہدے کو پورندر معاہدہ کہا جاتا ہے۔ پورندر پونے کے قریب ایک قلعے کا نام تھا جسے مغلوں نے فتح کر لیا تھا۔ اسی مناسبت سے اس معاہدے کو پورندر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نو سال کی عمر میں سمبھا جی کو بطور سیاسی یرغمالی امبر کے راجہ کے ساتھ رہنا پڑا جس کا مقصد ہم اوپر بتا چکے ہیں۔ ان کے والد شیوا جی نے 11 جون 1665 کو مغلوں کے ساتھ پورندر معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ مؤرخین کے مطابق وہ اپنے والد شیوا جی کے ساتھ 12 مئی 1666 کو آگرہ میں مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دربار میں پیش ہوئے تھے اور نظر بندی کے دو ماہ بعد فرار ہونے میں کام یاب ہوگئے تھے۔
اس دور میں اورنگ زیب نے ہر طرف سے مراٹھا سلطنت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ سنبھاجی کے لڑاکا مغل فوج کو اپنی گوریلا حکمت عملی سے الجھائے رہے۔ اورنگ زیب کے جرنیل تین سال تک مراٹھا علاقوں پر قبضہ کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکے تھے۔
چند سال کے دوران بھارت میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ مہاراشٹر میں حکومت نے ایک خاص ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے اسکول کی نصابی کتب سے انڈیا کے بڑے حصے پر حکم رانی کرنے والے مغلوں کی تاریخ پر مبنی مضامین اور معلومات کو نکال دیا۔ وہاں ہندو حکم راں شیوا جی اور ان کی سلطنت کے بارے میں تعلیم اور آگاہی دینے پر توجہ دی جارہی ہے۔ بھارتی دانش وروں اور حکومت کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں بے شمار یادگاریں مغل دورِ میں بنائی گئی تھیں۔ تین صدیوں سے زائد عرصہ کی تاریخ کو مذہبی بنیاد پر یوں اکھاڑ کر پھینک دینے کی کوشش سب کچھ بگاڑ دے گی۔ مغل حکم رانوں کے دور کا تجزیہ ان کی صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔