یکم مئی کا حسابِ عظمت تو آنے والے ہی کرسکیں گے

تاریخ کے صدیق لمحوں نے آج کے دن شکاگو کی فضاؤں میں سرخ پرچم کو ابھرتے دیکھا تھا اورآج 140 سال بعد بھی یہ پرچم اس کرہ عرض پر لہرارہا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یکم مئی ہے کیا اورکیوں منایا جاتاہے یقیناً آپ میں سے بہت سے قارئین مزدوروں کے نا،م سے منسوب اس دن کی تاریخ سے واقف نہیں ہوں گے کہ یہ دن آخر منایا کیوں اور کس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن مزدوروں سے منسوب ہے اوران کے حقوق کی ضمانت کی بات کرتا ہے۔ مزدوروں کو حقوق یونہی تھالی میں سجا کر نہیں دئیے گئے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے دست استحصال سے پنجہ آزمائی کرکے چجھینے گئے ہیں۔

یکم مئی یاد دلاتا ہے سن 1886 میں شکاگو میں ہونے والے اس احتجاج کی جب مزدوروں نے اپنے اوقاتِ کار میں کمی کے لئے ہڑتال کی اور سڑکوں پر آئے تھے۔

یکم مئی 1886 میں چند مزدور رہنماؤں کی اپیل پرشکاگو کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے 4 لاکھ مزدوروں کی جانب سے ہڑتال کی گئی، ہڑتال اس قدر کامیاب تھی کہ ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ کسی ایک بھی فیکٹری کی چمنی سے دھواں اٹھتا دکھائی نہیں دیا مزدوروں نے نا صرف یہ کہ ہڑتال کی بلکہ شکاگو کے’ہے مارکیٹ اسکوائر‘پراحتجاج کے لئے جمع ہونے لگے، ایک محتاط اندازے کے مطابق 25،000 مزدور احتجاج کے لئے جمع ہوئے تھے۔

مزدوروں کا مطالبہ تھا کہ ان کے کام کرنے کے اوقات 14 گھنٹے سے گھٹا کر 08 گھنٹے کئے جائیں اور اس مطالبے میں مقامی، غیر مقامی، ہنرمنداور مزدور سب ہی شامل تھے مئی کی چار تاریخ تک یہ احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہا لیکن 4 مئی کی رات کواچانک کہیں سے 180 پولیس افسران کا دستہ نمودارہوا جس نے مظاہرین سے منتشرہونے کو کہا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پر امن احتجاج کررہے ہیں کہ اچانک کہیں سے ایک بم پولیس اہلکاروں پرآگرا جس کے بعد پولیس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس میں 4 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ جاں بحق اورزخمی ہونے والے افراد کی درست تعداد آج تک طے نہیں کی جاسکی۔

اس واقعے کے فوراً بعد چھاپے اور گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں کئی مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیااور سزائیں بھی دیں گئیں۔

اس سانحے سے مزدوروں کے آٹھ گھنٹے کام کرنے کے مطالبے کو شدید نقصان پہنچا اور تحریک عارضی طور پردباؤ کا شکارہوگئی۔

اس واقعے کے چارسال بعد 4 مئی کو ہونے والے سانحے میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کوخراج تحسین پیش کرنے کے لئے عالمگیرمظاہروں کا اعلان کیا گیا جو انتہائی کامیاب رہا۔

اس واقعے کے تقریباً 51 سال بعد 1937 میں امریکہ کے زیادہ ترمزدور آٹھ گھنٹے کام کرنے کا حق حاصل کرچکے تھے۔


یہ تو تھا حال ریاست ہائے امریکہ کا جہاں مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے سرمایہ دار نظام سے ٹکرلی اور اپنے حقوق حاصل کرلئے۔ اب آتے ہیں مملکت خداد پاکستان میں جہاں کہنے کو تو مزدور کو تمام تر حقوق حاصل ہیں لیکن جب بات حقیقت کی کی جائے تو پھر ہمارے پاس اپنے آُ سے آنکھیں چرانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

وہ 1886 کا مغرب تھا کہ جب پولیس نے مزدوروں پر حملہ کیا تو دنیا کی تاریخ نے ردعمل میں بڑے بڑے سرخ انقلاب دیکھے اور یہ 2015 کا پاکستان ہے کہ پولیس اپنے حقوق مانگنے والے نابینا افراد پر پل پڑتی ہے لیکن مجال ہے کوئی ان کا بال بھی بیکا کردے پولیس سرعام مزدوروں محنت کشوں سے بھتے لیتی ہے سیکیورٹی کے نام پر چنگچی میں سفر کرنے والے مزدور کی جامع تلاشی لے کر اس کی تذلیل کرتی ہے لیکن کوئی پرسانِ حال نہں یہاں کوئی سرخ انقلاب برپا نہیں ہوتا۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری مٹی میں وہ نمو ہی نہیں کہ جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے جہاں ظالم کو ظالم کہہ کر للکارا جائے۔ جہاں مظلوم اپنے حق کے لئے ظالم کے مقابلے پر اٹھ کھڑا ہو ، ہم پر تو صدیوں کی غفلت طاری ہے پہلے موریا اور گپتا شہنشاؤں کے عیش کا باراٹھاتے رہے پھر خاندانِ غلاماں اور مغلوں کے ناز و نخرے برداشت کئے اور اس کے بعد انگریزوں کے بوٹ پالش کرکے ہم ذہنی طور پر غلامی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں کہ دنیا کہا ں نکل گئی اور ہمارے ملک کے سرمایہ دارانہ جاگیردارانہ نظام نے ہمیں کہاں رکھا ہوا ہے۔

گزشتہ صدی کے حکیم ترین انسان جون ایلیا ء ہمارے معاشری کی اس نارسائی کا رونا رو رو کر اس دنیا سے گزرگئے وہ زندگی بھر یہی تو چلا تے رہے کہ

 تاریخ نے قوموں کودیا ہے یہی پیغام
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے۔

آخر میں جون ایلیاء کے پہلے مجموعہ کلام شاید میں موجود آفاقی نظم ’’اعلان رنگ‘‘ کا کچھ حصہ آپ قارئیں کی نظر کررہا ہوں کہ ان سے بہتر شاید ہی کوئی بتا سکے کہ یکم مئی کیا ہے۔

کراچی میں دہشتگردی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں شدت پسند تنظیموں کی دہشتگردی، جرائم پیشہ گینگز کی لڑائیاں اورسیاسی جماعتوں میں شامل عسکری ونگز کی کاروائیاں شامل ہیں۔ جرائم کی بیخ کنی کیلئے دسمبر 2013سے جاری آپریشن میں پولیس اوررینجرزکی کاروائیوں کا اگرجائزہ لیا جائے تو پولیس نے روٹین پولیسنگ سے زیادہ بڑھ کر کچھ نہیں کیا کراچی کو درپیش مسائل دہشتگردی،اغواء برائے تاوان اوربھتہ خوری کے خاتمے کے حوالے سے پولیس کے دعووں کی اگرگہرائی میں جائیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے رینجرزاوردیگر حساس اداروں کی کاروائیوں میں گرفتاراہم ملزمان کی میڈیا میں گرفتاری ظاہرکرنے سے زیادہ پولیس کچھ نہیں کررہی۔

پولیس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ اورامن کے قیام کے علاوہ واقعات کی تفتیش ہونا چاہئے تھا لیکن کراچی میں اسٹریٹ کرائمز اورڈکیتیوں کی روک تھام میں پولیس ناکام رہی ہے، اغواء برائے تاوان اور زمینوں پر قبضے روکنا توکجا پولیس خود ایسے جرائم میں ملوث پائی گئی (رینجرز نے ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے شارع فیصل سے اغواء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکاروں کا گینگ بھی پکڑا) تفتیش کے شعبے میں بھی پولیس کا معاملہ صفر ہے اہم کیسزمیں مقدمہ درج کرنے اورشواہد اکھٹے کرنے سے زیادہ پولیس کوئی پیشرفت نہیں کرپاتی مثلاحالیہ ہائی پروفائل کیسز کی بات کی جائے تو ایس ایچ او اعجازخواجہ، سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اورامریکی ڈاکٹرڈیبرالوبو پرحملے کی تحقیقات میں پولیس کوئی پیشرفت نہیں کرسکی۔

پولیس ہیڈ آفس کی ایک تقریب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادرتھیبو نے میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران شکوہ کیا کہ میڈیا میں ہونے والی غیرمحتاط رپورٹنگ سے عالمی سطح پر کراچی کا نام بدنام ہورہا ہے مگراس معاملہ پربحیثیت صحافی میری رائے یہ ہے کہ پولیس کا جرائم میں ملوث ہونے یا جرائم کی سرپرستی کی وجہ سے کراچی عالمی سطح پر زیادہ بدنام ہورہا ہے میڈیا سے زیادہ پولیس کو اصلاح کی ضرورت ہے۔

اسی تقریب میں جب آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اوردیگرجرائم کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا جس پرایک صحافی نے سوال کیا کہ اگرشہر میں امن قائم ہوگیا ہے تو کیا رینجرزکو کراچی سے واپس بھیج دیا جائے؟ اس سوال کا جواب آئی جی صاحب گول کرگئے۔

کراچی میں جاری آپریشن کی بعض پہلوں پربحث بھی ہوسکتی ہے لیکن اب تک جاری رہنے والے آپریشن میں سے اگر رینجرزکی کاروائیوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پولیس کے کھاتے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

سید فواؔدرضا: سید فواؔد رضا جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ سے فارغ التحصیل ہیں اوراے آروائی نیوز میں بحیثیت ایڈیٹر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شاعرہیں اور معاشرے کے حساس موضوعات پرتلخ لہجے میں گفتگو کرنے کے عادی بھی ہیں۔ ان کا منفرد اوربے باک اندازِ تحریرانہیں ان کے ہم عصرقلم کاروں میں ممتازکرتا ہے۔