The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

سیاسی قیادت اور عام آدمی کے مسائل

پارکنگ کا ٹکٹ، انٹری فیس اور پبلک پارک کے اندر کینٹین پربیس والی پیپسی چالیس روپے کی۔ اتنے ٹیکس لگانے کے باجود پارک میں نہ کوئی واٹرفلٹرنہ ڈسپنسر، اگرواٹرفلٹراورواٹرڈسپنسرلگے تو پارک کی کینٹین سے سرمایہ دارکی منرل واٹربوتلیں کون خریدے گا؟۔ پاکستان کے جمہوریت پسند غلط کہتے ہیں کہ ملک میں موجود تمام برائیوں کی جڑ ’’مُلا الائنس‘‘ ہے۔ نہیں صاحب یہ مُلا، سیاستدان اورسرمایہ دارالائنس ہے۔ یہ ایک مثلث ہے جس میں کبھی فضل الرحمن، احمد لدھیانوی، زرداری اور نواز کے ساتھ ہوتے ہیں، تو کبھی فوج کے ساتھ۔ اسی طرح سے کہیں طالبان، جماعت اسلامی اور عمران خان اتحادی ہوتے ہیں، تو کہیں عمران خان فوج، طاہرالقادری اور وحدت المسلمین ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کبھی عمران خان کوایمپائر کی انگلی کا انتظار رہتا ہے تو کبھی ن لیگ رات کے اندھیرے میں ایمپائر سے خفیہ ملاقاتیں کرنے جاتی ہے اورکہیں اسے مفاہمت کی سیاست کہا جاتا ہے۔

عمران خان نے تبدیلی کے نام پر پاکستانی نوجوانوں کے خون کو خوب گرمایا، لیکن جہاں جہانگیرترین اور خورشید قصوری جیسے سرمایہ دارمرکزی رہنما ہوں وہاں کون سی تبدیلی ممکن ہے؟ تحریک انصاف کے دن بہ دن گھٹتے ووٹ اس بات کی نشاندہی ہیں کہ عمران خان نے گزشتہ چند ماہ میں بہت سی سیاسی غلطیاں کی ہیں۔ عمران خان کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ لوگوں نے ان کا ساتھ کیوں دیا تھا؟ لوگوں نے روایتی اور وراثتی سیاست سے تنگ آ کرہی ان کا ساتھ دیا تھا۔ لہذا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ان کی شادی نے ان کی اہلیہ کی صحافت کو خراب کیا اوراب وہ ان کی سیاست خراب کررہی ہیں۔ بلاشبہ تحریک انصاف کے وہ کارکنان جو دوسری جماعتوں کے جیالوں متوالوں اورعام عادمی کو وراثتی اورخاندانی اثر و رسوخ کی سیاست کا طعنہ دے کر اپنی جماعت کی طرف مائل کرتے تھے اب ان کے پاس جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔ جو کہتا تھا کہ وراثتی سیاست کے خاتمے پر عام آدمی کا بچہ بھی مرکزی لیڈر بن سکے گاوہ اپنی شریک حیات کو ذمہ داریاں دیتے ہوئے سارے قول و قرار بھول گیا۔ عام آدمی کی بات کرنے والے خاص لوگ پہلے تو یہ بتائیں کہ کیا وہ خود عام آدمی ہیں؟ میں نے تو ایسا کوئی عام آدمی نہیں سنا جو آکسفورڈ سے پڑھ کرآیا ہو۔

‘‘وہ مرے درد سے آشنا ہی نہیں اورکہتا ہے کہ میں تیرا غم خوارہوں’’

دوسری طرف پیپلزپارٹی ہے جو آج تک وصیت کے وینٹی لیٹرپرزندہ ہے۔ کہتے ہیں ’’تم کتنے بھٹو مارو گے ہرگھر سے بھٹو نکلے گا‘‘۔ اوہ بھائی تم نے ہرگھر سے بھٹو نکلنے کب دیا؟ اگر تم ہر گھر سے بھٹو نکلنے دیتے تو بھٹو کا سارا خاندان شہید کیوں ہوتا؟ کاش تم عام آدمی کو بھی بھٹو بننے دیتے۔ سلمان تاثیر کی شہادت کے محض تین دن بعد گورنرہاوٗس کے سامنے جو بینرزآویزاں تھے ان میں لطیف کھوسہ، آصف زرداری، بلاول، بے نظیر اور شہید بھٹو کی تصویر تو تھی مگر شہید سلمان تاثیرکی نہ کوئی فوٹو تھی نہ ذکر۔ منظور وٹو جیسے شخص کو بغیر کسی پارٹی الیکشن کے پنجاب کا صدر بناتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم جمہوری پارٹی ہیں، ہم جمہوریت پسند ہیں، ہم جمہوریت کے وارث ہیں؟ نہیں بھائی تم جمہوریت کے نہیں، وراثتوں کے وارث ہو۔ وصیت والی جمہوریت کون سی نسل کی جمہوریت ہوتی ہے؟۔

کارکن اور اس کی اولاد کو انھوں نے بانجھ سمجھ رکھا ہے۔ آخرہم عام لوگ ان میں اوران کے بچوں میں کب تک مسیحا تلاش کرتے رہیں گے؟ کوئی کہتا ہے فاطمہ بھٹو یا ذوالفقارجونیر کو سیاست میں لاکر پیپلزپارٹی کو زندہ کیا جا سکتا ہے، کسی کو بلاول، بختاور اورآصفہ کا انتظار ہے۔ اورجو جیالوں نے گزشتہ چالیس برس قربانیاں دیں، کوڑے، جیلیں، شہادتیں دیں، اور بھٹو شہید سے محترمہ شہید کی رفاقت تک کا سفر طے کیا، کیا وہ چالیس برس کا سفر اورتربیت قیادت فراہم کرنے کے قابل نہیں تھی؟ اور جو کبھی عام آدمی چنا بھی تو کیا چنا، جہانگیر بدر، صدیق الفاروق اور وہ بے زبان درزی جس کی آواز کسی تک پہنچ ہی نہ سکے؟ ایسے لوگ جن کی اپنی کوئی آواز، کوئی انا، کوئی عزت نفس ہی نہ ہو؟ جو قیادت کے فیصلے کے کسی بھی فیصلے سے اختلاف کرنے کی ہمت ہی نہ رکھتے ہوں؟

کہیں مریم نواز، نواز کی جانشین تو کہیں ہمزہ شہباز ولی عہد۔ اوراب تبدیلی یہ ہے کہ ریحام خان بھی تحریک انصاف کو متبادل قیادت فراہم کرنے کو تیاربیٹھی ہیں، اورعام آدمی غلام ابن غلام بننے کو تیار۔ کیا تحریک انصاف کی ستر لاکھ کی ممبر شپ میں ایک ایسی عام لڑکی نہیں ملی جو شیریں مزاری جیسی ثابت شدہ اسٹیبلشمنٹ نمائندہ کی جگہ لے سکتی؟ جو کام آج ریحام خان کر رہی ہے کیا یہ کام تحریک انصاف کی کوئی مڈل کلاس کارکن نہیں کر سکتی تھی؟ مڈل کلاس کے بچوں کے سروں میں دماغ نہیں ہوتے یا وہ قیادت کے اہل نہیں ہوتے؟ کیا پاکستان کا حکمران بننے کے لیے آکسفورڈ اوربرطانیہ پلٹ ہونا ضروری ہے؟ کیا اس کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا کلرک، نائب تحصیل داریا پھرفوجی جرنیل ہونا ضروری ہے؟ یہ جو اٹھارہ میں سے سترہ کروڑ ننانوے لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں، یہ کیا ہیں، کس لیے ہیں؟ کیا یہ صرف نعرے مارنے اور امراء کا ظلم سہنے کے لیے دنیا میں آتے ہیں؟۔

ملا، اور سرمایہ دار سیاستدان اتحاد ہی دہشت گردی کی اصل اوربنیادی ترین وجہ ہے۔ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ سب کہنے لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان گزشتہ چودہ صدیوں میں بھائی بھائی تھے۔ یہ محض آج کی جدید دہشت گردی کا ذکر ہے۔ آج جو ملک کے طول و عرض میں ہر طرف مدرسے ہیں یہ محض جرنل ضیا کی وجہ سے نہیں ہیں۔ اس نے تو جو کرنا تھا کرگیا لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ مدرسوں کی اتنی بڑی تعداد کس کی ناکامی اور کس کی کامیابی ہے؟ اگر روشن خیال قیادت اور اس سے جڑے طبقات اہل ہوتے تو ملا کو یہ کامیابی کبھی نصیب نہ ہوتی۔ جب غریب کے بچے کو روٹی، کپڑا اور مکان کے جھوٹے خواب کی تعبیر نہ ملی تو اسے کہیں تو جانا تھا، جب اسے امرا کے بچوں کی طرح کھیل کے میدان نہ ملے تو اسے کسی کا کھیل تو کھیلنا تھا۔ دو وقت کی روٹی اور مفت تعلیم جب میسر نہ ہوئی تو اسے کہیں تو پیٹ کی آگ بجھانا تھی۔ پھر کیا فرق پڑتا تھا کہ وہ مکتب جائے یا کسی کے مکتب کو مقتل بنائے؟ ملا نے غریب کے بچے کو روٹی، کپڑا مکان دے کرزندگی خریدی اور موت بیچی۔

ریاست نے نہ کبھی کوئی ذمہ داری ادا کی نہ کوئی دانشمندی دکھائی۔ خود جنگ نہ لڑی طالبان تیارکر لیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خود آرمی پبلک کے 146 بچے انہی لوگوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے جنھیں کبھی دوسروں کے لیے بنایا تھا۔

غلط ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے ریڑھی والے سے لے کرقانون کے رکھوالوں تک ہرجگہ کرپشن ہے۔ ملک کا کونسا ایسا ادارہ اور کاروبار ہے جو کرپشن سے پاک ہے؟ جنھیں قوم کی تربیت کرنی تھی وہ خود کوئی مثال نہ بن سکے۔ بیگم کا چھوٹا سا بونڈ نکلا تو پتا چلا کہ سٹیٹ بینک اس پربھی بیس فیصد ٹیکس کاٹتا ہے، یعنی ریاست نے انعام کا لاچ دے کر افراطِ زرکنٹرول کرنے کے لیے لوگوں کو اپنا پیسہ ڈی ویلیو کروانے کی ترغیب دی اور پھر انعامی رقم پر بیس فیصد ٹیکس بھی عائد کردیا۔

میرے چھوٹے بیٹے نے ایک بہت معصوم اور اس ریاست کے منہ پر تھپڑ جیسا سوال کیا کہ ’’بابا اگران لوگوں نے پیسے ہی کاٹنے ہوتے ہیں تو انعام کی رقم ہی کم کردیں‘‘۔ لاکھوں کروڑوں میں سے کسی ایک شہری کا بونڈ نکل آئے تو سٹیٹ بینک کو رقم کی وصولی سے پہلے شناختی کارڈ کی کاپی اور ایک فارم فل کرکے دینا پڑتا ہے۔ سٹیٹ بینک کے باہر پرائز بانڈ ڈیلرز کی دکانوں پر جاؤ نہ شناختی کارڈ کی ضرورت نہ فارم فل کرنے کی زحمت، اور کٹوتی بھی سرکار سے کم۔ تو قوم کو بد عنوانی کے لیے کون مجبور کررہا ہے؟ کیا ریاست لوگوں کو بد عنوانی کی ترغیب نہیں دے رہی؟ نواز، زرداری، عمران میں کون ہے جو ان عام فہم عوامی مسائل سے واقف ہو؟۔

Print Friendly, PDF & Email