The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

سائبر کرائم بل – نوبت یہاں تک آئی ہی کیوں؟

باخبر رہنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور تمام صحافتی ادارے اور تنظٰمیں کم از کم اس ایک بات پر متفق ہیں کہ معلومات تک  عوام النا س کی رسائی ان کا بنیادی حق ہے اور شعبہ صحافت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بلاتفریق مذہب‘ ملت اور زبان معلومات کے اس بہاؤ کو قائم و دائم رکھے۔

آج کی دنیا سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا ہے اور اس دور میں معلومات تک رسائی جس قدر تیز ہے ماضی میں ایسا کبھی ممکن نہ تھا، بہت سی ایسی خبریں جو کہ میڈیا اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے پیش نظر مصدقہ ہونے تک نشر نہیں کرتا‘ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ چکی ہوتی ہیں اورکم از کم پاکستانی عوام کی اکثریت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تقریباً ہر خبر پر بلاکم وکاست یقین بھی کرلیتی ہے۔

سوشل میڈیا عوامی رابطے اور معلومات کی ترسیل کے اس قدر مستحکم محکمے کی صورت میں ابھر کرسامنے آیا ہے کہ اب اس کے کردار کی نفی کرنا ممکن نہیں سوائے یہ کہ اس آن لائن سماجی پلیٹ فارم پر پابندی عائد کردی جائے۔

سائبر کرائم بل پرصحافی برادری/سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا اظہارتشویش

گزشتہ کچھ دنوں سے پورے ملک میں سائبر کرائم بل اوراس کی ممکنہ تباہ کاریوں کا چرچا ہےلیکن اپنی بھرپور مخالفت کے باوجود یہ بل بالاخر قانون کا حصہ بننے جارہا ہے ۔ رواں سال جنوری میں لاہور کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حلقے کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں  ایک جانب سوشل میڈیا کی دنیا کے کئی نامو رنام اور نامی گرامی صحافی شریک ہوئے‘ وہیں  ہم سے نادان کو بھی شاید غلطی سےبرائے  خطاب مدعو کرلیا گیا تھا۔

کانفرنس کے شرکاء میں سب نے ہی حکومت کے اس اقدام کو بے پناہ تنقید کا نشانہ بنایا اور ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے اس بل کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاہم نقارخانے میں طوطی کی آواز بھلا سنتا ہی کون ہے،  بل آیا ، منظور ہوا اور اب قانون بننے کے مراحل میں ہے۔

آج کی تحریر کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ اول تو اس بل کو لانے کی ضرورت پیش کیوں آئی اور اس کے آنے کے بعد کے حالات کیسے ہوں گے۔

سائبر کرائم بل کے کئی حصے ہیں‘ پاکستان میں ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رحجان کے سبب سائبر کرائم کے حوالے سے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے اس امر سے تو کوئی بھی ذی ہوش انکا ر نہیں کرے گا۔ لیکن کیا واقعی سائبر کرائم بل اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے؟۔ جب بل کے مندرجات کا جائزہ لیا جاتا ہے تو اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ بل میں جس موضوع پر سب سے زیادہ بات کی گئی ہے وہ سوشل میڈیا ہے اور بل کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا پر اپنے آپ پر تنقید کرنا بھی ناقابلِ تلافی جرم بن جائے گا۔

سب سے پہلے تو یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پرایسا ہو کیا رہا ہے کہ حکومت کو اس قسم کی سخت قانون سازی کی ضرورت پیش آگئی۔   پاکستان میں سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ   پیپلزپارٹی کی حکومت میں ہوا جب حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کھلے بندوں تنقید کی جانے لگی اور پارٹی قیادت کو مضحکہ کا نشانہ بنایا گیا۔ تحریک انصاف کو  لاہور کے جلسے کے بعد جہاں ایک جانب عوامی مقبولیت ملی وہیں دوسری طرف اس جماعت کو اس طبقے کی حمایت بھی حاصل ہوئی جو کہ سوشل میڈیا پر بے پناہ متحرک تھا، سیاسی سطح پر یہیں سے ایک بھونچال شروع ہوا اور ایک عجیب فضا تشکیل پائی جس میں شخصی احترام نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ دوسری جانب ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے عفریت کو بھی اسی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا  ملی اور مختلف مسالک کے ماننے والوں نے ایک دوسرے کے وہ لتے لیے کہ خدا کی پناہ، یہاں تک کہ معروف صحافی حسن نثار کو کہنا پڑا کہ ’’سوشل میڈیا ایک ایسا چائے خانہ ہے جہاں لوگ روز شام ایک دوسرےکو گالیاں دینے آتے ہیں‘‘۔

بطور صحافی میرا یہ خیال ہے کہ سوشل میڈیا اظہار رائے کی ایک بہترین جگہ ہے اورعوامی جذبات کی کسی حد تک ترجمانی بھی یہاں ممکن ہےلہذا اسے کسی بھی قسم کی پابندی سے مستثنیٰ ہونا چاہئےتاکہ آزادی اظہار رائے کا احترام باقی رہے۔ لیکن ہم خود بھی ذرا اپنی اداؤں پر غور تو کریں۔ کسی شخص یا نظریے سے اگر میرا اختلاف ہے تو مجھے حق حاصل ہے کہ میں اپنےحق میں جہاں ممکن ہو دلائل دوں اور اپنے نظریے کا پرچار کروں اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کروں کہ مخالف سے میرا اختلاف کس اصول کی بنیاد پر ہے لیکن اگر میں صرف اختلاف برائے اختلاف کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے مخالف کو گالیاں دوں‘ اس کی ذاتیات کو تنقید کا نشانہ بناؤں اور اپنے خود ساختہ فتوے کی آنچ سے اپنے مخالف کا گھر جلانے کی کوشش کروں تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے ریاست حرکت میں آتی ہے اور سوشل میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے۔

ہمیں بولنا ہے ‘ اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے کہ یہ بحیثیت انسان ہمارا جمہوری حق ہے جو کہ آئینِ پاکستان ہمیں دیتا ہےلیکن کیا اسی آئین کے تحت ہماری بھی یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم سوشل میڈیا کی طاقت کو اظہارِ رائے کے لیے استعمال کریں ‘ نہ کہ محض دوسروں کی کردار کشی کرتے رہیں ‘ ہمیں یہاں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اگرہم پاکستانی ہیں تو مخالف سیاسی جماعت یا مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں اور جو قانون ہمیں آزادی دے رہا ہے وہی قانون اس شخص کے حقوق کا بھی ضامن ہے۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ حکومت نے معاملے کو سمجھنے میں تھوڑی غلطی کی ہے سوشل میڈیا پر اخلاقیات متعارف کرانے کے لیے سماجی تربیت کی ضرورت تھی نہ کہ ایسے سخت قوانین کی جن کے سبب جلد ہی کئی جذباتی اور جلد باز قسم کی طبعیت کے مالک نوجوان سنگین جرائم کے مرتکب قرارپانے والے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اگر پاکستانی قوم ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتی تو آپ اس قوم کو ٹریفک کے آداب سمجھانے کے لیے سگنل توڑنے کی سزا ‘ قتل کی سزا کے برابر کردیں۔ ایسا کرنے سے سماج میں  سوائے مزید بے چینی پیدا ہونے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔

حکومت اگر اپنے خلاف اٹھنے والی آواز دبانا چاہتی ہے تو صد بسم اللہ ، شوق سے لائے سائبر کرائم بل کہ حکومت کو کون روک سکتا ہے لیکن اگرحکومت  واقعی سوشل میڈیا پر جاری اخلاقی بحران پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا‘ سمجھنا ہوگا کہ قوم میں اگر کسی قسم کے نامعقول رویے پرورش پارہے ہیں تو ان کا کہیں نا کہیں تعلق آپ کے برے طرز حکمرانی سے بھی  ہے۔ حکومتیں عوام کو وہ راستہ دکھانے میں آج تک ناکام رہی ہیں جس پر چل کر ایک قوم اپنےسیاسی‘ سماجی اور معاشرتی ارتقاء کا سفر طے کرتی ہیں۔

حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ سماج میں بگاڑ کا سبب عوام  کی خواہش نہیں بلکہ عوام کو درپیش وہ بے پناہ مشکلات ہیں جنہوں نے عوام کو اس حد تک نفسیاتی مریض کردیا ہے کہ آج کوئی اپنے مخالف کی بات سکون سے سننے کو تیار ہی نہیں‘ ہر کوئی بس اپنے مخالف کی دھجیاں بکھیرنے میں مشغول ہے۔ اور رہی بات حکومت پر تنقید کی تو سنا ہے کہ گئے زمانوں میں احتجاج سڑکوں پر ہوا کرتا تھااور اگر حکومت نے عوام کی فرسٹریشن نکالنے کا یہ واحد ذریعہ بھی بذریعہ جبر چھین لیا تو عوام ایک بار پھر سڑکوں کو راستہ دیکھنے پر مجبور ہوں گے اور جب بھپرے ہوئے عوام سڑکوں پر آتے ہیں تو سیاست دھری کی دھری رہ جاتی ہے ‘ انقلاب کے دروازے وا ہوجاتے ہیں اور پاکستان کی قسمت میں اگر کوئی انقلاب ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ انقلابِ فرانس سے زیادہ خونیں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email