The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

ٹریفک کے اصولوں کا شریعت سے تعلق

جب آپ ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو اس بات کا اطمینان رکھیں کہ آپ دو طرف سے بالکل محفوظ ہیں ایک اوپر سے اور دوسرے نیچے سے۔ باقی کسی بھی طرف سے کوئی بھی آن ٹپک سکتا ہے چاہے آپ گرین سگنل پر ہی کیوں نہ ہوں بے دھڑک ہو کر ہر گز نہ چلائیں کسی بھی طرف سے کوئی بھی گولی کی طرح آپ کو لگ سکتا ہے۔

گاڑی کی ہیڈ لائٹس تو اس طرح اوپر کی طرف جا رہی ہوتی ہیں جیسے گاڑی زمین پر نہیں آسمان پر چلاتی ہو اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کارِ خیر میں عام افراد کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ بھی برابر کا ثواب کما رہے ہوتے ہیں- سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہم لوگوں کو ہو کیا گیا ہے۔

ایک عام آدمی الٹی سیدھی حرکات کرتے ہوئے اتنا برا نہیں لگتا جتنا ایک دیندار شرعی آدمی ٹریفک کے قوانین کو ہوا میں اڑاتے ہوئے برا لگتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک وہ زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ دین کے زیادہ قریب ہوتا ہے جس میں نظم و ضبط بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں سے الجھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان لوگوں کے نزدیک صرف نماز روزہ کی پابندی ہی اسلام پر عمل کرنا ہے باقی ٹریفک کے قوانین کا اسلام سے کیا تعلق۔

سورت النسا آیت نمبر 09 میں ارشاد ہوتا ہے کہ حکم مانو اللہ اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکم دینے والے ہیں یعنی علمائے وقت یا صاحبِ حکومت لوگ اگر وقت اور حالات کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی اصول و ضوابط ترتیب دیں جو کہ شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہوں تو ان کا حکم مانو۔

ٹریفک کے اصول و قوانین کی پابندی بھی اسی حکم کے تحت آتی ہے- ویسے کسی بات پر عمل کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ شریعت نے اس کا حکم دیا ہو ہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ شریعت نے اس سے منع نہ کیا ہو ورنہ پلاؤ بریانی فاسٹ فوڈز سٹیم روسٹ چکن کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے لیکن یہ سب کے نزدیک جائز ہیں اور جب ٹریفک کے قوانین کی پابندی کی بات ہو تو ہم کہیں کہ یہ کوئی شرعی حکم تو ہے نہیں جس پر عمل کیا جائے کتنی عجیب سی بات ہے۔

آخر میں ایک انتہائی اہم واقعہ پیش ہے ‘ ایک بار قائداعظم کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ریلوے پھاٹک آ گیا – ابھی ریلوے پھاٹک کو بند کیا ہی جا رہا تھا کہ آپ کی گاڑی پھاٹک کے سامنے پہنچ گئی- ڈرائیور نے پھاٹک والے سے کہا کہ ہمیں جانے دیا جائے کیونکہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے۔ قائداعظم نے ڈانٹ کر کہا کہ نہیں بلکہ ہم سب کے ساتھ رکیں گے اگر میں پابندی نہیں کروں گا تو باقی لوگ کیوں پابندی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email