The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

شکرادا کرو! تمھاری امی ٹیچر ہیں

استاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے کیونکہ وہ طالب علم (بچے) کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تخلیقی کردار کو اجاگر کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی بچے کی پہلی درس گاہ ماہ کی گود ہے جہاں سے وہ اپنی طالب علمی کا آغاز کرتا ہے۔

والدین کے بعد اہم رتبہ پانے والے اساتذہ کے لیے بہت سی احادیث اور اقوال موجود ہیں، اُن کی عزت و تکریم کے لیے واضح تعلیمات دی گئیں ہیں بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ جو اپنے استاد کی عزت نہیں کرتا وہ فلاح نہیں پاسکتا۔ درس گاہوں میں درس و تدریس کا کام کرنے والے افراد کو اساتذہ کا درجہ دیا گیا ہے علاوہ ازیں معاشرے میں اچھی بری باتیں سکھانے والا شخص بھی آپ کا استاد شمار کیا جاتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ’’کسی سے ایک لفظ بھی سیکھو تو اُسے استاد مانو‘‘۔

معاشرے کے لوگوں میں تخلیقی کرادار کو اجاگر کرنے والے استاتذہ کی اپنی زندگیوں پر کبھی کسی کو تبصرہ کرتے نہیں سُنا نیز یہ کہ ہم اپنے معاشرے میں ہی رہنے والے استاتذہ کے مسائل اور پریشانیوں سے لاعلم رہتے ہیں مگر سلام اُن لوگوں کو جو تمام تر مسائل کے باوجود معاشرے کو سدھارنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔

مجھے اساتذہ کی پریشانیوں کا علم اس وجہ سے بھی ہے کہ میری والدہ بذات خود اس عہدے پر فائز تھیں، وہ ایک سرکاری ٹیچر تھیں جنہوں نے نہ صرف ہماری تربیت میں کوئی کسر چھوڑی بلکہ اپنی کلاس کے بچوں کو بھی ہماری ہی طرح پیار دیا اور کوئی تفریق نہیں کی۔

میری والدہ نے درس و تدریس کے شعبے کو اس لیے پسند کیا کہ اُن کا ماننا تھا ’’طالباء کے تخلیقی کرادار کو اجاگر کرنے اور اُن کی مثبت شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جانے والا کام ایصال ثواب کا باعث بنتا ہے‘‘، انہوں نے کبھی تنخواہ کے لیے نہیں پڑھایا بلکہ کلاس میں پڑھنے والے اور محلے میں رہنے والے بچوں کو فری میں ٹیوشن پڑھایا۔

چونکہ امی دوپہر کے اسکول میں پڑھاتی تھیں اس لیے جب وہ شام میں واپس آتیں تو ہم بہن بھائی اور محلے کے بچے پڑھنے بیٹھے ہوتے تھے، اسکول سے تھکی ہاری آنے کے باوجود وہ ہمیں شام میں چائے کے ساتھ کھانے کے لیے کچھ دیتیں اس اثناء ہمارا تھوڑا وقفہ ہوتا تو وہ تمام بہن بھائیوں سے اسکول، مدرسے اور واپس آنے کے بعد کا حال احوال عرض کرتیں، سارے بہن بھائی ایک ایک کرکے اپنی  سناتے اور وہ سنتی اسی دوران عموماً آپسی شکایتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا تھا جسے وہ بخوبی حل کرواتیں کہ ہم میں سے کسی کو زیادتی کا احساس نہیں ہوتا۔
مغرب کی اذانوں تک اسکول کا کام اور پڑھائی سے فارغ ہوتے تو اُن کی ہدایت پر نماز ادائیگی کے لیے مسجد جانا لازم ہوتا تھا واپسی پر امی باروچے خانے میں رات کے کھانے کی تیاری کررہی ہوتی تھیں، اس دوران اگر کوئی اسکول کا بچہ اُن سے پوچھنے آجاتا تو وہ اُسے سارے کام چھوڑ کر سمجھاتی تھیں تاہم اگر کھانا دیر کرنے پر کوئی منہ بسورتا تو اُسے امی کے غصے کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا، کئی بار تو اُن کے برکتی ہاتھ ہمارے رخسار تک بھی پہنچ جاتے تھے۔

مرحومہ کا کہنا تھا کہ تمھاری امی ٹیچر ہیں تو تمھیں کسی کو کچھ کہنے کا اختیار نہیں، تم اس بچے کی جگہ اپنے آپ کو  رکھ کر سوچو کہ اگر تم کسی کے گھر کچھ پوچھنے جاتے اور اُن کے بچے ایسا کرتے تو تم کیا سوچتے؟ اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔

باروچی خانے کا کام مکمل کر کے وہ تھوڑی دیر ہم بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھتیں اور مختلف موضوعات کو بنیاد بناکر اپنی فکر ہمارے ذہنوں میں اتارنے کی کوشش کرتیں، اس دوران ایک ایک کر کے سارے بہن بھائی نیند کی وادی میں داخل ہوجاتے تھے تاہم وہ جاگتی رہتی تھیں۔
صبح انہی کی آواز پر آنکھ کھلتی تاہم اس وقت بھی وہ چاک و چوبند نظر آرہی ہوتیں تھیں، ہم صرف منہ ہاتھ دھوتے پھر وہ ہر بچے کو اپنے ہاتھ سے تیار کرواکے ناشتہ بھی کرواتیں، ہم اسکول روانہ ہوتے تو وہ ابو کو اٹھاتیں اُن کے دفتر جانے کے انتظامات میں لگ جاتیں پھر گھریلو مصروفیات، کام کاج کرتے ہی اسکول کا وقت ہوتا اور پھر وہ اسکول روانہ ہوجاتیں۔

چونکہ وہ ایک والدہ کے ساتھ ساتھ بیٹی، بہن، بیوی تھیں تو انہوں نے ان تمام رشتوں کے حقوق کو بخوبی نبھایا اور ساتھ ساتھ ایک اعزازی رتبہ جس کا انہوں نے اپنی مرضی سے بیڑا اٹھا اُسے بھی احسن طریقے سے نبھا گئیں، اپنی پوری زندگی کبھی کسی شخص کو شکایت کا موقع نہیں دیا ۔

اُن کے روز مرہ کے معمول کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ یکم ستمبر 1999 کو قبر کی آغوش میں چلی گئیں، ان کے انتقال کے بعد سے آج تک عزیز، رشتے دار یا طالب علم یا اُن کی ساتھی اساتذہ سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو وہ اُن کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جس پر مجھے فخر ہوتا ہے اور اُن کی بات یاد آتی ہے کہ’’کامیاب انسان وہ ہے جس کی تعریف مرنے کے بعد لوگ کریں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email