The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

راہوں میں سجی خواتین کی چھوٹی دکانیں

وہ معصوم سے چہرے والی عورت جب اپنی چھوٹی سی دکان سجائے گاہکوں کو آواز لگارہی تھی تو وہاں سے گذرتا ہرشخص ناچاہتے ہوئے بھی وہ آوازسن کر اس چھوٹی سی دکان کی جانب نظر گھما کر دیکھ ہی لیتا تھا۔

ہم چاہے ملک کے کسی بھی شہر یا گاؤں سے تعلق رکھتے ہوں، وہاں کی اکثر بازاروں، چوراہوں اور عوامی مرکز والی جگہوں پر اپنی چھوٹی سی دکانیں سجائے عورتیں ضرور نظر آتی ہیں۔ کہیں وہ عورتیں مارکیٹ کی بڑی بڑی دکانوں کے سامنے اپنا چھوٹا سا ٹھیلا لگائے نظر آتی ہیں، تو کہیں چوراہوں پر دریاں بچھائے زمین پربیٹھی اپنی اشیاأ فروخت کرتی نظر آتی ہیں۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح خواتین سندھ کے مختلف شہروں میں اپنی چھوٹی سی دکانیں سجائے نظر آتی ہیں ، مختلف شہروں میں کاروبار کرنے والی ان عورتوں میں سے کوئی گھر کی روزمرہ استعمال ہونے والی چیزیں بیچتی ہیں تو کوئی اپنی اس چھوٹی سی دکان پربچوں کے کھلونے بیچتی ہیں، کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کے پاس سجیں ان چھوٹی دکانوں پر یہ عورتیں ڈرائے فروٹ بیچ کر اپنے گھر کا چولھا جلاتی ہیں، جب کے شہر کی کچی آبادی والے علاقوں میں یہ عورتیں کریم پاؤڈر وغیرہ ہی بیچ کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

سندھ کے مختلف شہروں میں اپنی چھوٹی دکانیں سجانے والی یہ عورتیں اکثر ہندو مذہب کی دلت برادری سے تعلق رکھتی ہیں،جن میں کولھی,، بھیل میگھواڑ کے علاوہ دیگر ذاتیں شامل ہیں۔

یہ عورتیں اپنے کلچر اور روایتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ملبوسات میں گھاگھرا اور چولی پہنتی ہیں اوران کے بازو میں روایتی کنگن ہوتے ہیں جو انکے پورے بازوں کو ڈھامپ دیتے ہیں جسے سندھی زبان میں آج جو چوڑوکہا جاتا ہے ۔

صبح کے وقت شہرکی مارکیٹوں میں جب یہ عورتیں منفرد انداز سے اپنی چھوٹی سی دکانیں سجاتی ہیں تو  دیکھنے والے کو ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے، ان عورتوں کا کہنا  ہے کہ وہ ایک دن میں ۵ سو سے ایک ہزار روپے تک کماتی ہیں، جس میں سے انھیں کچھ پیسے بڑی بڑی دکانوں کے سامھنے بیٹھنے کے باعث انھیں دینے پڑتے ہیں اورباقی بچے پیسوں سے ہی وہ اپنا گھر چلاتی ہیں۔

ان خواتین کی اس چھوٹی سی دکانوں کا کوئی ایک ٹھکانا نہیں ہوتا، جب شہروں میں ٹریفک جام کی شکایتیں درج ہوتیں ہیں یا پھرکہیں ٹریفک والے صاحب اپنی من مانی چلاتے ہوئے ان خواتین کو ان کی چھوٹی سی دکانوں کے ساتھ وہاں سے نکال دیتے ہیں اورپھر انہیں بلا آخر اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور اپنا بسیرہ دھونڈنا پڑتا ہے ۔

ان عورتیں کے پاس زیادہ تر سستی اور غیرمعیاری چیزیں ہی ہوتی ہیں جو مارکیٹ ریٹ سے کئی سستی ملتی ہیں ، جس کے باعث اکثر غریب لوگوں کی ان عورتوں کی دکانوں پر بھیڑ ہوتی ہی کیونکہ لوگ کم پیسوں میں زیادہ سے زیادہ چیزیں خرید پاتے  ہیں۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی یہ عورتیں اپنی ان چھوٹی دکانوں کے ساتھ سندھ کے مختلف دیہاتوں میں بھی جاتی ہیں، جہاں دیہات کی عورتیں ان عورتوں سے بڑے پیمانے پر گھریلو چیزیں خرید کرتی ہیں۔ اس ترقی یافتہ دور میں لوگوں کی شہروں تک رسائی آسان ہونے کے باوجود سندھ کے مختلف دیہاتوں کی عورتیں اکثر شادی بیاہ کے وقت ان عورتوں کو مد دکرتی ہیں اور پھر یہ چھوٹی سی دکان والی عورتوں سے لین دین کا سلسلہ جاری وساری رہتا ہے۔

دلت برادری سے تعلق رکھنے والی ان عورتوں کے مرد حضرات مزدوری یا پھر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں، ان عورتوں کا کہنا ہے کہ مل جل کے کام کرنے سے ہی ایک گھر کا چولھا جل سکتا ہے اور وہ سب ساتھ مل کر کام کرنے سے ہی اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتے ہیں۔

ان عورتوں کی زندگی باقی عورتوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں کیونکہ یہ عورتیں زیادہ محنت کش ہوتی ہیں، ان خواتین کی زندگی محض دکانوں تک محدود نہیں ہے، یہ عورتیں بہت تھکن کے باوجود اپنے گھر کا کام بھی سرانجام دیتی ہیں،اور گھر کے ساتھ ساتھ اپنی بچوں کو بھی خوب سنوارتی ہیں ۔زندگی بڑی سادہ اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر مبنی ہوتی ہے کیونکہ یہ عورتیں اپنی چھوٹی سی دکانوں میں اتنا نہیں کما پاتیں جس سے وہ اپنی کوئی بڑی دکان کھول سکیں ۔

حکومت جہاں بڑے بڑے تاجروں اور بیوپاروں کے لیے نئی حکمت عملیاں جوڑ کر انھیں مارکیٹوں میں آسائشیں فراہم کرتی ہے وہیں اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ ان چھوٹی سی دکانوں کو سجانے والی عورتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی کوئی مناسب حکمت عملی جوڑی جائے جس سے یہ عورتیں بھی اس معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں