The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

کاہو جو دڑو‘ سندھ کی عظیم الشان تاریخ کا ایک اورباب

ایک دن بیٹھے بٹھائی یونہی خیال آیا کہ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنایا جائے،  دوستوں سے بات کی تو سب ہی راضی تھے۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کہیں اور کیوں چلیں اپنے ہی شہر میں ایک مقام ایسا ہے جس سے ہم سب واقف بھی ہیں اور ہماردیکھا بھالا بھی ہے لیکن آج کسی اور نظریے سے ان مقام کی سیر کرتے ہیں سیاح بن کر، تاریخ کے شاگرد بن کر اس جگہ چلتے ہیں اور یہ تجربہ ہم سب کے لئے بالکل نیا ہوگا۔ ہم سب میں اشتیاق پیدا ہوا کہ ہمارے اپنے شہر میں ایسی کونسی جگہ ہے جس سے ہم سب واقف بھی تھے لیکن اب وہاں تاریخ کا شاگرد بن کر جانے سے نیا تجربہ حاصل ہوگا! پرتجسس سوالیا نظریں اس دوست پر لگی تھیں۔ وہ پھر گویا ہوا اور اس نے کہا ہم ’’کاہو جو دڑو ‘‘کے آثارِ قدیمہ کی سیر کو چلتے ہیں۔

ہم سب دوست ساتھ سیر کے لیے نکلے تو کچھ ہی دیر بعد ہم اس ٹوٹی ہوئی خاردار تاروں سے گھرے مقام کے قریب جا پہنچے، جس کے اطراف سینکڑوں بے ترتیب کچے مکانوں کا ایک جنگل آباد تھا اور ان بے ترتیب مکانوں کے لئے کوئی نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کے باعث گھروں کا گندا پانی ا ن خاردار تاروں کے درمیاں کسی جھیل کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس گندے پانی کے تالاب کے عین درمیان  سرخ مٹی کا ایک جزیرہ نما ٹیلانظر آررہا تھا۔ میں جس ٹیلے  کی بات کر رہا ہوں اسے لوگ کاہو جو دڑو کے نام سے جانتے ہیں جو کہ آثار قدیمہ کی ایک اہم سائیٹ ہے اور میرپورخاص شہر سے ایک کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے۔ کاہو جو دڑو کا یہ تاریخی ورثہ تاریخی اعتبار سے اپنی کے الگ پہچان رکھتا ہے۔

سندھ ۵ ہزار سالہ قدیم تہذیب کا حامل خطہ ہے جہاں دنیا کی اولین تہذیب کا جنم ہوا۔ سندھ کا چپہ چپہ ایسی نشانیوں اور آثار سے بھرا ہوا ہے جو تاریخی قدامت اور سندھ کی عظیم الشان دور کی عکاسی کرتے ہیں۔ کاہو جو دڑو بھی ان میں سے ایک مقام ہے جو بدھ دور کی عکاسی کرتا ہے ، ۱۸۸۹ میں برٹش راج کے دوران جب میر پورخاص سے نوابشاہ تک ٹرین کی پٹڑی بچھائی جارہی تھی تو اس وقت ٹریں کی پٹڑی کی کھدائی کے دوران ایک تاریخی شہر کے آثار ملے، کچھ وقت بعد جب برٹش کمشنر جان جیکب نے اس تاریخی ورثے کا دورہ کیا تو انہوں نے اس تاریخی شہر کی کھدائی کا حکم دیا۔ جب اس تاریخی مقام کی کھدائی کی گئی تووہاں سے بدھ دور کے سکے، نوادرات اور کرسٹل کے ٹکڑے ملے،  جو اس دور کے حاکم نے کراچی اور ممبئی کے عجائب گھروں میں رکھوائے، جو آج بھی ان عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

kahoo-jo-daro-02
میرپورخاص شہر میں واقع کاہو جو دڑو کی کھدائی کے دوران ماہرین نے بدھسٹ سٹوپا دریافت کیا جس کے اوپر مجسمہ بھی بنا ہوا تھا، جسے بہت خوبصورتی کے ساتھ بنایا گیا تھا اور جو اس دور کے آرٹ اور ہنر کی عکاسی کرتا ہے ۔

۳۰ایکڑ رقبے پر مشتمل کاہو جو دڑو کے بارے میں محققین کا ماننا ہے کہ تاریخی طور پر یہ مقام کاہن قوم کا بسیرا رہاہے اور اسی قوم کے راجا کاہو نے یہ شہر آباد کیا تھا۔ اس مقام پر بدھ مت کی بہت بڑی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی جس میں’ گوتم بدھ کی  خاک ‘رکھی ہوئی تھی، ۱۹۰۴ ء میں جب اس مقام کی کھدائی کا کام شروع ہوا تب ماہرین نے یہاں سے وہ خاک بھی دریافت کی تھی جسے بعد میں بمبئی کے میوزیم میں رکھا گیا۔

اسی تاریخی مقام کے بارے میں محققین کی ایک اور رائے بھی موجود ہے کہ اس مقام پر کاہو جو دڑو کا نام سندھ کے سومرا حکمرانوں کے دور میں اسی مقام پر رہائش پذیر ایک نامور جاگیردار کاہو ڈیرو کے نام کی وجہ سے پڑا اور آگے چل کر یہ مقام اسی جاگیردار کے نام سے جانا جانے لگاجو سومرا دور کے ایک سما سردار جام نندو کا سالا تھا۔

چونکہ موئن جودڑو کی طرح اس تاریخی مقام کے بارے میں بھی زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہے جس کے باعث یہ مقام آج تک بھی کاہو جو دڑو کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

image

تاریخی ورثہ کاہو جو دڑو میرپورخاص شہرکے ایک تاریخی شہر ہونے کا ثبوت دیتا ہے ،پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک کے دوسرے تاریخی ورثوں کی طرح کاہو جو دڑو بھی محکمہ آثارِ قدیمہ بے دھیانی اور کوتاہی کے باعث تباہ حالی کا شکار ہے۔ کاہو جو دڑو کی درست دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس تاریخی ورثہ کے اسٹوپہ کے آثار ختم ہوچکے ہیں اور اب ان کا نظارہ صرف کتابوں میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ آثار قدیمہ سے ملحق دیگر مقامات بے ترتیب مکانات کے تعمیر کی نذر ہوگئے ہیں۔ماضی میں بدھ مذہب کی شاندار عبادت گاہ کا اعزاز رکھنے والا یہ مقام دور حاضر میں سرخ مٹی کے ایک ڈھیر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
شہر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ اس مقام کے اطراف میں لوگوں نے گھر بنا لیے ہیں جسکے باعث نالیوں اور گٹر کا گندا پانی اس مقام کے پاس تالاب کی شکل اختیار کرچکا ہے ، جس کے باعث سینکڑوں برسوں کی تاریخ اپنے سینے میں سموئے ان آثار قدیمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

حکومت کو اس تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے اور یہ محکمہ آثار قدیمہ کی ذمہ داری ہے لیکن ہر وہ شخص جو خود کو قدیم سندھو تہذیب سے جوڑ کر فخر محسوس کرتا ہے وہ بھی خود کو اس ذمہ داری سے الگ نہیں رکھ سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email