The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

ایشیا کا قلب ہم ہیں

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس امرتسر میں افغانستان کی بحالی و تعمیر نو کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کو کس طرح اقوام عالم میں دوبارہ سے ایک ترقی پذیر ملک کی طرح کھڑا کیا جائے۔ اور اس سلسلے میں خطے کے تمام ممالک مل کر کام کریں۔ مگر اندریں حالات یہ کانفرنس کسی بھی طرح سے افغانستان کی تعمیر نو یا اس تباہ حال ملک کی ترقی کے لیے ہرگز نہیں تھی بلکہ اس کا مکمل طور پر مدعا یہی تھا کہ خطے میں بھارتی بالادستی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اور دنیا کو دکھایا جائے کہ اس خطے میں چوہدراہٹ کا حقدار نہ صرف بھارت ہے بلکہ باقی ممالک بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے کو ہچکچا نہیں رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت ارادے چین ، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کے مضبوط موقف کی وجہ سے کبھی پایہ تکمیل تک پہنچتے نظر نہیں آرہے۔

ہارٹ آف ایشیاء میں پاکستان کی شرکت آخر وقت تک مشکوک رہی اور یہی قیاس تھا کہ شاید پاکستان شرکت نہ کرئے۔ مگر پھر نہ جانے کن حالات کی وجہ سے شرکت کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر بھارت نے جس طرح عالمی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہم اس کی کسی بھی سطح پر باز پرس نہ کر سکے نہ ہی اپنے دوستوں کو یہ باور کروا سکے کہ بھارت کا سلوک کسی بھی طرح سفارتی آداب کے مطابق نہیں تھا۔ ترکی میں اس گروپ کے قیام سے لے کر آج تک پاکستان نے اپنی استطاعت کے مطابق افغانستان کی ترقی میں ہر ممکن کردار ادا کیا ہے لیکن برادر اسلامی ملک بھارت کی گود میں بیٹھ کر ان کی ہی زبان میں پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔

برادر اسلامی ملک نے یہ سوچے بناء کہ ہم تیس لاکھ سے زائد مہاجرین کا کتنے عرصے سے بوجھ برداشت کر کے اپنی معیشت کو تباہی کے دہانے پہ پہنچا چکے ہیں۔ عیارانہ سوچ کی گود میں بیٹھ کر زہر اُگلا۔غنی صاحب نے جس متکبرانہ انداز میں پاکستان کی امداد کو ٹھکرایا تو ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے راقم کا ناقص خیال یہی ہے کہ ایک پائی تک بھی نہ دی جائے۔اور جو راگ الاپا گیا کہ ہماری سرزمین استعمال نہ ہو افغانستان کے خلاف تو اپنے گریباں میں جھانکنا ضروری نہیں سمجھا غنی صاحب نے کہ پشاور حملہ ‘ کوئٹہ دہشت گردی‘ لاہوراو رکراچی کے قلب میں دہشت گردی  اور دیگر کاروائیوں میں افغانستان کی سرزمین کے استعمال ہونے کے جو واضح ثبوت ملے ان کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا۔ بارڈر سیکیورٹی میں آپ کا خلوص اتنا ہی ہے کہ گیٹ کی تعمیر پہ آپ نے دشمن کی آشیر باد سے اشتعال انگیز کاروائیاں شروع کر دیں۔ اگر آپ پاکستانی سرزمین سے در اندازی کا رونا روتے ہیں تو پاکستان کی طرف سے سرحدی نقل و حرکت کو باقاعدہ تنظیم دینے سے غنی صاحب آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ خود ہی نہیں چاہتے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں نہ رکیں اور دیگر غیر قانونی نقل و حرکت بھی کیوں کہ آپ کا حواری بنیا ایسا نہیں چاہتا؟ اشرف غنی صاحب جس طرح مودی پارٹ ٹو بنے ہوئے ہیں ہمیں چاہیے تو یہ تھا کہ ہم کسی نچلے درجے کے خارجہ افسر کو وہاں بھیجتے ۔

دوسری اہم بات کہ کل وقتی وزیر خارجہ ہوتا تواس کو فیصلوں میں آزادی ہوتی جب کہ عزیز صاحب ہر فیصلے میں ایوان وزیر اعظم کی طرف دیکھتے نظر آتے ہیں۔ وہ تو بھلا ہو پاکستانی ہائی کمشنر کا جنہوں نے سیکیورٹی افسر کی کچھ کلاس لے کر اپنا موقف جاندار انداز میں پیش کیا۔ ہم نہ جانے کب تک ایسی پالیسیوں پہ عمل پیرا رہیں گے۔ جس طرح پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تہیہ کیا ہے کہ آئندہ ہمسایہ ملک میں کسی ایونٹ میں شرکت نہیں کریں گے اسی طرح یہ تہیہ بھی لازم ہے کہ ہم کسی ایسے فورم میں وہاں شریک نہیں ہوں گے جہاں کسی دوسرے ملک سے مل کر ہماری ہتک کی جائے۔ کثیر ملکی فورم کو دو ملکوں کے اختلافات کا مرکز بنا دیا گیا۔ اور اب شاید وقت آ چکا ہے کہ ہمیں اپنی افغان اور بھارت پالیسی کو ذاتی تعلقات کے بجائے قومی مفادات پہ ترتیب دینا ہو گا۔ جن کو مانگنے کا سلیقہ ہی نہ ہوہم ان کی امداد کے لیے کیوں بچھے جا رہے ہیں۔ درست کہ مستحکم افغانستان ہماری بھی بقاء کی ضمانت ہے۔ مگر اس کے لیے ہم اپنا بارڈر محفوظ کرنے کے ساتھ جلد از جلد افغان مہاجرین بھائیوں کو واپس بھیجنے کا انتظام کریں تو نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ملکی امن کے لیے بھی بہتر ہو گا۔

پوری دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں‘ سفارتی مشنز‘  ہائی کمشنر‘  اتاشیوں‘ ترجمان اور ہر طرح کہ افسران پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پوری دنیا میں ثابت کریں کہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس بے شک ہماری ہتک کے لیے منعقد ہوئی مگر در اصل ایشیاء کا ہارٹ تو پاکستان ہے اور دنیا کہ باور کرائیں کہ جناب آپ بے شک چاہیں تو پاکستان کے بناء ایشیاء میں کوئی بھی حکمت عملی کامیاب کر کے دکھائیں۔ ابھی تو صرف گوادر پورٹ آپریشنل ہوئی ہے تو مروڑ ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔

محترم مودی صاحب اتنا جان لیجیے   اور اپنے بالکے غنی صاحب  کو بھی بتادیجئے کہ  بے شک اب دھوتی مضبوطی سے باندھنے کا وقت آگیا ہے  کیوں کہ سی پیک بھی شروع ہو چکا ہے مزید بہتری کا سفر جاری ہے۔  ہمیں کہنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی  ‘ ساری  دنیا  خود کہے گی کہ ایشیاء کا ہارٹ صرف پاکستان ہے۔

Print Friendly, PDF & Email