The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

معصوم صورت والا خودکش بمبار

وہ اپنے گاؤں سے دور پاک افغان سرحد کے قریب ایک  مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کررہا تھا جہاں اس کے علاوہ مزید تقریباًدو سو طلباء اور بھی زیرِ تعلیم تھے۔ باپ کا کالے یرقان کی بیماری کے باعث انتقال کے بعد غربت کی ماری ماں کے لیے  اپنے پانچ بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا ہی بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا اس لئے غربت کی وجہ سے اس کے ماموں نے اسے مدرسے میں داخل کروادیا تھا جہاں اس کے رہنے اور مفت کھانے کا بندوبست تھا۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا باقی چار بہن بھائی ابھی بہت چھوٹے تھے۔ ماں اسے حافظِ قران بنانا چاہتی تھی۔

کلیم الله کی عمر اس وقت چودہ برس تھی۔ ، ڈھیر سارے سنہرے گھنگھریالے بال ،چمکتی نیلی آنکھوں اور معصوم صورت والا خودکش بمبار !   اُسے دوہزار دس میں اُس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب اس کے چھ ساتھی سعید آباد کراچی میں ایک فدائی حملے کی تیاری کے دوران بارود سے بھری خودکش جیکٹ پھٹنے سے ایک خوفناک دھماکے کے نتیجےمیں ہلاک ہوگئے تھے۔ وہاں سے زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد خالد محسود کی نشاندہی پر ہم نے اسے ایک قریبی علاقے سے گرفتار کیا تھا ۔ کلیم الله  کو فدائی حملے کے بعد اسی مقام پر ایک اور خودکش حملے کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔ اسے حملے کے لئے کراچی لانے والا اس کا ساتھی دہشت گرد بھی دھماکےمیں ہلاک ہوچکا تھا۔


یہ تو بلی سے بھی ڈرتا ہے صاحب ! یہ بھلا کیسے کسی کی جان لے سکتا ہے


   کلیم الله نے پکڑے جانے کے بعد دورانِ تفتیش بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کیسے اس کی ذہن سازی کی گئی تھی  ، قاری حسین محسود جسے خودکش حملہ آور تیار کرنے کی مشین کہا جاتا تھا ، اس کی تربیت گاہ میں اُسے اس امر سے آگاہ کیا گیا تھا کہ ایک شہید کی کیا شان ہوتی ہے۔ اُسے بتایا گیا تھا کہ کیسے شہادت کا رتبہ ملتے ہی لوگ سیدھے جنت میں پہنچ جاتے ہیں، جہاں حوریں اُن کی منتظر ہوتی ہیں اور جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ جبکہ خودکش حملہ آورکے ماں باپ بھی جنت کے حقدار بن جاتے ہیں۔

کلیم الله  کا کہنا تھا کہ اُسے خود کُش حملے پر مائل کرنے والا اس کے مدرسے کا ہی ایک استاد تھا ۔ استاد نے کہا تھا کہ ’جب خود کُش جیکٹ کے بٹن کو دباؤ گے تو  دھماکہ تو ہوگا لیکن  فرشتے تمہیں اگے ہی لمحے جنت پہنچا دیں گے تم کو کوئی در د محسوس نہیں ہوگا‘۔ کلیم الله  کے مطابق ’’اُستاد نے کہا تھا کہ تم سیدھے ہی جنت میں پہنچ جاؤ گے۔‘‘

سی آئی ڈی دفتر کے اینٹروگیشن روم میں سفید شلوار قمیض میں ملبوس اور سفید جالی والی ٹوپی پہنے اس چودہ سالہ لڑکے سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع تھا۔  اُس نے بتایا کہ استاد نے اس کے علاوہ  سات دوسرے لڑکوں کو بھی خودکش حملوں کے لئے تیار کیا تھا جن میں سے ایک افغانستان میں کسی جگہ استعمال ہوا‘  جبکہ دوسرا جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں کام آیا۔ مدرسے کے مہتمم اور انتظامیہ کو استاد کی سرگرمیوں کا اچھی طرح علم تھا لیکن وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھتے تھے۔ استاد خود بھی تحریکِ طالبان سے تعلق رکھتا تھا اور شاید اسے اسی مقصد کے لئے مدرسے میں استاد کی حیثیت سے بھرتی کروایا گیا تھا۔  استاد نے کلیم الله  کو سات دوسرے لڑکوں کے ساتھ منتخب کرکے قاری حسین محسود کے خودکش تربیتی مرکز میں بھیج دیا جہاں پہلے سے ملک بھر سے آئے ہوئے تقریباً پچاس کے قریب کم عمر لڑکے تربیت حاصل کررہے تھے جن میں سے کچھ تو شائد گیارہ بارہ برس کے ہوں گے۔ دورانِ تربیت قرانی و مذہبی حوالے دے کر ذہن سازی کی جاتی۔ فوج اور پولیس کو کافر قرار دے کر ان پر خودکش اور فدائی حملوں کے لئے اکسایا جاتا۔


تربیت گاہ میں اُسے بتایا گیا تھا کہ ایک شہید کی بعد از شہادت  کیا شان ہوتی ہے۔ اُسے یقین دلایا گیا تھا کہ اگر اس نے خودکش حملہ کیا تو کیسے شہادت کا رتبہ ملتے ہی سیدھا جنت میں پہنچ جائیگا۔ قاری حسین محسود کی ایک زہن سازی نشست میں جب بتایا گیا کہ شہید خودکش کے ماں باپ بھی جنت میں جائیں گے تو اسے بہت اچھا لگا تھا کیونکہ وہ اپنی ماں اور مرحوم باپ سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس کا باپ اسے  ایک فٹبالر بنانا چاہتا تھا۔

قاری حسین محسود کےتربیتی مرکز میں تین مختلف درجات کی تعلیم و تربیت کا بندوبست تھا۔ پہلا درجہ دینی تعلیم سے متعلق تھا۔ اس میں فتوؤں ( خودساختہ) کی مدد سے معصوم بچوں اور کم سن لڑکوں کو جہادی فکر سے روشناس کرواکر خود کش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا  اور ان میں اپنے علاوہ تمام فرقوں اور مسالک ، فورسز کے لوگ  اور غیرمسلموں کے لئے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ( یہ سب سے زیادہ خطرناک بات تھی )، دوسرا درجہ عملی تربیت سے متعلق تھا جہاں بچوں کو جسمانی مشقت کے ذریعے اسلحہ کا استعمال سکھائے جاتے،  تیسرے درجہ میں نفسیاتی نوعیت کی تربیت مہیا کی جاتی جس میں بچوں کو سکھایا جاتا کہ وہ اپنے دشمن کو قتل  یا ذبح کرتے ہوئے کسی نرمی یا رحم دلی کا مظاہرہ نہ کریں۔

چالیس روزہ تربیت کے بعد اسے تین اہداف بتائے گئے ۔ ایک ہدف تو افغانستان میں فورسز کا ہیڈکوارٹر تھا، بقیہ دو ہدف کراچی میں پولیس ٹریننگ اسکول اور دوسرا ایک اہم حکومتی شخصیت تھی۔ اس نے اپنے لئے کراچی چنا جہاں اس کے ساتھیوں کے پولیس ٹریننگ اسکول پر فدائی حملے کے بعد جب  موقعہ پر پولیس اور انتظامیہ کے اہم افراد پہنچتے تو اس نے وہاں پر خودکش حملے کے زریعے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانا تھا۔ سعیدآباد پولیس سینٹر میں ہر وقت سینکڑوں پولیس افسران و اہلکار تربیت حاصل کررہے ہوتے ہیں۔

کلیم الله  کو کراچی روانہ کرتے وقت سب نے خوب مبارک بادیں دیں اور اس کے دوستوں نے اس کے خودکش حملہ آور کے طور پر منتخب ہونے پر اس کی خوش قسمتی سے تعبیر کیا اور اپنے رشک کا اظہار کرتے رہے۔ اس  کو گلے لگا کر اور پھولوں کے ہار پہنا کر الوداع کیا گیا اور پھر اُسے جنوبی وزیرستان سے کراچی کی جانب ایک  طویل سفر پر روانہ کر دیا گیا۔ راستے میں سیکیورٹی فورسز کی سخت چیکنگ سے بچنے کے لئے اُسے ایک سے دوسرے شخص کے سپرد کیا جاتا رہا۔ کراچی پہنچنے تک  اس کی راتیں زیادہ تر مزاروں کے باہر فٹ پاتھوں پر یا دورانِ سفر بسوں کی چھتوں پر گزریں۔

کلیم الله  نے اپنا بیان دیتے ہوئے ایک وقفہ لیا اور پانی پینے کی خواہش ظاہر کی‘ میں نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھیں نم تھیں شائد وہ اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ تمام تفصیلات بتاتے ہوئے کلیم الله  پر کئی بار کپکپی اور گھبراہٹ کی کیفیت طاری ہوتی رہی  اور گود میں پڑے اُس کے ہاتھوں کی انگلیاں بے قراری سے حرکت کر رہی تھیں۔ مجھے اس پر بڑا ترس آرہا تھا ۔ اس عمر کے بچوں کے ہاتھوں میں اسکول کا بستہ اور کرکٹ کا بلا ہوتا ہے‘ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔

میں نے اسے تسلی دی اور پانی کے علاوہ اسے چائے اور بسکٹ بھی دئے ۔ اس کے ایک ہاتھ سے ہتھکڑی پہلے ہی کھول کر اسکا ایک ہاتھ آزاد کیا ہوا تھا۔ اس حقیقت سے شائد ہی کوئی انکار کرسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیمیں بچوں کی معصومیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں کس بے دردی اور سفاکیّت سے خود کُش حملوں کے لیے تیار کرتی آرہی ہیں۔

کلیم الله  نے اب دوبارہ سے اپنا بیان لکھوانا شروع کردیا’’صاحب، میں ایک بات بتانا بھول گیا ….. جب کراچی کے لئے روانہ ہوئے تو میرے ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا ، طالبان نے ڈیرہ اسمعیل خان میں اس لڑکے کو فوجی چوکی پر حملے کیلئے استعمال کرنا تھا ، میں اور وہ لڑکا ایک ہی جگہ پر ٹہرے تھے اور وہ وہیں سے حملے کے لئے روانہ ہوا تھا، اس کے جانے کے بعد مجھے بھی اس جگہ سے کہیں اور منتقل کردیا گیا تھا…. بعد میں جب کراچی پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ لڑکا خودکش حملے سے پہلے ہی پکڑا گیا تھا، شائد ڈر گیا تھا وہ ……..ویسے بھی جب مجھ سے مل کر رخصت ہورہا تھا اس وقت بھی وہ بہت خوفزدہ لگ رہا تھا‘‘۔


مجھے ماں یاد آرہی ہے‘ وہ تو سمجھ رہی ہوگی کہ میں مدرسے میں قرآن حفظ کررہا ہوں

طالبان کمانڈر نے کہا تھا اب ماں باپ سے ملاقات جنت میں ہی ہوگی


کراچی میں مجھے جس جگہ رکھا گیا تھا وہ جگہ پولیس ٹریننگ سینٹر سے زیادہ دور نہیں تھی۔ ایک فدائی دستے نے پولیس ٹریننگ سینٹر پر فدائی حملہ کرنا تھا جس کے بعد مجھے اس وقت وہاں پہنچایا جاتا جب کارروائی کے بعد پولیس کے سینئر افسر موقع پر پہنچتے ۔۔۔۔ میں پولیس کی وردی میں ملبوس ایک ساتھی کے ساتھ اندر پہنچایا جاتا۔۔۔۔میرے لئے خودکش جیکٹ بھی وہی پولیس کی وردی والا ساتھی لے کر آتا جو میں اپنی جگہ سے پہن کر نکلتا اور پولیس والوں پر پھٹتا۔

تم اب کیا سمجھتے ہو جو کچھ تم کرنے جارہے تھے وہ صحیح تھا؟۔۔۔میرے سوال کے جواب میں اس نے صرف ایک مرتبہ اپنی نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا لیکن بولا کچھ بھی نہیں۔اس کی آنکھیں اب آنسوؤں سے تر تھیں۔اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’’صاحب مجھے ماں یاد آرہی ہے ۔اس کو ابھی تک نہیں پتہ ہوگا کہ میں کدھر ہوں ۔وہ تو سمجھ رہی ہوگی کہ میں مدرسے میں قران حفظ کررہا ہوں گا۔ جب مجھے کراچی کے لئے روانہ کررہے تھے تو میں نے طالبان کمانڈر کو بولا کہ مجھے ایک مرتبہ گھر والوں سے ملنا ہےلیکن اس نے بولا کمزوری مت دکھاؤ تمہارا پورا خاندان اب جنت میں تم سے ملے گا‘‘۔

کلیم الله  پولیس ریمانڈ کے بعد جیل چلاگیا۔ چند ماہ بعد خیبر پختونخواہ کی پولیس نے کراچی آکر اپنے کسی مقدمہ میں اس کی گرفتاری کی اور کاغذی و قانونی کارروائی کے بعد اسے پشاور کی جیل  منتقل کردیا گیا۔ کوئی طالبان کمانڈر پکڑا گیا تھا جس سے کی جانے والی تفتیش میں کلیم الله سے متعلق کچھ انکشافات ہوئے تھے ۔

تقریباًایک سال کے بعد مجھے پشاور میں گرفتار ہونے والے ایک  ملزم کی تفتیش کے سلسلے میں پشاور جانے کا اتفاق ہوا ۔ گرفتار ملزم کا تعلق کراچی سے تھا ۔ میں اور ایک حساس ادارے کا افسر جب پشاور کی جیل میں ملزم کی تفتیش سے فارغ ہوکر جیل سپریٹنڈنٹ کے دفتر میں چائے پی رہے تھے تو جیل سپریٹنڈنٹ صاحب نے  اپنی جیل کے وزٹ کی دعوت دی جو کہ ہم نے بخوشی قبول کرلی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جیل وزٹ وغیرہ جیسے تجربات سے ایک پولیس افسر کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

جیل وزٹ کے دوران جب ہم اس حصے میں آئے جہاں قیدی اپنے ملاقاتیوں سے ملتے ہیں تو اچانک میری نظر کلیم الله پر پڑی۔ وہ اپنے اور اپنی فیملی کے درمیان حائل جالیوں سے چمٹا ہوا تھا ، دوسری طرف شاید اس کی ماں تھی جس نے روایتی پختون طرز کا برقع پہنا ہوا تھا ‘ اس کے ساتھ دو چھوٹے بچے اور ایک بوڑھا سا مرد بھی تھا۔ نہایت جذباتی منظر تھا ۔کلیم الله کی ماں لوہے کی جالیوں سے نکلی ہوئی اس کی انگلیوں کو بار بار چوم رہی تھی ۔اس کی سسکیاں صاف سنائی دے رہی تھیں جبکہ اس کے ساتھ دو بچے ایک دس سالہ لڑکا اور سات آٹھ سالہ بچی ہوگی وہ بھی مسلسل کلیم الله کو دیکھتے جارہے تھے اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔کلیم الله خود بھی رو رہا رہا تھا لیکن ساتھ ساتھ  انہیں بھی چپ کرانے کی کوشش کررہا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ بڑا حیران بلکہ پریشان سا ہوگیا اورکہا ’’ صاحب آپ مجھے کراچی لے کر جانے کے لئے آئے ہیں؟‘ اتنے عرصے کے بعد آج پہلی دفعہ تو ماں اور اپنے بہن بھائی سے ملا ہوں۔

مجھے اس جذباتی صورتِ حال نے اندر سے جیسے توڑ مروڑ کے رکھ دیا ہو۔’’صاحب اللہ کا واسطہ ہے اس کو کہیں نہیں لے کر جانا ۔بڑی مشکلوں کے بعد اپنے بچے سے ملی ہوں‘‘۔اس کی ماں کی آواز تھی جو کہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں ہاتھ جوڑ کے مجھ سے مخاطب تھی۔’’یہ تو بلی سے بھی ڈرتا ہے یہ کیسے کسی کی جان لے سکتا ہے صاحب‘‘۔

میں نے انہیں تسلی دی کہ میں کلیم الله  کو لینے نہیں آیا بلکہ کسی اور کام سے آیا ہوں تو انہیں کچھ سانس آیا۔میں نے کلیم الله  کی ماں اور اس کے ساتھ اس کے ماموں سے پوچھا کہ انہوں نے کوئی وکیل وغیرہ بھی کیا ہے؟  تو جواب میں  اسکی ماں کا کہنا تھا کہ وہ تو مشکل سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہے،  وہ کیسے اپنے بیٹے کے لیے وکیل کر سکتی ہے۔۔ہم تو اتنے عرصے سے اپنے بچے کو ڈھونڈ رہے تھے اب کہیں سے کسی طرح پتہ چلا کہ ادھر جیل میں بند ہے تو آج پہلی بار ملنے آئے ہیں۔جب میں اس سے پوچھتی ہوں کہ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے تو یہ روتا ہے کہ ’’مجھے اپنے ساتھ لے چلو کسی بھی طرح‘‘۔کلیم الله  کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

کلیم الله کی بہن اور چھوٹا بھائی جس بے بسی کے ساتھ اپنے بھائی کو جالیوں کے پیچھے روتا ہوا دیکھ رہے تھے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ اللہ پاک سب کے بچوں پر رحم کرے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email