The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

نورمحمد کا آخری سفراور اسپتال کی بے حسی

عثمان کو آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا ڈاکٹر اس کے ارد گرد جمع تھے ڈاکٹروں کے علاوہ عثمان کے والدین پریشانی کی حالت میں بیڈ کے پاس تھے جبکہ باقی رشتہ داروں کو نرس نے یہ کہہ کر باہر نکال دیا تھا کہ ایمرجنسی ہے سب باہر چلے جائیں اور بالکل بھی شور نہ کریں۔یہ شہر کا سب سے بڑا نجی اسپتال تھا جو ہر قسم کی سہولتوں سے مزین تھا ۔عثمان اس وقت انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں تھا‘  عثمان کی والدہ کی آنکھیں آنسوں سے بھری ہوئی تھی اور زیرِلب دعا جاری تھی جبکہ عثمان کے والد نے پریشانی کے عالم میں پورے وارڈ پرنگاہ ڈالی۔

ایک طرف ایک اور مریض کی حالت خراب تھی اور وہاں بھی ڈاکٹر جمع تھے اور وہاں اچانک ذرا سی کھسر پھسر کے بعد ایک نرس نے آکر اس مریض کے بیڈ کے ارد گرد پردے گرا دیئے تھے اس سے ظاہر تھا کہ مریض کی حالت خطرے میں ہے اور پھر وہ مریض دم توڑ گیا اس مریض کے گھروں والوں کو جب پتہ چلا تو انھوں نے چیخنے چلانے کی کوشش کی مگر وہاں موجود عملے نے سختی سے خاموش رہنے کی ہدایت کی کہ باقی مریضوں کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ موت ہو چکی ہے اس سے دوسرے مریضوں پر نفسیاتی طور پر خوف پیدا ہوتا ہے اور حوصلہ ٹوٹتا ہے پھر ایک اسٹریچر آیا اور لاش کو لے جایا گیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ یہ مریض نہیں ایک لاش گئی ہے سب نے سمجھا کہ سی ٹی اسکین یا کوئی اور ٹیسٹ کروانے لے جایا گیا ہے۔

دوسری طرف گوجرانولہ شہر کا ایک سرکاری ا سپتال تھا جہاں نور محمد نامی ایک مریض کو ہسپتال لایا گیا اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھی اس کی اہلیہ اور بچے پریشانی کے عالم میں تھے اور اسپتال کا عملہ بھی پریشان تھا کیونکہ بڑے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ فوری طور پر آکسیجن لگائی جائے مگر اسپتال میں کے سلنڈرز کم تھے اور جو تھے وہ دوسرے مریضوں کو لگے ہوئے تھے نور محمد کی سانسیں مسلسل اکھڑ رہ تھی اور اسپتال میں ہر طرف شور تھا ۔


سرکاری اسپتال کا خاکروب سرجن کے فرائض انجام دینے لگا


ہرکوئی اپنے مسائل کو سلجھانے میں لگا تھا اور اسی دوران نورمحمد کی سانس ڈوری اورزندگی کی لکیر ٹوٹ کر ختم ہو گئی۔ نور محمد کے گھر والوں پرقیامت برپاہوگئی تھی۔ اس کی اہلیہ پریشانی کے عالم میں لاش کے پاس بیٹھی تھی پریشانی کے ساتھ ساتھ سوچوں اور یادوں کا سمندرآنکھوں سے نکل کر فرش پر گر رہا تھا اور وہ اپنے جیون ساتھی کے سفرآخرت کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ گھر میں موجود کس نئی چارپائی  پر نئی چادر کے ساتھ اس میت یعنی اپنے مجازی خدا کو رکھنا ہے اور کس احتیاط اور عزت کے ساتھ رخصت کرنا ہے۔

آخری پنتالیس منٹ سے وہ ان سوچوں میں تھی کہ اچانک اس کے خاوند کی لاش کے ساتھ اسی بیڈ پر کسی اور شخص کو لٹا دیا گیا پہلے ایک دم تو وہ ڈر گئی پھر نرس نے بتا یا کہ ایک مریض ہے اور اسپتال میں مزید کوئی بیڈ خالی نہیں ہے لہذا اپنے خاوند کی لاش کو یہاں سے اٹھائیں۔ نور محمد کی اہلیہ اور بچے ہکا بکا یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وارڈ میں موجود باقی مریض بھِی یہ سب دیکھ رہے تھے ۔وارڈ میں پینتالیس منٹ سے ایک لاش موجود تھی اور اسی لاش کے ساتھ اسی بیڈ پر ایک اور مریض پڑا تھا ۔

وہ مریض ہوش میں تھا اور اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس وقت وہ ایک لاش کے ساتھ لیٹا ہو ہے اس مریض کے گھر والے ڈرے سہمے یہ سب دیکھ رہے تھے سمجھ نہہں آرہی تھی کہ نور محمد کی بیوہ کو تسلی دیں یا اس پر غصہ کریں ساتھ والا مریض جس نے خود کو لگی گلوکوز کی بوتل اسٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی وہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ یہ سب دیکھ رہا تھا نور محمد کے گھر والوں نے اسپتال کے عملے سے کہا کہ لاش کو مردہ خانہ کیوں نہیں بیھجا گیا اگر بیڈ نہیں تھا اور جب تک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنتا اور ایمبولینس کا بندوبست ہوتا تب تک مردہ خانہ میں رکھ دیتے مگر اس اسپتال والوں کے لیے سب روزمرہ کا کام تھا سووہ ٹینشن کیوں لیتے۔

اس مریض کے گھروالے جو لاش کے ساتھ لیٹا تھا وہ وارڈ کے باقی مریضوں کی حالت دیکھ کر اندر سے شکر کر رہے تھے لاش کے ساتھ مریض لیٹا ہے مگر شکر ہے بیڈ پر تو ہے ۔انھیں کیا معلوم تھا کہ جس حلقے میں یہ اسپتال ہے اس حلقے کا ایم این اے ایک وزیر ہے اور سب وزراء سے زیادہ باہر کےممالک کے ریکارڈ ٹور کرتا ہے اور ساتھ اس کا پورا خاندان جہاز کی بزنس کلاس میں سفر کرتا ہے اور وہ وزیر ہر ٹور کے بعد اسلام آباد بیٹھ کر پریس کانفرنس میں بتاتا ہے کہ پاکستان کتنا آگے چلا گیا ہے یہ جانتے ہوئے کہ پچاس لاکھ کی آبادی کے شہر گجرانوالہ میں صرف ایک سرکاری اسپتال ہے جس میں دو سو بستر ہیں۔  غلطی سے اگر کوئی مشین ہے بھی تو خراب ہے اور یہاں  مریض فرش پر یا لاشوں کے ساتھ لٹائے جاتے ہیں۔

رہ گئے نور محمد اور اس مریض کے گھر والے تو وہ بیچارے ہر مصیبت اور مشکل میں بھی خوشی کا پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ شکر ہے لاش فرش پر تو نہیں شکر ہے مریض لاش کے ساتھ ہے دوسرے مریض کے ساتھ تو نہیں دوسرا مریض کھانستا ہلتا جلتا تو ہمارا مریض ڈسٹرب ہوتا لاش ہے بے جان ہے کیا مسئلہ ہے کوئی بھی تو نہیں شہر میں ایک اسپتال ہے تو صحیح۔ میٹرو دوسرے شہر میں ہے تو کیا ہوا سکولوں میں مناسب تعلیم نہیں مگر نہ ہونے سے تو بہتر ہے اور جب اسی شہر کا ایم این اے چم چم کرتی دھول اڑاتی گاڑی میں گذرتا تو یہ لوگ یہ ضرور کہتے ہیں کہ زندگی تو ان کی ہے اور ان پر غصہ کرنے کی بجائے رشک کرتے ہیں ۔ پتہ نہیں کیسے برداشت کرتے ہیں یہ لوگ اورآخر کب تک کریں گے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں