The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

پاکستان کے ستر سال اور سائنس

 سائنس کا آغاز کیسے ہوا؟ وہ کون سے عوامل تھے جن کے زیرِ اثر انسان نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس کے ارد گرد جو کچھ زمین پر موجود ہے وہ یقیناَ کچھ قوانین کے ماتحت ہے اور وہ قوانین کیا ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر نوآموزکے ذہن کے دریچوں میں کلبلاتے رہتے ہیں جو سائنس میں ابھی طفلِ مکتب ہے۔ ان کے جوابات ڈھونڈنے کے لیئے جب وہ تاریخ کے اوراق کھنگالتا ہے توسب سے پہلی بات اس کے مشاہدے میں آتی ہے کہ سائنس دراصل مسلمان سائنسدانوں کا ورثہ ہے، حالانکہ آج کل عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ مذہب اور سائنس دو بالکل علیحدہ راہیں ہیں جن کا آپس میں کوئی ربط ہی نہیں۔ اگر ایسا
ہے تو بجا طور پر سائنس کی وہ بنیاد غلط قرار پاتی ہے جو مسلم سائنسدانوں کی کاوشوں سے تشکیل پائی۔

آج ہم جتنے بھی سائنس کے قوانین اپنے درسی کتابوں میں پڑھتے ہیں،  وہ سب دراصل مسلمان سائنسدانوں کے ہی بنائے ہوئے ہیں جن پر تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے غیر مسلم سائنسدانوں جیسے نیوٹن، گلیلیو، آئن سٹائن وغیرہ نے سائنسی فارمولے تشکیل دیئے۔ آپ سب سوچ میں پڑگئے ہوں گے کہ ایسا کیوں ہے ؟۔

ایسا  اس لیے ہے کیونکہ مسلمانوں نے ورثے میں ملنے والا تمام علم غیر مسلموں کے حوالے کردیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر مسلموں نے اپنے نام سے یہ سب قوانین دنیا کے سامنے پیش کئے اور سائنس کے میدان سے مسلمانوں کا نام اس طرح غائب کردیا جیسے یہ نام کبھی تھے ہی نہیں۔چلیں میں آپ کو مثال دے کر بتاتا ہوں کہ ’روشنی اور شیشے کے قوانین‘ مسلمان سائنسدان “ابن الہیثم” نے بنائے لیکن آج پوری دنیا دوربین اور اس میں موجود شیشوں کے قوانین کا خالق گلیلیو کو مانتی ہے۔

اگرچہ آج کل کسی کو ان تفصیلات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے مگر بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ تلخ حقیقتیں سامنے آئیں  جو زمانوں کی گرد میں کہیں گم ہو گئی ہیں، اور آج مسلم ممالک اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کے لیے ان کے پاس بالکل وقت نہیں ہے اور اسی وجہ سے سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

کچھ ایسا ہی حال ہمارے ملکِ پاکستان کا بھی ہے جہاں آزادی کے ستر برس مکمل ہونے پر ہر طرف جشن کا سماں ہے، کہیں چراغاں کی تیاریاں ہیں تو کہیں عالی شان تقریبات کی لیکن اگر اس ملک کے کسی بھی فرد سے پوچھا جائے کہ ان ستر سالوں میں قوم نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کون کون سے سنگِ میل عبور کیے ہیں اور بحیثیت ایک محبِ وطن پاکستانی آپ سائنس کی ترویج میں کتنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ تو یقیناً اس کے پاس وہی بودہ سا جواز ہوگا کہ ہماری حکومتیں اس کی طرف زیادہ توجہ ہی نہیں دیتیں اور فردِ واحد کی آواز یہاں نقار خانے میں طوطی کی سدا ہے۔ وہ یقیناً آپ کو اس بودے جواب پر بھی ٹرخائے گا کہ ان برسوں میں ہمارے وطن میں اتنے تحقیقی مراکز اور انجینئرنگ و میڈیکل یونیورسٹیز وجود میں آئیں مگر اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ یہاں کتنا تحقیقی کام ہورہا ہے۔ آیا یہاں سے سائنسدان پڑھ کر نکل رہے ہیں یا ڈگری ہولڈرز جن کا اوّلین مقصد ’’پیسا بناؤ اور عیش کرو‘‘ ہے۔

یہاں سائنس کی درسگاہیں تو ہیں مگر سائنسی ریسرچ کے ادارے نہیں نتیجتاً پاکستانی طالب علموں کی اکثریت کتابوں میں لکھے لفظوں کی درستی پر اندھا یقین کرتے ہوئے انہیں رٹتی چلی جاتی ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیئے کہ علم کو رٹنے کی بجائے اسے سمجھیں اور اس کو عملی طریقے سے آزما کر دیکھیں کہ یہ معلومات جو ہم تک پہنچ رہی ہیں کتنی مصدقہ ہیں (مگر ہماری نوجوان نسل کو تو “لکیر کا فقیر” بننے کا شوق ہے)۔

پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں کو بڑھانے میں ایک مؤثر کردار ڈاکٹر عطا الرحمٰن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سر انجام دیا ہےجس کے باعث گذشتہ ایک دو عشروں میں کیمیاء، طبیعات، ریاضی اور حیاتات میں قابلِ قدر کام ہوا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی ہے مگر اب بھی کئی سائنسی فیلڈز ایسی ہیں جن میں ہم بہت پیچھے ہیں، مثلاً پاکستان میں علم فلکیات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی یہاں حالت یہ ہے کہ لاعلمی کے باعث عوام کی اکثریت پہلے تو “علمِ فلکیات” کو “علمِ نجوم” تصور کرکے اس کے حرام ہونے کا فتویٰ لگاتی ہے اور اگر ان پر دونوں کا فرق واضح ہوجائے تو یہ تب بھی ان کو ان کی سمجھ سے باہر کی باتیں لگتی ہیں اور جیسا کہ معاشرے میں چلنِ عام ہے کہ اپنی لاعلمی یا کم فہمی کو چھپانے کے لیئے لوگ عموماً دوسرے بندے پر چڑھ دوڑتے ہیں ، لہذاٰ یہاں کوشش کرنے والا اپنی عزت بچا کر خاموشی میں ہی عافیت گردانتا ہے۔ حالانکہ مجھے یقین ہے کہ جتنا خوبصورت “علمِ فلکیات” ہے اگر ایک دفعہ اسے دل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھر اس کے سحر سے آزاد ہونا ممکن ہی نہیں۔

پاکستان کا واحد فلکیاتی ادارہ “سپارکو” ملک میں علم فلکیات کے فروغ کے لئے کچھوے کی رفتار سے کوششیں تو کررہا ہے لیکن یہ کوششیں غیر واضح ہی نہیں بلکہ ناکافی بھی ہیں۔ مگر لوگوں میں فلکیات کا شعور کو اُجاگر کرنے کے لیے “فلکیاتی سوسائٹیز” ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں جو بڑے شہروں میں فلکیاتی شوق رکھنے والے افراد نے قائم کی ہیں۔ ان تمام سوسائٹیز میں قابلِ ذکر لاہور فلکیاتی سوسائٹی ہے جوکہ لاہور شہر میں قائم ہے اور اس کے صدر جناب عمیر عاصم نے اپنی رصدگاہ (زیڈز رصدگاہ) لاہور میں بنائی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی فلکیاتی سوسائٹی، حیدرآباد فلکیاتی سوسائٹی، راہِ قمر اور اسلام آباد فلکیاتی سوسائٹی بھی سرِفہرست ہیں۔

اگرچہ ان سوسائٹیز کے پاس سپارکو جیسی اعلیٰ سہولتیں اور حکومت سے ملنے والا کروڑوں کا بجٹ نہیں ہے مگر یہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہوئے وطنِ عزیز میں خلاء اور فلکیات کے شوق کو پروان چڑھانے میں پوری طرح سرگرمِ عمل ہیں۔ اگر حکومتیں ناکام ہوجائیں تو پھر عوام ہی میں سے کچھ لوگ آگے آکر تبدیلی لانے اور شعور اُجاگر کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ان قوموں کو جلد صفحۂ ہستی سے مٹنے میں دیر نہیں لگتی جن میں آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email