The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

دبئی میں ’محفل اردو ‘کے نام سے یادگار تقریب منعقد

    اکثر لکھاری کے لئے منعقدہ تقریب کی کامیابی کا تاثر پیدا کرنے کے لیے ، منفرد وپُرکشش الفاظ کا چُناؤ، پھر اِن کے ردوبدل اور اُلٹ پلٹ کرنے ،  بار بار تحریر کے بناؤ سنگھار، گویاقارئین کی توجہ لینے کے لئے روشنائی سے اندھیروں میں روشنی بھرنے کے لیے ناجانے قلم و قرطاس کے ساتھ کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ مگرکبھی صورتحال یکسر مختلف ہوتی ہے۔کیونکہ تقریب ہی ایسی رنگین ودلفریب،شاندار و یادگار ہو تی ہے کہ سر کو دُھننا نہیں پڑتا ،بلکہ الفاظ خود ہی عطا ہوتے رہتے ہیں۔اور کڑیوں سے کڑیاں ملتے ہوئے ایک تحریر بن ہی جاتی ہے۔یہاں بھی ایک ایسا ہی احوالِ تقریب پیش خدمت ہے۔

بزمِ اُردو دبئی کے زیراہتمام ’ تین حصوں پر مشتمل تقریب’محفلِ اُردو2017 “متحدہ عرف امارات میں اُردو ادب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد تقریب تھی۔انڈین ہائی سکول، ڈیرہ دبئی کاشیخ راشد ایڈیٹوریم ہال وقت سے پہلے ہی اہل ذوق حضرات کی کثیر تعداد سے کچھا کچھ بھر چکا تھا، مرکزی دروازے  پر پُرجوش ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ انتظامیہ شرکاءکے پُرتپاک استقبال کے لیے موجود تھی ۔تقریب کا آغاز ترنم اور عزیر کے ادب سے متعلق  ”حال“ اور ”ماضی“ کی دلچسپ مکالمہ بازی سے ہوتا ہے ۔

بزم اُردو کے روح رواں ریحان خان نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اُردو ادب کا مستقبل آپ سب ہیں۔ مگر قابل فکر بات یہ ہے کہ ہمارے مستقبل کو اپنی زبان کے تہذیبی نقطہ نظر پر احساس کمتری ہوگیا ہے۔انگریزی بول چال کا رحجان فروغ پا رہا ہے جب کہ یہ صرف کام کاج کی حد تک محدود زبان ہونی چاہیے تھی۔200 ملین لوگوں کی بولے جانے والی دنیا کی چوتھی بڑی زبان اُردو کی ترویج کا آغاز پھر سے اپنے گھروں سے کرنا ہوگا۔اُنہوں نے اِس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اُردو زبان کے حوالے سے کوئی مشاعرے یا غزل گائیکی کے انعقاد کا ارادہ رکھتا ہوں ”بزم اُردو دبئی“ ہر ممکنہ تعاون کرے گی۔

Mehfil e Urdu
استاد غلام علی اپنا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

     لب و لہجہ سے خوشبو گھولنے والی زبان” اُردو “کی محفل ہو اور غزل کا ذکر نہ ہو۔یہ ناممکن ہے۔۔اور پھرغزل کا ذکر ہو اور اُستاد غلام علی کا نام نہ لیا جائے ۔یہ بھی ناممکن ہے ۔۔غزل کا صنف سخن اپنے وجود کے اعتبار سے نازک ہی صیح مگرگائیکی کے اعتبار سے اُتنا ہی مشکل ترین ہے۔ بڑے بڑے کلاسیکل اساتذہ کو غزل گانے کے لیے کہہ دیا جائے تو وہ فن موسیقی کی باریکیوں سے واقف ہونے کے باوجود غزل گائیکی سے راہ ِ فرار حاصل کر لیتے ہیں۔مگر اُساتذہ سے سیکھنے کی تڑپ اور پھر برسوں کی ریاضت کی بدولت اُستاد غلام علی نے کلاسیکل موسیقی کوجس آن بان شان کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے،بے مثالی ہے۔تلفظ،سروں پر گرفت ،موسیقی پر دسترس ،میٹھی آواز کا جادو اورسادہ اندازِ گائیکی،کی وجہ سے غزل گائیکی میں وہ مقام بنایاکہ ساراعالم ان کی جانب رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہاہے۔غلام علی صاحب بلا شبہ بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں بھی ”غزل گائیکی“ کے حوالے سے ایک بہت بڑا قابل قدر نام ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں متعدد ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ان کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

استاد غلام علی اور شگفتہ یاسمین

اُستاد غلام علی کی فروغِ اُردو ادب کے لیے اِن کی گراں قدر خدمات کے حوالے سے ”بزم اُردو 2017“کے حصہ اول میں غیر رسمی اندازِ گفتگو کے لیے بعنوان ”روبرو“میں شگفتہ یاسمین اور اُستاد غلام علی کوسٹیج پر مدوح کیاگیا،حاضرین محفل نے تالیوں کی گونج میں غلام علی صاحب سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ اِس سے قبل ”یہ دل یہ پاگل دل میرا“، ”چپکے چپکے ر ات دن آنسو بہانہ یاد ہے“ سمیت غلام علی صاحب کی چند مشہورِ زمانہ غزلوں کی سُریلی دھنوں کی مختصر آڈیو کو بھی سماعتوں کی نذر کیا گیا ۔جسے شرکاءکی تالیوں اور واہ واہ کی داد و تحسین نے سندِ پسندیدگی سے نوازا۔

شگفتہ یاسمین کا کہنا تھا کہ مدتوں تاریخ کو انتظار کرنا پڑتا ہے پھر غلام علی جیسی ہستیاں سامنے آتی ہیں ان کے لہو میں اُردو تہذیب ایسے رچ بس چکی ہے کہ اِن کے نقش زمانہ کبھی بھولا نہیں سکتا۔ مختلف سوالات کا جوابات دیتے ہوئے اُستاد غلام علی کا کہنا تھا کہ اُستاد کبھی نہیں مرتے میرے اُستاد ہمیشہ زندہ رہیں  گے۔میری آواز میری نہیں یہ سب میرے اساتذہ اور والدین کی دعاؤں کا اثر ہے۔پُرانی یادوں کی کتابوں کے اوراق سے دھول اُڑاتے ہوئے کبھی غلام علی کے چہرے پر افسرودگی چھا جاتی اور کبھی جگ مگا اُٹھتا اور کبھی خود ہستے اور شرکاءکو بھی خوب ہنسا دیتے۔شگفتہ یاسمین کے اِس سوال پر کہ اگر آپ غزل گائیک نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟ غلام علی صاحب کا کہنا تھا کہ میں غزل گائیک نہ ہوتا تو مجھے ہونا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اور یوں شگفتہ کے اِس شعر پر تقریب کا پہلا حصہ اختتام پذیر ہوا کہ

آپ مہمان نہیں رونق ِمحفل ہیں
ہم یاد رکھیں گے کہ کوئی آیا تھا

ماضی اور حال کے پھر ایک دلچسپ مکالمے کے بعد تقریب اگلے پڑاؤ کی جانب بڑھی۔جوشِ اُردو ایوارڈ2017 کے لیے  اُردو زبان کے فروغ کے لیے ناقابل فراموش خدمات پیش کرنے والے جناب مشتاق احمد یوسفی کا انتخاب کیا گیا تھا۔مشتاق احمد یوسفی, ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز ، ڈی لٹ (اعزازی) کا شمار ایک رحجان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار میں ہوتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی صاحب شدید علالت کے باعث تقریب میں شرکت سے قاصر رہے۔ مگر ایوارڈ نوازنے کے حوالے سے ٹی وی سکرین پر ویڈیو کلب پلے کیا گیاجس میں بزم اُردو دبئی کی جانب ظہورالاسلام جاوید اور تابش زیدی مشتاق احمد یوسفی کی خدمت میں کراچی میں ان کے  دولت کدے پر جوشِ ایوارڈ  پیش کر رہے تھے ۔

Mehfil e Urdu
مشتاق احمد یوسفی کو کراچی میں ان کی رہائش گا پر جوش ایوارڈ دیا جارہا ہے

 عنبرین حسیب عنبر کے چند پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یوسفی صاحب کا کہنا تھا کہ میری عزت افزائی کے لیے جو صورت اختیار کی گئی قابل ستائش ہے،آج اِس روایت کو بدلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ زندہ کی بھی تعریف ہورہی ہے ورنہ تو یہاں  مرنے کے بعد ہی  یاد کیا جاتا ہے ۔۔اِس مزاحیہ جملے پر شرکائے محفل خوب ہنسے کہ ”لگتا ہے انتظامیہ نے کچھ عجلت دکھائی ہے“۔

مسکرانے ،کھلکھلانے کا سلسلہ عروج بام کو چھونے لگا جب عنبرین کے اِس سوال پرکہ آج لکھنے والے کا تلفظ،بولنا،لکھنا سب غلط ہے،آپ کیا کہتے ہیں؟جواب ملا کہ دوسروں کی بدچلنی پر تبصرے کا حق کسی بدچلن کو ہی ہوسکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تلخی اور مٹھاس ہمارے اندر ہوتی ہے ،یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں اور کس کوضبط کرتے ہیں ۔

بعدازاں بھارت سے تشریف لائے معروف آرٹسٹ ڈاکٹر سعید عالم اور ویشنو شرما نے مشتاق احمد یوسفی کی تصا نیف سے منتخب طنزومزاح پر مشتمل ا قتباسات پیش کر کے سماعتوں میں خوب رس گھولتے رہے،کچھ یوں بھی گماں ہونے لگا کہ جیسے ہال کے درودیوار بھی مسکرا اُٹھے ہوں۔ ایوارڈ کا سلسلہ پھر شروع ہوا اور بزم اُردو دبئی کا پہلا علم داراُردو ایواڈ بدست مباک عزت ماٰب سہیل زرعونی اور شکیل خان کے اُستاد غلام علی کو پیش کیا گیا،جبکہ ذیشان حیدر بھی ہمراہ تھے۔

پاسبان اُردو ایوارڈ کے لیے ڈاکٹراُتم کمار کو منتخب کیا گیا۔مجلے کی رونمائی عمل میں لائی گئی جس کے لئے تمام مہمانان خصوصی کے علاوہ شکیل احمد خان، ریحان خان سمیت ندیم احمد، معراج احمد نظامی، سید تابش زیدی، شبی قریشی، محمد عزیر عتیق،عائشہ جنتی، شاداب، عبدالصبور، سید اطہر عباس، سعود مدنی، احیاءبھوج پوری، سرور نیپالی،سید سروش آصف اور محمد شاداب بھی سٹیج کی رونق میں اضافہ کررہے تھے۔

ڈاکٹر اُتم کمار نے ا‘ردو زبان کے انسانی ذہن پر اثرانگیز ہونے کے حوالے سے اپنی ریسرچ بارے حاضرین کو آگاہ کیا اُن کا کہنا تھا کہ اُردو انتہائی گہری زبان ہے لہذا اس کو پڑھنے کے لیے دماغ کے زیادہ حصوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے جو دماغ کے زیادہ حصوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے۔اِس کے علاوہ اُردو کا سب سے اہم کردار جو ریسرچ میں سامنے آیا وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اچھے اور بُرے میں فرق کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

Mehfil e Urdu
لال قلعے کا آخری (تمثیلی ) مشاعرہ

اس موقع پر ’ لال قلعہ کا آخری مشاعرہ‘ (تمثیلی مشاعرہ)  کے عنوان سے ایک ڈرامہ بھی اپنے اصل رنگ لئے شروع ہوتا ہے۔ دیکھنے والی آنکھیں دنگ تھی کہ ماضی حال میں موجود تھااور جبکہ خوبصورت مکالمہ بازی،اندازِنظامت،شعراءکے ادبی مزاح،مہذب تنقید،مشہور زمانہِ اُردو کلام کی آمیزش کے بدولت ہم ماضی میں موجود تھے۔اِس مشاعرے کے رائیٹر اورہدایتکار ڈاکٹر ایم سعید عالم جو مرزا غالب کا کردار بھی باخوبی ادا کررہے تھے،مومن، آغا جان، بہادر شاہ ظفر، ذوق، غلام رسول شوق، بال موکند حضور، سخنور رُکن، آذُوردا، داغ دہلوی اور سشلا کا کردار ادا کرنے والی فنکاروں کے اصل نام بالترتیب کچھ یوں ہیں،ساحر خان، عیش، ویشنو شرما، ایمن انصاری، منیش سنگھ، حنان سنگھ، آرن، پرتاپ، ساحل جان اور یشراج تھے۔شرکاءنے دلجمعی سے تمثیلی مشاعرہ سُنا اور ہر کلام کے ہر مصرعے پر داد لٹاتے رہے فنکاروں کی پرفارمنس کو بھی خوب سراہا گیا۔ مشاعرہ اختتام کو پہنچا تو ظل سبحانی کی تقلید میں سبھی نے ہاتھ جانب ِآسمان بلند کئے اور دعائیہ کلمات پیش کئے ۔

جس نت نئے انداز،پیراہے ،ذاویوںمیں اُردو کی چاشنی سے رستیِ اِس محفل کو سجا گیا تھا، قابل دید بھی تھا ،قابل رشک بھی ،قابل تعریف بھی اور قابل تقلیدبھی۔اس محفل کے بعد میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ”بزم اُردو،دبئی“ کی کاوششوں سے پاک و ہند کی تہذیب کی سنہری تاریخ سے مزین کتب میں سے اُردو ادب کے اوراق کبھی پھیکے نہیں پڑ سکتے ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email