The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

پاکستان کے خلاف سازشوں میں سوئٹزرلینڈ کا کردار

تحریر : حنظلہ طیب

بات جہاں بھی پاکستان کے ریاستی مفادات کے خلاف ہو کسی نہ کسی حوالے سے سوئٹزر لینڈ کا نام ضرور سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے خلاف کوئی عوامی احتجاج ہو، بلوچ حقوق پر گمراہ کن پراپگینڈہ ہو یا سوئس اکاؤنتس میں پڑا پاکستان کا لوٹا ہوا مال۔ ہمیں ہر جگہ سوئٹرز لینڈ کھڑا نظر آتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ ہر پاکستان مخالف حرکت کے پیچھے بنیادی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔

وجہ جاننے سے پہلے ہم سوئٹزرلینڈ میں اسلام کے متعلق رائے کا جائزہ لیں گے۔ نومبر 2016 میں سوئٹزرلینڈ میں تامیڈیا پبلشنگ ہاؤس نامی فرم نے ایک سروے کروایا۔ جس میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا اسلام کی وہی حیثیت ہونی چاہیے جو سوئٹزرلینڈ میں عیسائیت اور یہودیت کی ہے؟ آپ کو جان کر حیرت ہو گی15 ہزار سے زائد سوئس شہریوں میں سے 61 فیصد لوگوں نے جواب دیا “بالکل نہیں”۔
سوئس شہریوں کی اسلام سے نفرت کی وجہ کیا ہے؟ یہ جاننا تو محقیقین کا کام ہے۔

سرِ دست آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ سوئٹزر لینڈ جو پاکستان کی بلا وجہ مخالفت میں آگے آگے ہوتا ہے۔ وہ پاکستانیوں سے کمائی کرنے میں بھی بہت آگے ہے۔ سوئٹزرلینڈ کا 100 ارب ڈالر کا سرمایہ پاکستان میں لگا ہوا ہے، جس سے روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن سوئس حکومت کو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وہ لوٹے ہوئے کھربوں روپے بھی سوئس بینکوں کو روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن دے رہے ہیں جو سیاست دانوں نے وہاں رکھوائے ہیں۔

ہم کتنی عجیب قوم ہیں! رمضان میں پھل مہنگا ہونے پر ہم بائیکاٹ کا شور مچا دیتے ہیں لیکن پاکستان کی جڑوں پہ وار کرنے والے ملک کو ہم کروڑوں روپے کا روزانہ کاروبار فراہم کرتے ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ سوئٹزرلینڈ کی پاکستان دشمنی پر اسے ایک سبق سکھایا جائے؟ چند مثالیں دیتا ہوں کہ حکومتیں اپنے ریاستی مفاد کےلیے کیا کیا کر سکتی ہیں؟ ابھی چند دن قبل روس نے فیس بک کو دھمکی دی ہے کہ ہم اسے روس میں بند کر دیں گے اگر فیس بک نے ہماری شرائط نہ مانیں تو۔

چین نے دھمکی نہیں دی بلکہ اپنی شرائط منوانے کےلیے سیدھا ہی واٹس ایپ کو بند کر دیا۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو اپنے ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے دیگر ۔
تو کیا ہم ایک خود مختار اور آزاد قوم ہونے کے ناطے سوئٹزرلینڈ کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے؟ کیا ہم اپنے ملک میں سوئٹزرلینڈ کے خلاف مظاہرے نہیں کر سکتے؟ اور کچھ بھی نہیں تو کیا صرف سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اسے سبق نہیں سکھا سکتے؟ ۔

بھارت میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ جو بھارتی چین کا ایک لاکٹ بھی خریدتا ہے‘ وہ دراصل چینی فوجیوں کی بندوق میں ایک گولی ڈالتا ہے تا کہ ایک بھارتی مر سکے۔ ہم کیوں نہیں اپنے ریاستی مفاد کےلیے ان بنیادوں پر سوچ سکتے؟ یاد رکھیے ہماری خود مختاری جب تک ہمیں خود عزیز نہیں ہو گی۔ کسی دوسرے کو بھی نہیں ہو گی۔ آج سے سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور سوئس حکومت کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں