The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

ووٹ کی پرچی یا جہنم کا ٹکٹ

کراچی کا سانحہ بلدیہ ٹاؤن تو ہر ایک ذہن میں تازہ ہے نہ ‘ ابھی حال ہی میں اس سلسلے میں ایک اہم گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے‘ قصہ کچھ یوں ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مالکان سے 20 کروڑ کا بھتہ مانگا گیا۔ مالکان نے کہا بھائی ہم تو صرف ایک کروڑ دے سکتے ہیں۔پھر کیا ہوا کہ فیکٹری کے تمام دروازوں کو باہر سے تالے لگا کر 260 سے زیادہ ملازمین مرد عورتوں اور بچوں کو 11 ستمبر 2012 کو زندہ جلا کر مار دیا گیا۔ یہ جلنے والے اپنی چیخوں اور آہ و پکار کے ساتھ جان بچانے کبھی پہلی منزل پر بھاگتے کبھی دوسری اور کبھی تیسری منزل کی طرف دوڑتے لیکن جلانے والے باہر بیٹھے تماشہ دیکھتے رہے اور بعد میں الٹا فیکٹری مالکان کے خلاف پرچہ کٹوا دیا کہ انہوں نے انشورنس کے چکر میں اپنی ہی فیکٹری کو آگ لگائی ہے ۔ اور تو اور یہ درندے مرنے والوں کو ملنے والی کروڑوں روپے کی امداد بھی خود کھا گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس واقعہ کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ۔۔۔

اس وقت کی سندھ حکومت نے کیا ایکشن لیا ؟؟؟؟؟
اس وقت کی مرکزی حکومت نے کیوں کچھ نہ کیا ؟؟؟؟؟؟
اس کے بعد آنے والی حکومت نے ایسے درندوں کا احتساب کیوں نہ کیا ؟؟؟؟
اپنے لیے تو قانون بھی بدلوا دیے جاتے ہیں۔اسمبلیوں میں ساری پارٹیاں ایک ہو جاتی ہیں۔اس خاموشی یا محض کاغذی کاروائی تک محدود رہنے والے یہ سب کیا ایک جیسے نہیں ہیں ؟؟؟؟

سب یہ اہم اور بڑا سوال میرا اپنے آپ سے ہے۔آپ سے ہے۔تم سے ہے۔اس سے ہے اُس سے ہے۔سب سے ہے کہ ایسے درندوں کو ہم بار بار ووٹ دیتے ہیں۔
کیوں آخر کیوں ؟؟؟؟؟۔

ہم اپنی اپنی پارٹی کی جیت پر کس بات پر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں آخرت کا کوئی خوف ہے کہ نہیں ہے ؟؟؟؟؟۔

ہم کیوں نہیں سوچتے کہ ہم نے ان کو جو ووٹ دیا ہے وہ ووٹ نہیں جہنم کی ٹکٹ ہے جو ہم بار بار کٹواتے ہیں لیکن ہمیں عقل نہیں آتی۔ مجھے یقین ہے قدرت کا جلال ظاہر ہو کر رہے گا۔ عذاب آ کر رہے گا۔ایک ایک ذمہ دار اسی طرح جلے گا جس طرح وہ بے قصور جلتے رہے اور کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں