The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

معاشرے کی تپش سے ننھے پھول کُملا رہے ہیں

بچے پھولوں کی طرح خوبصورت اور فرشتوںکا روپ میں ہو تے ہیں جو اپنے چہر ے کی طر ح دل کے خوبصورت اور من کے سچے ہو تے ہیں ان کی معصو میت ہی ہے کہ پتھر سے پتھر دل والا انسان بھی ان کے معصوم چہرے کو دیکھ کر مو م بن جا تا ہے ‘ پر آج کے موجودہ دور میں ہمارے معاشرے ان پھولوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں درند ے اپنی درندگی کا نشانہ ان پھولوں کو بنا رہے ہیں ۔

پھولوں جیسے بچوں کو یہ تک احساس نہیں ہوتا کہ ان کا دشمن کون ہے اور مخلص کون ہے‘ ان کو ہر روپ کے انسان اپنے ہی پیارے لگتے ہیں جن کے ہاتھوں میں وہ محفوظ ہوتے ہیں۔ معاشرے میں بچوں پر بڑھتے ظلم جبری مشقت ان کے حقوق کا پا مالی پر پوری دنیا میں درد دل رکھنے والوں نے بچوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی‘ جس کی گو نج عالمی ادارے اقوام متحدہ تک گئی اور اس کے پیش نظر ہر سا ل 20 نومبر کو بچوں کا عا لمی دن منا کر دنیا کو یہ باور کر وایا جاتا ہے ان سے ایسے ہی پیارمحبت اور شفقت برتی جائے جس کا ان کو حق حاصل ہے ۔

بچوں کے حقوق کے با رے میں پہلی مرتبہ 1954ءمیں اقوا م متحد ہ کی جنرل اسمبلی کے اند ر سفارشات پیش کی گئی اور 1989ءمیں اقوام متحدہ کی اسمبلی میں بچوں کے متعلق شفارشات کو قانونی شکل دے دی۔ پہلی مرتبہ 20 نومبر 1990 میں کو اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کی باضابطہ حمایت کر کے بچوں کا عا لمی دن قرار دیا ۔

اس وقت سے لے کر ا ب تک یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے‘ لیکن دن تو ہر سال منا یا تو جا تا ہے پر اس دن کو صرف ایک دن ہی منا کر ہم سب پو را سا ل بچوں کے حقوق سے آنکھیں بند رکھتے ہیں ۔

پوری دنیا میں پھیلی بد امنی بعض عالمی طاقتوں کا جنگی جنوں اسلحہ کی دوڑ معا شرتی برائیاں بیما ری غربت بھو ک افلا س قدرتی آفات دہشت گردی ان سب کے نشا نے پر بچے ہی ہو تے ہیں ‘ یہ ہی نہیں گھروں میں والدین سکول میں اساتذہ معاشرے میں انسا نی روپ میں درندے ان کو نشانہ بناتے ہیں ۔

اقوام متحد ہ کا عا لمی ادارہ بر ائے اطفا ل یو نیسف ہر سا ل جون میں بچوں کے حوالے سے ایک رپورٹ جا ری کر تا ہے گزشتہ بر س میں جا رکردہ رپو رٹ اعددہ شمار سابقہ سا لوں کی نسبت بچوں کے حا لا ت مزید گھمبیر ہو تے جا رہے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق دنیامیں124ملین سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں دنیامیں ہرسال27 کروڑ بچے گھر یلوتشدد کا نشانہ بنتے ہیں‘ پاکستان میں ہردس میں سے ایک بچہ تشدد اورجارحیت کا شکار ہوتا ہے۔ ہیومن را ئٹس کمیشن آف پا کستا ن کی رپورٹ کے مطا بق پاکستان میں 30 فیصد بچے غذائی قلت کا شکا ر ہیں۔یونیسف کی رپورٹ کے مطا بق پا کستان کے 30فیصد بچے ایک سال کی عمر میں داخل ہو نے سے پہلے فوت ہو جا تے ہیں۔اور ہر گیارہواں بچہ پا نچ سا ل کی عمر سے پہلے ہی فوت ہو جا تا ہے۔

پا کستا ن میں چائلڈلیبر وجبری مشقت کے شکار بچوں کی تعداد میں دن بدن آضا فہ ہو تا جارہا ہے۔ اب اگر پوری دنیا کا جا ئزہ لیا جا ئے توترقی پذیر مما لک کے ساتھ ترقی یافتہ مما لک میں بھی بچوں کو جنسی تشدد کا نشا نہ بنایا جا تا ہے‘ جن علاقوں اور ملکوں میں جنگی صورت حا ل کا سامنا ہے۔

ان میں مشرق وسطیٰ عراق ‘ شا م‘ یمن‘ افغانستا ن میں امر یکہ کی بم با ری سے صرف ایک ہی سال میں لا کھوں ٹن بم کے گولے برسا ئے گئے جن سے خا رج ہو نے والاانتہا ئی خطر نا ک مہلک ما د ”نیوروٹولسک “جو بچوں اور حا ملہ عورتوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے جس کے باعث ہزاروں بچے موت کی آغوش میں چلے گئے جبکہ کئی بچے معذور پیدا ہو ئے۔

دوسری طر ف برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو نے والے انسانیت سوز سلوک سے بچے بھی محفو ظ نہیں رہے جن کو والدین کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا جاتا ہے ‘ ان کی تعداد ہز اروں میں ہے ۔ امر یکہ کی عراق شا م افغا نستان میں مسلسل بم باری سے ان مما لک میں 30 فیصد سے زائد بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں ۔

یونیسف کے مطا بق مشر ق وسطیٰ بالخصوص عراق شام یمن افغانستان اور روہنگیا مسلمانوں میں ہر پا نچویں بچے کو موت اور تشدد کا خوف رہتا ہے وہ بچے ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان پر بم حملہ گولی کا نشانہ جنسی زیاتی یا پھر مسلح جہتوں کی کا روائیوں سے نشا نہ بنا ئے جانے کا خوف رہتا ہے۔ افر یقہ کی مسلح تحر یکوں اور دائش میں بچوں کو جبری بھرتی کیا جاتا رہا ہے ۔ان شدت پسند تنظیمیں سکولوں کے بچوں کو جبری طور پراپنی تحریکوں کے لئے بھرتی کیا۔

جنگی صورت حا ل کے نتیجے میں ہر سال لا کھوں پنا ہ گزین بن ملک چھوڑکر دوسرے ملکوں میں پنا ہ لیتے ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 6 لاکھ مہاجر بچوں میں سے تین اعشاریہ سات ملین بچے سکول نہیں جا پاتے اور تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ یونیسف نے مو جودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک اند از لگایا ہے کہ 2030 تک کروڑوں بچے ایسی بیما ریوں سے مر سکتے ہیں جن کا علا ج ممکن ہو گا پر سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے اتنی اموات ہو سکتی ہیں ۔

جنگ میں مبتلا عراق شام افغا نستان روہنگیا مسلمان جو ان علاقوں میں 15لا کھ بچے بے گھر ہوئے اور 10 لاکھ بچے جبر ی مشقت پر مجبور ہیں‘ پا کستان میں جبری مشقت کے حو الے سے صرف پنجاب نے ہی بھٹہ خشت پر کاروائیاں کی ہیں پر بس اڈوں ہوٹلوں اور ورکشاپس وغیرہ کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ دیگر صوبو ں میں بچوں سے جبری مشقت اور تشد د کے حوالے سے صورت حا ل ابتر ہے۔

اب جبری مشقت کی جگہوں بس اڈاوں ورکشا پس وغیر ہ پر کا م کر نے والے بچے تعلیم سے تو محروم ہو تے ہیں پر وہا ں پر انتہا ئی غیرمحفوظ ہوتے ہیں جن کو تشدد کے سا تھ جنسی ہوس کا نشا نہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بے روزگا ری گھر یلوں جھگڑ وں کے با عث والدین خود تو زہر پی کر مرتے ہیں سا تھ ہی ان مصوم بچوں کی زندگی بھی نگل جاتے ہیں ‘ کہیں والد ین کے تشد د سے گھر سے بھا گے بچے مرے ہو ئے ملتے ہیں تو کچھ جنسی زیادتی کا شکار یا پھر گھر سے بھاگے بچے جر ا ئم پیشہ بن جاتے ہیں۔

پڑے لکھے باشعور دولت مند اپنے بچوں کو تو تعلیم اور سہولیات دلواتے ہیں پر کسی غریب کے بچے کو تعلیم سے محروم کر کے اپنے گھر وں میں نوکر رکھتے ہیں اور ان پر بہیما نہ تشدد کر کے ان کی جان ہی لے لیتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ ہم اس معاشرے میں بچوں کو تحفظ دینے میں کیوں نا کا م ہوتے جا رہے ہیں ؟ ہم صرف اپنے بچوں کا سوچتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ دوسروں کے بچوں کو بھی ایسی سہولیا ت تعلیم تربیت کیوں میسر نہیں ہے جو ہما رے بچوں کو حا صل ہیں۔ کل کو ان بچوں نے بڑے ہوکر معاشرے کا فرد بننا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email