The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

جہیز – لعنت تو ہے لیکن۔۔۔۔

جہیز کی روایت عرصہ دراز سے معاشرے میں موجود ہے‘ جو کہ قدیم زمانے سے برصغیر میں چلی آرہی ہے۔ اس زمانےمیں لڑکیوں کا والدین کی جائیداد میں حصہ داری کو ناقابلِ قبول سمجھا جاتا تھا۔ بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم رہ جانے کی تلافی کرتے ہوئے والدین نے ایک نظام ترتیب دیا جو قانون کو نظرانداز کر کے دولت کا ایک حصہ ان کو دیتا ہے۔

آہستہ آہستہ یہ رسم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتی گئی اور مہنگی اشیاء دینا ہندو معاشرے کا طورطریقہ بن کر رہ گیا‘ وہیں سے یہ رسم مسلم معاشرے میں بھی آگئی ہے۔

اخبارات زیادہ جہیز نہ دینے کے سبب ہونے والے ظلم و تشدد کے واقعات سے اٹے پڑے ہیں۔ مسئلے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس لعنت کو ختم کرنا ضروری ہے۔عورتوں پر گھریلو تشدد کے خلاف بیشتر قوتیں سرگرم ہیں۔ تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گیے ہیں۔جہیز کی لعنت پر تنقید کے لیے الفاظ بےشک کم ہیں۔

ہمارے ملک کی آبادی درمیانے اور نچلے طبقے میں تقسیم ہے۔ ان خاندانوں کے لیے جہیز کا بائیکاٹ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ تو کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صرف یہ طبقہ ہی جہیز جیسی لعنت کا شکار ہے۔ تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ یہ طبقہ بھی معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لیے انہی طریقوں پر چلتا ہے جس پر ایک دوسرے طبقےکا انسان۔حتٰی کہ ان کی بیٹیاں بھی مہنگی شادی اور جہیز کی خواہش رکھتی ہیں اور ان کی بھی یہی سوچ ہے کہ زیادہ جہیز نا دیے جانے پر ان کی بیٹیاں بن بیاہی رہ جائیں گی۔

گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق فیصد پاکستانیوں کا یہ ماننا ہے کہ جہیز کی بنیاد امراء اور پڑھے لکھے طبقے نے رکھی۔ چاروں صوبوں میں عورتوں اور مردوں کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہوئے سروے کیا گیا اور یہ پوچھا گیا کہ کونسا طبقہ جہیز کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔

اس سروے کے شماریات کے مطابق 71فیصد پڑھے لکھے لوگوں نے ہاں جبکہ 21 فیصد نے نفی جبکہ 8فیصد نے کسی بھی قسم کے جواب سے گریز کیا۔

بطورِ مسلمان ہمیں حضرت محمدﷺ کے دیے گئے اس درس کو قطعاً نہیں بھولنا چاہیے کہ “بہترین شادی وہ ہے جس میں ایک دوسرے پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے”۔ ایک اور مقام پر حضور محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “جس شادی پر کم سے کم خرچ کیا جائے وہ بہترین ہے۔” یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے دیے گئے احکامات کو بھلا دیا۔

سیالکوٹ کے ایک نواحی گاؤں بیہاری پور تحصیل ڈسکہ میں ایک خاتون کو اس کے شوہر اور سسرال والوں نے مبینہ زہر دے کر قتل کردیا۔ چھبیس سالہ انیبہ شہزادی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا جس کو اس کا شوہر اور سسرال اکثر و بیشتر جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ اس کے والد اللہ دتہ جو کہ ایک مزدور ہے ‘ اس نے پولیس کو بتایا کہ اسد اور اس کے گھر والے خاتون کو جہیز زیادہ نہ لانے پر تشدد کا نشانہ بناتے رہتے حتٰی کہ اس کو زہر دے کر مار دیا گیا۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق موت زہر خورانی سے واقع ہوئی۔

اگرچہ جہیز کی رسم کو پاکستان میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ لیکن قانون بھی اس لعنت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ریاستی سطح پر میڈیا اور مہذب لوگوں کے ساتھ مل کر لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے میں عملی پیشںِ رفت کی جائے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email