The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

چائلڈ لیبر میں مصروف بچےتعلیم کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں

چائلڈ لیبر پاکستان کی ایک کڑوا سچ ہے۔ بد قسمتی سے یہ ملک کے تمام حصوں میں پروان چڑھ رہاہے۔ یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ وہ بچے جنہیں سکول جانا چاہیے اس عمر میں ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے مزدوری پر مجبور ہیں۔

آج میں آپ کو کہانی سناؤں گا 11سالہ رزاق کی جو گورنمنٹ یونیورسٹی کے باہر ٹافیاں چاکلیٹس بیچتا ہے۔ اس کے دو بھائی اور ایک بہن ہے۔اس کا بڑا بھائی گول گپے جبکہ چھوٹا بھی ٹافیاں چاکلیٹس بیچتا ہے ۔ بہن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ رزاق کے جواری باپ نے کچھ سال پہلے اس کی ماں کو طلاق دے دی تھی‘ اس خاندان میں کبھی کوئی شخص اسکول نہیں گیا اور نہ ہی رزاق نے اسکول کی شکل دیکھی ہے۔

اس انٹرویو کا مقصد چائلڈ لیبر میں ملوث ہونے اور پڑھائی چھوڑنے کی بنیادی وجوہات کو جاننا تھا۔اس کا ایک بھی منٹ ضائع کیے بغیر میں اس کے سکول نہ جانے کے حالات اور مزدوری کرنے کی وجوہات پوچھنے کے لیے اس جگہ انٹرویو کرنے لگا ‘جہاں وہ ٹافیاں چاکلیٹس بیچتا ہے۔

رزاق نے کہا کہ اس کا خاندان بچپن سے ہی اس کو سکول بھیجنا چاہتا تھا لیکن وہ پابند ہو کر نہیں دہ سکتا تھا۔اس نے مزید کہا کہ اس کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا کیونکہ اسے کام کرنا پسند ہے۔اس نے 7 سال کی عمر میں تقریباً ساڑھے تین سال خوانچہ فروش کی حیثیت سے کام کیا جس سے وہ ماہانہ 6000 روپے کما لیتا تھا۔ اس کے کام کا دورانیہ 13 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہوتا تھا۔ ایسے سخت حالات میں کام کرنا آسان نہ تھا ‘ چنانچہ اسے یہ کام چھوڑنا پڑا۔

محنت کش رزاق کی بلاگر کے ساتھ تصویر

ایک ہفتہ بھی ضائع کیے بغیر اس نے یونیورسٹی کے باہر ٹافیاں بیچنا شروع کردیں جس سے وہ روزانہ 400-300 کماتا اور ساری رقم اپنی ماں کو دے دیتا۔وہ اس کام سے مطمئن ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے کام کرتا اورکام کا دورانیہ بھی اپنی مرضی سے جتنا ہے۔اس نے یہاں بے شمار دوست بنائے جو کسی نہ کسی وجہ سے چائلڈ لیبر کا شکار تھے۔

اس کےنزدیک یہ کام بہت تسلی بخش ہے اور اس کام نے اس کی زندگی یکسر تبدیل کردی ہے۔ وہ بہت محنت کرتا ہے اور کبھی بھی ناغہ نہیں کرتا۔میں نے اس کے مقاصد کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ اسے موٹرسائیکل خریدنی ہے۔ اسے سفر کرنا پسند ہے لیکن اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اسے سخت محنت کرنی ہوگی اس لیے وہ اتنا کام کرتا ہے۔

یونیورسٹی کے قریب زیادہ دیر فٹ پاتھ پر بیٹھنا مشکل تھا چناچہ آخری سوال سے میں اختتام کی طرف بڑھا۔ اتنے زیادہ طالب علموں کو روزانہ دیکھ کر کیسا لگتا ہے؟ کیا تمہارا پڑھنے کو دل نہیں کرتا؟۔

اس نے کہا کہ “ان کو دیکھ کر میں اور مطمئن ہوجاتا ہوں کہ یہ اپنے پیسے اور وقت ضائع کررہے ہیں”۔یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا کہ اب چائلڈ لیبر کے ستائے بچوں کا یقین تعلیم پر نہیں رہا اور وہ اس بات سے نا آشنا ہیں کہ تعلیم ہی ان کے خاندان کے مستقبل کو روشن کرسکتی ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں