The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

چار درویش گول گپوں کی تلاش میں

رابعہ کنول

کراچی کاموسم بھی زبردست ہے ، پل میں تولہ پل میں ماشہ ۔ کبھی سورج کی تمتماہٹ اور کبھی بادلوں کی آنکھ مچولی ،، ایسے میں کراچی والوں کا دل للچاجاتا ہے تو ساحل کا رخ کرلیتے ہیں ،، کسی کو بلندوبالا عمارات کےدرمیان سے سورج نکلتے ہوئے دیکھنے کا شوق چڑھتا ہے تو کوئی سمندر میں ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی ڈوب جاتا ہے ،، یوں ایک افسانوی سین تخلیق ہوجاتاہے ، پھر خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیے پھیری والے موجود ہوتے ہیں ، کوئی گرما گرم بھٹے بیچ کر آنے والوں کا دل لبھاتا ہے اوراپنے بچوں کاپیٹ پالتا ہے تو کوئی دہی بڑے ، چاٹ اورگول گپوں سے ملکی وغیرملکی سیاحوں کومحظوظ کرتا ہے۔

کراچی میں ہر دوسری شاہراہ ، گلی اور شاید نکٹرپر بھی ریڑھی بان نظر آتے ہیں ،، اور ان میں اکثریت گول گپے فروخت کررہے ہوتے ہیں ۔ ’گول گپے والا آیا، گول گپے لایا‘ گلی گلی گاتا پھروں ہنستا ہنساتا پھروں آیا رے آیا رے آیا رےے بڑا مزیدار میرا گورا گورا مال ہے جیسے گورے گال رےےے۔

سنہ 1962 میں بننے والی فلم مہتاب میں بھی گول گپوں کے حوالے سےشامل کیاگیا یہ گیت احمد رشدی نے گایا تھا۔ ہرنکڑ کی بات لے کر ہرگز یہ گمان نہ کیجئےکہ کراچی کا کاروبار ہی گول گپےوالوں سے چلتا ہے‘ بہرحال اک بڑی تعداد تو ہے اور ان میں سے زیادہ تر کراچی کے رہائشی بھی نہیں ۔ کوئی قریبی گاؤں سے گوٹھ سےآیا ہے توکوئی دوسرے صوبوں سے ہجرت کرکے ۔ کراچی کے شہری روزانہ 20 لاکھ روپے کے گول گپے کھاتے ہیں۔گول گپے کا کاروبار10 ہزار روپے سے شروع کیا جا سکتا ہے، یہ پیشہ آبائی پیشہ کہلاتا ہے، اس میں استاد شاگردی کا سلسلہ بھی ہوتا ہے ۔

کراچی میں گول گپے کی فروخت کا60 فیصد کام ٹھیکیداری پر ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی جاننے کی کوشش کی کہ آخرگول گپے کیا ہوتے ہیں؟کہاں سے آئے یہ گول گپے؟کس نے بنائے گول گپے؟ کس نے متعارف کرائے گول گپے؟کس نے پہلے کھائےگول گپے؟ مفت کے گول گپے کھانے کا ذائقہ کیاہوتا ہے؟ اپنا خرچہ کرنے پر گول گپوں کو چار چاند کیسے لگتے ہیں ؟کس کی وجہ سے لڑکیوں کو بالخصوص اورلڑکوں کو بالعموم گول گپے کھانے کی لت لگی ۔ پوری ، آلوچھولے، ہری مرچیں ، پیاز، میٹھی اور ہری چٹنی ، دہی اور اور اور کھٹا میٹھا پانی کے ساتھ پیش کی جانے والی اس مزیدار ڈش کو پاکستان میں گول گپے کے نام سے پہچانا جاتا ہے ، لیکن بھارت کے مختلف علاقوں میں اس کو پتاشے، پانی پوری ، پکوڑی ، پھلکی ، ٹکی کے نام سے بنایا اور کھایا جاتا ہے ، جبکہ بنگلہ دیش میں اسے پھچکا کانام دیاگیا ہے ۔

جنوبی ایشیا میں پسند کی جانے والی اس ڈش کی ابتدا بھارتی علاقےماگھدھا سے ہوئی ۔ اور اب بنا موقع او روقت کے اسے کھایا جاتا ہے ۔ حالانکہ گول گپے کی تیاری اور فروخت محنت طلب کام ہے، لیکن شادی بیاہ کے موقعوں پر اس سے مہمانوں کی تواضع روایت بنتی جارہی ہے ، ویسے کراچی کے مشہور گول گپے لیاقت آباد، حسین آباد، کورنگی، رنچھور لائن، اولڈ سٹی ایریا، جامع کلاتھ، کھارادر اور طارق روڈ پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ لیاقت آباد کے گول گپوں کا سن کر ہم نے بھی ٹھانی کہ ایک دن گول گپوں کا مفتا اڑایاجائے ، ہمارافارمولا ہےکہ کوئی بھی نئی چیز ٹرائی کرنے کے لیےضروری ہے کہ اپنے پیسے خرچ نہ کریں ، کیونکہ مطلوبہ شے پسند نہ آنے کی صورت میں جیب کو پہنچنے والا دکھ دل اور معدہ بھی محسوس کرےگا جو جان لیوا بھی ہوسکتا ہے ۔اور پسند آگئی تو کیا کہنے ۔

ہفتے کی شام کراچی میں ٹریفک الحفیظ الامان ۔پر شوق کا کوئی مول نہیں ۔یونیورسٹی روڈ سے گزرتے برابر میں گاڑیوں کی لمبی قطار نظر آئی پھر بھی بڑھتے بڑھتے سبزی منڈی سے کٹ لیا۔نگاہ دوڑائی دور تک تو شاید جیل چورنگی تک پیک جام تھا۔اللہ اللہ کرتے موڑ کاٹا اور حسن اسکوائر سےٹرن لے کر بالآخر لیاقت آباد کے گول گپے کھانے پہنچیں ۔ 8:30 کے نکلے اب سو اگیارہ ہورہے تھے، دکان پر خریداروں کی 3 اور طویل قطاریں دیکھ کر اشتیاق بڑھ گیا۔ صاحب !کوئی تو بات ہے ان گول گپوں میں کہ خلقت ٹوٹی پڑی ہے ۔۔ لمبےانتظار کےبعد پونے بارہ بجے دو میٹھی اور دو کٹھی پانی پوری کی پلیٹیں مل ہی گئیں ۔

چھوٹی چھوٹی باسی پوریاں ہاتھ میں آتے ہی ساری خوشی غارت ہوگئی۔50 روپے کی پلیٹ میں 8 پوریاں اور پانی کا ایک ننھا منا سا پیالہ۔۔پانی اس لیے کہ نہ تو وہ املی کا پانی تھا نہ آلو بخارے کا۔نہ دھنیا ، زیرہ ،مرچ، نمک ، لیموں کا رس کچھ بھی تو نہیں ۔ سادے پانی میں چاٹ مصالحہ شامل تھا، اور اس کی مقدار اتنی کم کہ گندا پانی لگے ۔باسی اور سخت پوری کے اندر جھانکنے پر تین سے چار دانے کابلی چھولے بھی نظر آئے ، جو سائز میں بڑے ضرورتھے لیکن ذائقے میں زیرو۔ میری امی کہتی ہیں کابلی چھولے چھوٹے والے ہی آنکھوں ، زبان ، معدے اور سگھڑ لڑکیوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں ۔ میٹھے پانی پوری میں چینی کا شیرا بھی تھا۔ہر پلیٹ سے چارو ناچار دوپوریاں کھا ئیں اور بھاگ کھڑے ہوئے آئندہ کے لیے توبہ کر لی لیاقت آباد کے مشہور گول گپے کھانے اور کسی کو ریفر کرنے کی۔آنتوں نے بھی منہ بھر کر بددعائیں دیں ۔ اتنے جتن کے بعد پہنچے تھے من کو تشفی نہ ہوئی اور گول گپے کھانے کے تشنگی بڑھ گی۔

وہیں سے رخ کیاناظم آبادکا جہاں حیدری مارکیٹ کے سامنےسڑک کے اس پار ایک نیا ریسٹورنٹ کھلا ہے۔ وہیں کھانا کھانے بیٹھ گئے ، پانی پوری یعنی گول گپوں کا پوچھا تو دستیاب تھے ، 120 روپے کی پلیٹ میں 8 پوریاں ، لوازمات کے بغیر ، موڈ خراب ہوگیا، سامنے ہی گول گپے کے دو ٹھیلے والے نظرآئے ، حیدرآبادی گول گپے اور ٹیسٹی گول گپوں کے نام سے۔ہم نے چنُا ٹیسٹی گول گپے والا ٹھیلہ ۔۔ ایک پلیٹ 50 کی 10 پوریاں ، کھٹا پانی ، میٹھی چٹنی ، کابلی چنے اور آلو کی چاٹ، سونے پہ سہاگا، گریوی بھی دستیاب ۔ یعنی کھٹا پانی اور چٹنی بار بار مانگنے پرفر ی ۔۔ بس وہیں بیٹھے بیٹھے ہم چاروں نے 2 ۔2 پلیٹیں کھا کر اطمینان حاصل کیا۔اور فیصلہ کیاکہ کبھی دل چاہا بھی تو یہاں آئیں گے باقی سب کو بائے بائے ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email