پاکستان پردہشت گردوں کی معاونت کا الزام کیوں؟

aپاکستان کے معاشی مسائل دن بدن بڑھتے ہی جارہے ہیں ‘ ایک جانب حکومت کی کمزو ر معاشی پالیسیاں ہیں تودوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ نے معیشت کو دگردگوں کردیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے گزشتہ دنوں ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس بات سے آگاہ کیا کہ پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے‘ ساتھ انہوں نے فخریہ انداز میں یہ جملہ بھی ادا کیا کہ ہمارا نام بلیک لسٹ میں آنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

پاکستان کا نام گرے لسٹ میں کیسے اور کیوں ڈالا گیا ؟ اس کے لیے ایف اے ٹی ایف کے بنیادی اغراض و مقاصد سمجھنا نہایت ضروری ہیں، جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایک کمیٹی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نام سے تشکیل دی گئی جس کے ارکان کی تعداد 37 ہے، امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، سعودی عرب سمیت دیگر24 ممالک اس کمیٹی میں شامل ہیں۔

اس کمیٹی کی بنیادی ذمہ داری عالمی سطح پر ہونے والی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک پر نظر رکھنا ہے، 23 فروری کو پیرس میں اس کمیٹی کا اجلاس ہوا ‘جس میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے نام بلیک یا گرے لسٹ میں شامل کیے گئے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اراکین نے 23 فروری کو ختم ہونے والے اجلاس میں پاکستان پر امریکا اور برطانیہ کی تجویز پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے نام کو بلیک لسٹ کرنے پر غور کیا‘ تاہم اجلاس کے اختتام پر ایف اے ٹی ایف کی باقاعدہ پریس ریلیز جاری ہوئی جس میں پاکستان کا نام بلیک لسٹ تو نہیں البتہ گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کی ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک کو متنبہ کیا کہ مذکورہ ملکوں کو 3 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اس دوران اگر انہوں نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ ختم نہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی نہ کی تو شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جاری تھا کہ مگر اس خبر کو دبانے کی کوشش کی گئی، چند ایک نامور بہادر اور دلیر صحافیوں نے گورے رپورٹرز کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور اس بارے میں کچھ اپنا بھی اظہار خیال کیا جس کے بعد قوم کو علم ہوا کہ صرف چند عناصر کی وجہ سے 20 کروڑ سے زائد عوام پر انتہائی گھناؤنا الزام عائد کردیا گیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ یہ صورتحال یک دم پیدا نہیں ہوئی بلکہ ٹرمپ کی جانب سے تقریباً ایک سال قبل کی جانے والی ہرزہ سرائی بلکہ اُس سے بھی پہلے کی ہے مگر مجال ہے کسی نے کسی بھی سطح پر قوم کو اس مشکل سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہو یا پھر کسی حکومتی شخصیت یا صحافی نے اس پر کچھ تبصرہ کرنا پسند کیا ہو، وہی ہوا وقت پر ایک بار پھر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور پانی سر پر سے گزر گیا۔

پاکستان پر جب سنگین الزامات عائد ہورہے تھے تو اُس وقت ملک میں پاناما ‘ پھر زینب، پھر شادی وغیرہ وغیرہ کے موضوع زیر بحث رہے، ارباب اختیار میں سے کچھ اُسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیتے رہے اور کچھ کی کھیلوں اور بیرونِ ملک دوروں تک دلچسپی محدود رہی، شاید اس بارے میں کسی کو بولنے کی اجازت نہ تھی۔

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تھوڑی ہمت پکڑی اور 25 فروری کے ہی روز اس سارے قصے کو بھارتی سازش قرار دیتے ہوئے مبہم انداز میں تصدیق کی کہ ’پاکستان کا نام جون تک گرے لسٹ میں شامل کردیا جائے گا‘۔
اتنا بڑا سانحہ ہوگیا لیکن قوم کو کانون کان کسی نے خبر تک نہ ہونی دی جبکہ انہوں نے وقت پر ٹیکس ادا کیا، بجلی اور گیس بل کے علاوہ اضافی رقم دی، مطمئن رہے، زندہ باد کے نعرے لگائے مگر ملک کی با اثر شخصیات نے ایک بار پھر قوم کا مذاق بنادیا، کسی کو خبر تک نہیں کہ یاکستان کا نام عالمی واچ لسٹ میں آنے پر دنیا بھر میں انہیں کیسے دیکھا جائے گا۔

آخر میں اس بات سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر پاکستان کا نام عالمی واچ لسٹ میں شامل کردیا گیا تو عالمی امداد، بیرونی قرضوں اور سرمایہ کاری کے دروازے ملک پر ایک بار پھر بند ہوجائیں گے جس کے براہ راست معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کے تقدیر کے فیصلے کرنے والے حکمران شاید یوں بھی مطمئن ہیں کہ اس سے قبل بھی پوری پاکستانی قوم 2012 سے 2015 تک دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کا الزام سہتی رہی ہے اور کبھی کسی نے اپنے حکمرانوں سے سوال کرنے کی زحمت ہی محسوس نہیں کی کہ یہ چند عناصر کے سبب آخر کیو ں پوری قوم کو دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

عمیر دبیر: محمد عمیر دبیر اے آر وائی نیوز میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں‘ بلاگز میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہیں‘ معاشرے کو مختلف عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں