The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

آج شام کی چائے اسٹیفن ہاکنگ کے نام

موت اگر زندگی کی حد ہے تو اسٹیفن ہاکنگ اسی دن مر گیا تھا جب اس کی زندگی ایک وہیل چیئر تک محدود ہوئی تھی‘ اس کے آگے امکان کی سرحدیں اپنی جسمانی قوت سے عبور کرنا اس کے لیے ممکن نہ رہا تھا‘ لیکن زندگی اگر زمان و مکاں سے ماورا بھی کسی شے کا نام ہے تو خود طبعیات کے نظریے کے مطابق مادہ کبھی فنا نہیں ہوسکتا ‘ اسٹیفن ہاکنگ سائنس کے جہان کا وہ مادہ ہے جس کا فنا ہوجانا اب کسی بھی طور ممکن نہیں ہے‘ کم از کم اس وقت تک تو نہیں جب تک یہ زمین باقی ہے جہاں اپنی کمپیوٹرائز وہیل چیئر پر بیٹھ کر وہ آسمانوں سے آنے والوں کی راہ تکا کرتا تھا۔

میں نے ایک بار ایک رپورٹ پڑھی جس میں زمان و مکاں کی کسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ ایک شام کسی انجان مخلوق یا مستقبل سے سفر کرکے آنے والے کسی مہمان کے لیے چائے کا اہتمام کرکے ان کا انتظار کررہا تھا‘ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ زمانہ ٔ قدیم میں کوئی مجبور انسان آسمانوں سے اترنے والے کسی اوتار کا انتظار کرے‘ لیکن اسٹیفن کے لیے زمانہ بدل چکا تھا‘ اس نے اپنی مجبوریوں کو خود پر حاکم نہیں ہونے دیا ‘ سو اسے کسی اوتار سے زیادہ کسی ایسی مخلوق کا انتظار تھا جو ہماری کائناتی تنہائی کا سدباب کرسکے۔

تنہائی‘ ہی وہ واحد خوف ہے جس سے انسان ازل سے لے کر آج تک خوفزدہ ہے‘ یا یوں کہہ لیں کہ تنہائی ہی وہ قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھنے اور روابط استوار کرنے کے لیے مہمیز کرتی ہے‘ اس موقع پر میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ تنہائی وہ عذاب ہے جو اس کائنات میں بھوگنا کسی صورت ممکن نہیں سو کوئی بھی اس وسیع و عریض نظام میں اکیلا و تنہا نہیں سوائے اس کے جو اس سارے نظام کا خالق ہے۔ شاید وہی اتنا طاقت ور ہے کہ تنہائی کا بوجھ تنہا ہی اٹھا سکتا ہے۔

انسان نے ہزاروں سال قبل زمین پر آباد دیگرممالک کی کھوج شروع کی تھی اور آج یہ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے اور کوئی بھی یہا ں تنہا نہیں ہے‘ اس سے آگے کا مرحلہ یہ ہے کہ کیا واحد ہم ہیں جو اس کائنات میں سانس لیتے اور سوچنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں یا کوئی اور بھی۔ اسٹیفن ہاکنگ کا ماننا تھا کہ ہمیں اپنی اس کائناتی تنہائی پر راضی ہوجانا چاہیے کہ کسی اور مخلوق کی موجودگی دونوں صورتوں میں خطرناک ثابت ہوسکتی ہے‘ یا تو وہ اس قدر معصوم ہوں گے کہ ہم ان کے حق میں آزار بن جائیں گے یا پھر وہ ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ پلک جھپکتے میں ہمیں ملیا میٹ کردیں اور ہم بے بسی سے آسمان سے اترتی ان بلاؤں کو دیکھتے رہیں جن کی قوت کے سامنے ہم بے بس ہوں گے۔

ویسے تو ہاکنگ اور بھی بہت کچھ مانتے تھےلیکن اس کو ماننے میں ہمارے لیے‘ ہم زمین کے ذلیل ترین طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے شدید ترین مسائل ہیں لیکن ایک بات جو ہم بھی مانتے ہیں اور وہ بھی مانتے ہیں وہ یہ ہےکہ’’ محبت فاتح عالم ہے‘‘۔ انہیں یقین تھا کہ ایک دن کائنات کے دروازے کھلیں گے اور ہم کسی ایسے سے ملیں گے جو ہم سے مختلف ہوگا‘ اس وقت اگر ہمارے ہتھیار کام نہ آئیں تو شاید یہ محبت کا جذبہ ہوگا ‘ جو ہماری بقا کاجواز بن سکے گا۔

آج اسٹیفن کے جانے سے ا س جہاں میں کوئی خلا پیدا نہیں ہوا‘ پاکستان میں تو شاید معدودے چند لوگوں کے سوا کسی کو پتا بھی نہ چلے کیسا نابغہ اس جہاں سے رخصت ہوچکا‘ ہاں خلل پڑے گا تو ان خلاؤں میں اور مستقبل کے اس جہاں میں ‘ جہاں سے کسی کے آنے کے امید دل میں لیے اسٹیفن ہاکنگ شام کی چائے پر انتظا ر کیا کرتا تھا۔ میں سائنسداں نہیں لیکن میں آج کی شام اپنی چائے اسٹیفن ہاکنگ کے نام سے موسوم کرتا ہوں اس امید پر کہ کبھی نہ کبھی ہم جہالت اور ذلت کے وہ لبادے اتار پھینکیں گے ‘ جو ہم نے صدیوں سے خود پر مسلط کررکھے ہیں اور پھر ایک دن کائنات کے دروازے کھلیں گے اور افق کے اس پار سے آنے والے کے استقبال کرنے والوں میں ہم بھی شامل ہوں گے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں