The news is by your side.

کرکٹ، غیرت اور خودداری: کیا پاکستان نے بھارت کو بڑا سرپرائز دے دیا؟

اس وقت پوری کرکٹ کی دنیا میں ایک ہی ہلچل ہے! حکومتِ پاکستان اور پی سی بی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے آئی سی سی کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی منظوری تو دے دی ہے، لیکن ایک بڑی شرط کے ساتھ: ہم 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ہونے والے ہائی وولٹیج میچ کا بائیکاٹ کریں گے۔

یہ کوئی جذباتی یا وقتی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گندی سیاست کے خلاف ایک زوردار تھپڑ ہے جس نے کرکٹ جیسے خوبصورت کھیل کو زہر آلود کر دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے کرکٹ کی روح کے منافی کہیں گے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستان آج ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے۔

ہم اس جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش نے تو ورلڈ کپ سے دستبرداری کا اعلان ہی اس لیے کیا کیونکہ آئی سی سی نے ان کے میچز بھارت سے باہر کسی نیوٹرل وینیو پر کرانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے بجائے سکاٹ لینڈ کو ان کی جگہ شامل کر کے اپنی ترجیحات واضح کر دیں۔

دوسری طرف، محسن نقوی (جو پی سی بی چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے وزیر داخلہ بھی ہیں) نے دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ جنوری 2026 میں بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات، جن میں ہمارے 30 سے زائد جوان اور شہری شہید ہوئے، ان کے پیچھے بیرونی ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ محسن نقوی کا یہ عزم کہ وہ ان سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں گے، اس بات کی دلیل ہے کہ قومی غیرت سے بڑھ کر کچھ نہیں، چاہے وہ کرکٹ کا میدان ہی کیوں نہ ہو۔

ماضی کی مثالیں:

جو لوگ شور مچا رہے ہیں، شاید وہ تاریخ بھول گئے۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا کہ کسی ملک نے اپنے اصولوں یا سیکیورٹی کے لیے پوائنٹس کی قربانی دی ہو:

1996 کا ورلڈ کپ: آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے کولمبو میں بم دھماکے کے بعد سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

2003 کا ورلڈ کپ: انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انگلینڈ نے زمبابوے اور سیکیورٹی وجوہات پر نیوزی لینڈ نے کینیا کے خلاف کھیلنے سے بائیکاٹ کیا تھا۔

پاکستان آئی سی سی کے قوانین (کلاز 16.10.7) کے تحت اس واک اوور کے نتائج بخوبی جانتا ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ بھارت کو دو پوائنٹس مل جائیں گے اور ہمارا نیٹ رن ریٹ بھی متاثر ہوگا، لیکن صاحب! اصولوں کا سودا کر کے جینے سے بہتر ہے کہ سر اٹھا کر پوائنٹس ہار دیے جائیں۔

بھارتی منافقت کا جواب: اب تماشا

ختم!

بھارت نے برسوں سے کرکٹ کو سیاست کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ کبھی “حکومتی اجازت” کا بہانہ بنا کر پاکستان آنے سے انکار، تو کبھی 2023 کے ایشیا کپ اور 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں “ہائبرڈ ماڈل” کی ضد۔ انتہا تو تب ہوئی جب **2025 کے ایشیا کپ** میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادو اور ان کی ٹیم نے میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے تک سے انکار کر دیا، اور اس اسپورٹس مین شپ کی دھجیاں اڑانے کو “احتجاج” کا نام دیا۔

اگر وہ کرکٹ کے میدان کو سیاسی اکھاڑا بنا سکتے ہیں، تو ہم سے یہ امید کیوں رکھی جاتی ہے کہ ہم بس خاموشی سے کھیلتے رہیں؟ پاکستان نے اب ان کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہم نے پیسے اور ریونیو کی دوڑ کے بجائے اپنی خودداری اور کھیل کی حقیقی روح کو مقدم رکھا ہے۔

انشاء اللہ، پاکستان کا یہ قدم دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ کبھی کبھی “نہ کھیلنا” ہی انصاف کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں