The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

سفرنامۂ حجاز: اے سانس ذرا تھم، ادب کا مقام ہے

کیا واقعی دو ہفتے بعد میری زندگی بدلنے والی ہے؟۔اس کتاب کا وہ صفحہ الٹنے والا ہے جس کی راہ میں ہزارہا قسم کے مسائل الجھے ہوئے تھے۔یہ سوال میں نے اپنے جرنل پر تب لکھا جب مجھے شک تھا کہ میاں صاحب کا ارادہ بدلے گا،ویزہ نہیں لگے گا،چھٹی کہاں ملے گی،بچوں کے امتحان یا کوئی بھی بیکار کا مسئلہ ہمارے قدموں سے لپٹے گا اور خدا کی عظیم ترین سرزمین کی زیارت ہماری حدوں سے ادھر ہی رہ جائے گی۔مگر اس بار عظیم الشان دربار سے منتخب لوگوں میں ہم خستہ تنوں کے نام منظور ہو چکے تھے اور خدا اور اس کے محبوب کے در سے ہماری حاضری کے سمن جاری ہو چکے تھے سو اس بار نہ میاں کا ارادہ بدلا،نہ ہائی کمیشن نے ہمارے ویزوں پر سوال اٹھایا،نہ آفس کی میٹنگز آڑے آئیں،نہ اسکول نے تیور دکھائے اور ٹکٹس ہر رکاوٹ سے کامران ہو کر ہمارے ہاتھ میں پہنچیں تو دل کو یقین ہوا کہ اب کچھ نہیں بچا ہمیں روک سکنے والا۔

اب کی بار تو سر کے بل بھی جانا ہی ہو گا۔تو واقعی کل ہماری زندگیاں بدلنے کے لئے مغرب کی سمت اک اڑان بھریں گی اور نجانے کیا کیا کاٹھ کباڑ کاندھے پر لادے لے کر جائیں گی اور وہاں پر ہمارے گناہگاروں کے لیے بنے کباڑ خانے میں فارمیٹ ہونے کے لئے جمع کروا آئیں گی۔پھر ہم اپنی زندگیوں کی ڈسک فیکٹری ورژن میں لے کر جھولی میں کیا کیا خزانے اور سر پر کیسے کیسے تحائف سے لدے پھندے لوٹیں گے کہ اس بار اس بادشاہ کے مہمان ہونے جا رہے ہیں جس سے بڑی اس زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں۔اور اس کے محبوب کی لحد مبارک پر حاضری دینے والے ہیں کہ جس کے نور سے بڑھ کر آج تک دنیا میں اجالا نہ ہوا۔

کون جانتا ہے کہ اگلے پانچ دن زندگی کا کیا کچھ بدل دیں،کس قدر بدل دیں مگر اس کے سوا اور کوئی توقع نہیں کہ اس سرکار کے ہاں سے جھولی بھرے بغیر کوئی لوٹایا نہیں جاتا۔تو ہم بھی جھولی پھیلائے مغفرتیں،رحمتیں،برکتیں اور نوازشیں دامن میں بھرنے کی آس لگائے مٹی کے لبادے اوڑھے اس اصل مالک کی طرف محو پرواز ہونے والے ہیں کہ جس نے ہماری روحوں کو اپنے اصل پر بنا کر اسے مٹی کے کمتر جسموں میں قید کر دیا تو اپنے اصل سے ملنے کو بیتاب روحیں مٹی کے میناروں کو دھکیلتی لے جائیں گی۔

ان مٹی کے محلات پر تنے اپنے گنبد نما سروں کو اس کے سیا ہ پوش محل کی دیواروں پہ ماریں گی اور قید و بند کی صعوبتوں کے نوحے پڑھیں گی،دہائی دیں گی،اور ا س کی بنائی دنیا کے گورکھ دھندوں کے مرثیے سنائیں گی اود وہ سیاہ کملی والے کا عاشق اپنے مقاپ پر بیٹھ کر پوری کائنات میں روح پھونک دینے والا سب سنے گااور اس قدر سنے گا کہ جتنا فیس بک کا ڈیٹا کولیکشن ساری دنیا کو گلوبل ویلج میں گھیر کر بھی سمیٹ نہیں پاتا۔

تو پھر یقیناآنے والی صبح اک نئی زندگی کا جنم ہونے والا ہے۔اک ایسی پوتر اور نوزائیدہ زندگی کہ جس کے سمن دکھانے کو نہ تو کسی فقیر نے سڑک پر ہمارا پلو تھاما اور دھمال ڈال کر بتایا کہ تیرے نام کی ٹکٹ کٹ چکی۔نہ کسی حالیہ خواب نے کوئی پیشن گوئی کی،کسی موچی،بڑھئی ،اور نہ ہی کسی بوڑھی عورت نے آنکھ ہی ماری۔ہاں مگر آج سے کوئی بیس سال پہلے کا اک سبزے سے اٹا خواب کہ جس میں سولہ سترہ سال کی کمسن لڑکی پیارے نبی کے روضہ رسول ﷺ کے سامنے بیٹھی درود پاک پڑھتی تھی۔اور پہلو میں بیٹھی کوئی خاتون اس کے ہاتھ میں اک کتابچہ دیتی اور کہتی تھی کہ’’درود پڑھو‘‘۔

پھر بیس سال گزر گئے درود پاک کو اس لڑکی کی ہر دھوپ چھاؤں کا آسرا بنے،اور آج وہ کمسن لڑکی اک تھکی ماندی عورت میں تبدیل کر اس حاضری کے قابل ہو سکی۔وہ حاضری جو دو دہائیوں پہلے دیکھے جانے کے باوجود آج بھی چشم تصور کو اسی وضاحت کے ساتھ یاد ہے جیسے یہ کل رات کا واقعہ ہو۔بیس سالوں میں ہزارہا خواب،لاکھوں تعبیریں،ڈھیروڈھیر حقیقتیں،اور موج در موج انٹرنیٹ کی لہریں ،سب مل کر بھی اس خواب کے اجالے پن کو دھندلا نہ کر سکے۔دس سال ہی پرانا کوئی بارہا دیکھا جانے والا مشہور زمانہ ڈرامہ بھی شاید اتنی وضاحت سے یاد نہ ہو جیسے سبز رنگ میں لپٹی روضہ رسول کی جھلک آج بھی نگاہوں کے سامنے اسی تابانی سے چمکتی اپنی سچائی کی تصدیق کرتی ہے۔

تو اب ہمارا پہلا قدم رحمتوں کی سرزمین پر پیارے نبی ﷺکے مقدس شہر میں ہو گا کہ جلالی رب کے در پر پہنچنے سے پہلے اک شفیق اور مہربان سفارش بہت ضروری ہے، اور محب کو خوش کرنے کے لیے محبوب کے قدموں کو چھونا کامیابی کی ضمانت ہے۔تو زندگی تو اسی لمحے بدل جائے گی جب وہ سبز گنبد آنکھوں کے سامنے کسی دلنشین نظارے کی صورت موجود ہوگا۔اور ہماری سانسیں اس ہوا سے زندگی پائیں گی کہ جس میں آج بھی کالی کملی والے کی سانسوں کی ٹھنڈک ہو گی،ان ہواؤں میں جی سکیں گے جن پر وہ وقت سے بہت ادھر ہی سہی مگر اپنی تاثیر سے ذرے کو آفتاب کرتے ہیں۔

زندگی تو اس کی دہلیز پر قدم دھرتے ہی ضرور بدل جائے گی۔گھڑی دو گھڑی کی گرم موبائل پر ٹکی نظر،نیوز فیڈ پر اوپر سے نیچے اور نیچے سے آتی اگر چند ہی لمحات میں سر دکھا کر دماغ کو جام کر سکتی ہےتو اس مہربان سبز گنبد کی تاثیر نجانے کیسی کیسی ٹھنڈک اور قسمت کی پڑیاں ہماری روحوں میں اتار دے،کون جانتا ہے۔ہم ٹیکنالوجی کی جدید دنیا کے باسی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ہر آواز سے آواز ملانے والے کیا جانیں کہ مکہ اور مدینہ کی ٹھنڈی ہوائیں ہماری کون کون سی گرہ کھول دیں،کون سے جام ہوئے دروازوں کو توڑ دیں،اور کہاں کہاں کے ٹوٹے پرزوں کو پھر سے چالو کر دیں! کون جانے!یہ تو سفرِ حجاز ہی طے کرے گا کہ دو دن بعد زندگی بدلنے کے یہ جھکڑ کس کس سمت سے اڑیں گے کہ دربار بادشاہﷺ سے ہمیں بھی پیام آیا ہے۔

جاری ہے
*********

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں