The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

وہ عزت کیا ہے جو اللہ دیتا ہے

سال1960کی بات ہے، میں چائے پینے پاک ٹی ہاؤس میں گیا تو ایک کونے کی میز خالی نظر آئی، کچھ دیر بعد سامنے والی کرسی پر بھی ایک شخص آ بیٹھا، رسمی سلام دعا کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو پتا چلا کہ وہ نقوش کے مدیر محمد طفیل ہیں، کہنے لگے ’’حلقہ ارباب ذوق کا میرا جی ڈے ہے، چلو گے؟‘‘ میں ان کے ساتھ ہولیا۔

چند قدم دور موڑ پر مال روڈ تھی جس کے کونے پر اسلحہ فروش آج بھی ہیں، اوپر وائی ایم سی اے ریسٹورنٹ میں تقریب تھی جس میں گنتی کے چند شرکاء تھے۔ فیض صاحب1949کے پنڈی سازش کیس میں چار سال کی جیل کاٹ کر مزید محترم ہو گئے تھے، وہ آئے تو ان کے ساتھ سبط حسن بھی تھے اور ان کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والے سی آئی ڈی کے دو کارکن بھی۔

انہیں اس کی ذرا پروا نہ تھی، لباس کے معاملے میں فیض صاحب ہمیشہ کی طرح ایک بشرٹ اور پتلون میں اور سبط حسن بہترین سوٹ اور فیلٹ ہیٹ میں پائپ پیتے ہوئے، اس مثلث کا تیسرا ضلع خواجہ خورشید انور بعد میں آئے۔ اب میں نے انجمن ترقی پسند مصنفین میں بتایا کہ سبط حسن سے مل چکا ہوں تو خود بے حد محترم ہوگیا۔

فیض صاحب آخری بار چین کے قومی دن پر سفارت خانے میں نظر آئے تو ایک صوفے پر تنہا بیٹھے تھے، ایک ہاتھ میں جام دوسرے میں سلگتا سگریٹ۔ اِرد گرد دس بارہ افراد نیم دائرے میں کھڑے ان کو عجیب عقیدت اور محبت سے بس دیکھے جا رہے ہیں، کسی میں ہمت نہیں کہ وہ اتنے بڑے آدمی کے ساتھ جا بیٹھے حالانکہ ان کی انکساری اور خوش مزاجی وہ صفت تھی جس کا اعتراف ان کے دشمنوں نے بھی کیا ، وہ ساتھ بیٹھنے والے کی عزت و تکریم کرتے لیکن پرستش کرنے والوں کے نزدیک وہ دیوتا سمان تھے، ان کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا تھا۔

بہت بعد میں یہی منظر میں نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کے ساتھ بھی دیکھا، ڈاکٹر منظور احمد کی بیٹی کی شادی تھی اور وہ تنہا صوفے پر تھے، تین وائس چانسلر جمیل جالبی، احسان رشید اور ڈاکٹر منظور ان کے سامنے دست بستہ کھانے کی پلیٹ لیے کھڑے تھے کہ وہ کسی ایک سے لے لیں، وہ تینوں شاگرد تھے اور استادِ محترم کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے، شادی کے کچھ شرکا آئے، جھک کر ڈاکٹر سلیم الزماں سے ہاتھ ملایا اور چلے گئے، ان میں راقم بھی تھا۔

عزت کیا ہوتی ہے جو اَز خود دل سے ملتی ہے، کسی تبلیغ اور لابی یا میڈیا کی سپورٹ کے بغیر۔ اس کی ایک جھلک میں نے فلم فیئر ایوارڈ کی کسی تقریب میں دیکھی جب مفلوج اور بوڑھے استاد بسم اللہ خان سفید پاجامہ کرتا اور ٹوپی میں وھیل چیئر پر لائے گئے (ان کو پنڈت نہرو نے15 اگست1947کو پرچم کشائی کے وقت شہنائی بجانے کے لیے ساتھ رکھا تھا)۔

اُسی وقت شوبز کے گلیمر سے چمکتا دمکتا، تالیاں بجاتا خوش پوش مجمع ایک دم کھڑا ہو گیا، استاد بسم اللہ خان جھک جھک کے تسلیمات بجا لاتے آگے بڑھتے گئے لیکن نوجوانوں کا وہ مجمع اس وقت تک عقیدت سے کھڑا تالیاں بجاتا رہا جب تک وہ اسٹیج پر نہیں پہنچ گئے۔

اسٹیج پر کیمرے نے فوکس کیا تو ان کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، سونے یا چاندی کا ایک تمغہ اس عزت کے آگے کیا چیز ہے، سرکاری طمطراق اور بینڈ باجے یا اکیس توپوں کی گھن گرج کے ساتھ ملنے والی مصنوعی عزت کی کیا اوقات ہے؟

عزت جو مرنے کے بعد بھی ملی، ان میں چار افراد کا شمار کیا جاسکتا ہے، شرکا کی تعداد کے ریکارڈ کے حوالے سے چرچل کا جنازہ، یوگو سلاویہ کے مارشل ٹیٹو کا جنازہ، مصر کے صدر ناصر کا جنازہ اور لیڈی ڈایانا کا جنازہ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں