The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

موت کے منتظر بچے کی ماں سے دل سوزخواہش

موت ایک ایسی شہ یا جام ہے جس کا مزہ ہر شخص کو چکھنا ہے، کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کو اپنی موت کا وقت معلوم ہوجائے تو پھر کیا گزرے گی، دماغ میں کیسے سوالات پیدا ہوں گے۔حضرتِ آدم سے لے کر قیامت تک دنیا میں جو بھی جاندار آیا اُسے موت کا مزہ چکھنا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی اصل زندگی کا آغاز ہے جس کے بارے میں حکم خداوندی بھی ہے۔

میرے ایک عزیز جن کا سب سے بڑے بیٹے کا نام ’مصباح‘ ہے اور وہ مرض الموت میں مبتلا ہے، 13 سال کا یہ بچہ کراچی کے ایک فلاحی اسپتال میں زیر علاج تھا جہاں اُس کی حالت روز بہ روز بگڑتی جارہی تھی تو ڈاکٹرز نے والدین کو مشورہ دیا وہ گھر لے جائیں اب کچھ نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مصباح کے اندورنی اعضاء، پھیپھڑے، جگر، گردہ و دیگر سکھڑنا شروع ہوگئے اور اب یہ چند ہی دن کا مہمان ہے، مصباح کو سانس لینے میں شدید دشواری ہورہی ہے یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کا جواب سُن کر والدین پر قیامت تو گزری مگر انہوں نے اپنے لعل کی آسانی کے لیے آکسیجن گیس سلینڈر خرید لیا جس کی مدد سے وہ سانس لیتا ہے۔

مصباح اپنے مکمل ہوش میں تھا کہ اسی دوران ڈاکٹرز نے اُس کی جلد آنے والی موت کی خبر سنائی، ماں نے جب خبر سنی تو اُس کا جگر گویا چھلنی ہوگیا والد کو معلوم ہوا تو وہ اندر سے کھوکھلے ہوگئے۔ حالانکہ مصباح کے ساتھ بچپن میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہوگیا یعنی بالکل مفلوج ہوگیا اور اب تک اُس کی تمام ضروریات ماں نے ہی پوری کیں۔

ڈاکٹروں کا جواب کا سُن کر جہاں والدین اہل خانہ پر قیامت کے پہاڑ ٹوٹے وہیں مصباح کے دل چیر دینے والے سوالات اور خواہشات کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔

مصباح اپنی ماں سے کہتا ہے کہ ’امی آپ بھی میرے ساتھ چلیے گا، قبر میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اور آپ کو معلوم ہے مجھے اندھیرے سے کتنا خوف آتا ہے‘۔

’امی میں کبھی آپ کے بغیر نہیں سویا ، اگر آپ وہاں نہیں ہوں گی تو مجھے بہت ڈر لگے گا نیند بھی نہیں آئے گی، آپ کو دیکھے بغیر مجھے سکون نہیں ملتا، اب اگر میں چلا گیا تو پھر ہم کب ملیں گے ، میرے کھانے ، باتھ روم وغیرہ کی ضروریات کون پوری کرے گا’۔

ماں مصباح کی باتیں سُن کر زاروقطار روز رہی ہے اور رب سے بہتری کی دعاؤں میں مصروف ہے مگر باپ نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بیٹے کو جھوٹی تسلی دی کہ ’میں تمھارے ساتھ چلوں گا، اندھیرے کی کوئی بات نہیں، فرشتے ہمارے لیے ٹارچ لائیں گے باقی تمھاری امی کو بہن بھائیوں کے پاس چھوڑ دیں گے تاکہ قیامت کے روز ہم سب پھر مل سکیں’۔

یقینا ً موت کا ایک وقت معین ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا ، لیکن بچے کو ڈاکٹروں کو اتنا تو خیال کرنا چاہیے تھا کہ یہ روح فرسا خبر ماں باپ کو الگ سے بلا کر بتاتے ، کہ وہ بچہ جس نے آج نہیں تو کل اس دنیا سےچلے جانا ہے ، کم از کم اس کم سنی میں موت کے صدمے میں مبتلا نہ ہوتا ، اور نہ ہی موت کے خوف سے یوں سہم سہم کر روتا اور اپنے ماں باپ کورلاتا ۔

آئیے ہم سب دعا کریں کہ وہ خدا جو سب سے بڑا شافی ہے ، اس بچے کو شفا دے اور اس کے والدین کو ہمت و حوصلہ دے کہ وہ اپنے بچے کے مشکل سوالات کے جوابات دے سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email