The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

شادی کی رسمیں یا فضول خرچی؟

دنیا میں معاشرتی بگاڑ کی بدولت ، نفسیاتی بیماریاں بھی جدت کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔جس کا باعث بنی نوع انسان خود ہے۔ہمیشہ کی طرح پاکستان میں پھر سے مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔مانتے ہیں کہ ریاست قصور وار ہیں۔ لیکن ! ہم لوگوں نے بھی معاشرے کی رسم و رواج اور فریضوں کی آڑ میں بہت سی پریشانیوں کو پروان چڑھایا ہے۔ اور یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔

شادی بیاہ کی فضول خرچیوں سے ہمیں اپنے اسراف ہونے کا باخوبی علم ہوگا۔شادی بیاہ ایک فطری عمل ہے۔ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق نکاح برائیوں سے روکتا ہے۔انبیاء اکرام کی سنت ہے۔شادی خاندان بڑھانے کی علامت ہے۔اسی لئے اس موقع پر خاندان کے افراد کی خوشی قابل دید ہے۔اسلام ہر گز ایسے موقع پر خوشی سے نہیں روکتا۔بلکہ نکاح کے بعد دلہے کی طرف سے ولیمہ کا اہتمام، شرعی طریقے سے خوشی کا اظہار کرنا ہے۔ تاہم لوگ دیگر بہت سی رسموں کی طرح شادی کی تقریبات میں بھی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ سلسلہ منگنی سے شروع ہوتا ہے۔منگنی کی رسم، رشتہ طے ہونے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔جس میں لاکھوں کے زیورات اور مہنگے ملبوسات تحفے میں دیئے جاتے ہیں۔مختلف قسم کے پکوان اور مشروبات سے مہمانوں کی تواضح کی جاتی ہے۔اسے ہم شادی سے پہلے شادی کی تقریب بھی کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ ایسی تقریب پر خرچ ہونے والی خطیر رقم سے متوسط طبقے کی ایک سے زائد شادیاں ممکن ہیں۔ہم لوگوں نے منگنی سے شادی تک کے دورانیے کو بھی درد سر بنا رکھا ہے۔اس درمیانی وقت میں بھی مختلف تہواروں پر قیمتی تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔

شادی سے چند دن قبل ہی مہمانوں کا جم غفیر اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ہفتوں پہلے ہی مٹھائیاں اوردعوتیں اڑائی جاتی ہیں۔مہندی کی رسم میں لاکھوں روپے ’اسٹیج‘ کی تزئین و آرائش میں صرف کئے جاتے ہیں۔مہنگے ترین ملبوسات پہنے جاتے ہیں۔مختلف اقسام کے مہنگے پکوانوں سے مہمانوں کی تواضح کی جاتی ہے۔آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت سے معززین شراب و شباب اور رقص و سرور کی محفلیں ترتیب دیتے ہیں۔ایسی پرکشش محفلوں میں خاص مہمانوں کی خاص قسم کی کرنسیوں سے تواضح کی جاتی ہے۔جیسے ڈالر،یورو،ریال اور درہم وغیرہ۔

نکاح یعنی بارات والے دن بھی روپے اور دیگر کرنسیوں کا مظاہرہ پوری آب و تاب سے کیا جاتا ہے۔آتش بازی کی جاتی ہے۔ لڑکی والوں کی طرف سے ،ہزاروں کی تعداد میں مہمانوں کے جم غفیر کی بکرے،مچھلی اور دیگر مہنگے پکوانوں سے تواضح کی جاتی ہے۔ صرف اس ڈر سے کہ لڑکی کے سسرال والے اسے طعنے نہ دیں،دلہے کو مہنگی موٹر کار،زیورات اور دیگر تحائف سے نوازا جاتا ہے۔لڑکے والوں کی طرف سے ولیمے پر پوری شان و شوکت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ان تقریبات کی آڑ میں ،قریب پچیس سے تیس فیصد کھانے کا ضیاع ہوتا ہے۔کئی دنوں تک اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔باقاعدہ داد بھی وصول کی جاتی ہے۔

دولت کی نمائش کے اس نہ رکنے والے سلسلے نے معاشرے کو جکڑ کر رکھ دیا ہے۔بہت سے متوسط طبقہ کے لوگ معاشرے کی اس غلط روایت کی نظر ہو رہے ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔لوگوں کی زندگیاں اس جھوٹی شان شوکت کی نظر ہورہی ہیں۔ ’برادری اور انا ‘لوگوں کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔زندگی بھر کی جمع پونجیاں بھی بچوں کی شادیوں کے لئے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔سود پر قرض لے کر شادیاں ہو رہی ہیں۔معاشرے میں دکھاوے کی یہ فضا ،بہت سے مجبوروالدین کو آگ کی لپیٹ میں جھونک رہی ہے۔جو نفرت اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دے کر معاشرے میں برائی کا سبب بن رہی ہے۔بہت سی شادیاں ان فضول خرچیوں،جھوٹی انا،اور رسموں کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔لڑکیوں اور لڑکوں کی جوانی مدھم ہو رہی ہے ۔برائیاں جنم لے رہی ہیں۔

ہمیں خوشیاں ضرور منانی چاہئیں، لیکن خیال کرنا چاہئے کہ کہیں حد سے تجاوز نہ ہو۔متوسط طبقے کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں۔ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اپنانا چاہئے۔اسلام بھی میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔

’’کھاؤ، پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘۔

بچوں کی اچھی تربیت کرنی چاہئے ۔انہیں ظاہری زیورات کی بجائے ،تعلیم و تربیت کے زیورات سے آراستہ کرنا چاہئے۔جہیز کی بجائے ،جائیداد کی تقسیم میں عدل کرنا چاہئے۔
گزشتہ حکومتوں نے توکوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا۔موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ، شادی بیاہ اور دیگر رسومات پر ہونے والی فضول خرچیوں پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔یہ بھی مہنگائی سے پسی عوام کے لئے کسی بڑے ریلیف سے کم نہیں ہوگا۔جس سے معاشرے میں توازن قائم ہوگا اور لوگوں کی پریشانیاں کم ہوں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں