بھارت جواب دے، امن چاہتا ہےیا جنگ

چناؤقریب آتے ہی مودی سرکار کا جنگی جنون اپنی انتہاوں کو چھونے لگا ہے اور یقیناًاس کی متعدد وجوہات ہیں۔ مودی نے2کروڑ نوکریاں دینا تھیں، کسانوں کو50فیصد منافع دینا تھا۔100 جدید شہر بسانےتھے، دریائے گنگا صاف کرنا تھا مگر مودی سرکار اپنے وعدے وفا نہ کرسکی۔ پھر جب چناو ٔقریب آئے تو ایک کے بعد ایک سفارتی محاذ پر ناکامیاں بھی مودی سرکار کا مقدر بننے لگیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے 21ارب ڈالر کے اقتصادی معاہدے پہلے ہی مودی سرکار سے ہضم نہیں ہوپارہے تھے کہ سعودی ولی عہد کے دورۂ بھارت پر بھی مودی سرکار اپنا کوئی بھی ہدف حاصل نہ کرسکی ۔ نہ تو سعودی ولی عہد نے بھارت میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی اور نہ پلوامہ حملے کے تناظر میں بھارتی بے بنیاد دعووں پر یقین کیا ۔

پلوامہ ڈرامہ ایک بہت بڑی بھارتی سازش تھی ، جس کے ذریعے مودی سرکار نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی ناکام کوشش کی۔ جیسے جیسے پلوامہ حملے کے تناظر میں مودی سرکار کے پاکستان پر لگائے جھوٹے الزامات کا پول کھلتا جائے گا، مودی سرکار ویسے ویسے اپنی عوام کی حمایت سے محروم ہوگی۔ مودی سرکار عالمی برادری کو پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس بے بنیاد الزام تراشی نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کردیا ہے۔

دنیا بھارت کی فلمی حرکتوں سے بیزار ہوچکی ہے۔ وزیراعظم پاکستان متعدد مرتبہ بھارت سے پلوامہ حملے کے متعلق بھارتی الزامات کا ثبوت مانگ چکے ہیں اور کارروائی کا بھی یقین دلاچکے ہیں مگر اس کے باوجود بھارت تاحال کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس پر مزید یہ کہ بھارتی لڑاکا طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرکے جو نیا تماشا دنیا کے سامنے لگایا ہے ،اس کے نتیجے میں بھارت کو عالمی سطح پر مزید سبکی اٹھانی پڑرہی ہے۔ بھارت اپنے اس دعوے کہ ’بھارتی فضائیہ نے جیشِ محمد کے ٹھکانے تباہ کردئیے اور ساڑھے تین سو دہشت گرد ہلاک کردئیے ‘ کا کوئی ثبوت تاحال پیش کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔

جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو احساس تک نہیں کہ وہ غلطی پر غلطی کا مرتکب ہورہا ہے۔ بھارت پہلے ہی عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس تقریباً ہار چکا ہے۔ اس کے بعد پلوامہ ڈرامہ اور بالاکوٹ ہندی فیچر فلم بھی بری طرح فلاپ کروا کر بھارت عالمی برادری میں ایک مذاق بن چکا ہے۔ مودی سرکار کے پاس اگر اپنے دعووں کے ثبوت ہیں تو میں بھارت کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ عالمی برادری کے سامنے خود کو سچا ثابت کرے۔

جہاں تک مودی سرکار کے جنگی جنون کا تعلق ہے تو اس وقت عالمی سطح پر تنہابھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان دوست ممالک کو اعتماد میں لے چکی ہےاور افواج پاکستان بھارت کو سبق سکھانے کےلیے پوری طرح تیار ہیں ۔ جس کا اظہار وزیراعظم پاکستان، وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت حزبِ اختلاف کے مکمل طور پر ہم آہنگ مشترکہ بیانیے سے بخوبی ہوتاہے۔ اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں داخلی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں ۔ پاکستانی عوام افواج پاکستان کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اگر بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یقیناً جنگ مسلط کرنے کی صورت میں دشمن کے دانت کھٹے کرنے کےلیے پاکستان تیار اور افواج پاکستان مکمل طورپر مستعد اور چاک و چوبند تیار کھڑی ہیں ۔

ہم بار بار بھارت کو امن کا راستہ دکھا رہے ہیں ، سمجھا رہے ہیں ۔ ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو تاریخ مسٹر مودی کو بھارت کو شمشان گھاٹ میں بدلنے کے ذمہ دار کےطورپریادکرے گی ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں پاکستان بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہے۔ بقول ڈی جی آئی ایس پی آر کہ ’اس مرتبہ ہمارا ردعمل مختلف ہوگا‘۔ اس ضمن میں دو بھارتی طیارے گرا کر پاک فضائیہ مودی سرکار کو پہلا تحفہ بھیج چکی ہے ، اگر بھارت باز نہ آیا تو مزید تحائف کا انتظار کرے۔ افواج پاکستان بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں ۔ اللہ افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو !!! پاکستان زندہ باد !!!

عائشہ نور: عائشہ نور سیاسی تجزیہ کار ‘ بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں