خانہ بدوش کے خواب… عابد میر کے قلم سے

خانہ بدوش کے خواب
مصنّف: عابد میر
2006 سے 2015 تک لکھے گئے کالموں کامجموعہ

یہ کتاب دس برسوں کے دوران لکھے گئے کالموں پر مشتمل ہے، کالم کے بارے میں ایک عام جملہ ہے: اِس کی زندگی صرف ایک دن کی ہوتی ہے۔ یعنی اگلے دن کا اخبار نکلتا ہے تو پچھلے دن چھپنے والا کالم مَر جاتا ہے، اسے دوبارہ قاری نصیب نہیں ہوتا؛ یا اس میں ایک دن سے زیادہ آگے سفر کر کے خود کو پڑھوانے کی قوّت ہی نہیں ہوتی۔

شاید پچانوے فی صد کالموں سے متعلق یہ بات درست ہو۔ لیکن جیسا کہ کئی لکھنے والوں نے کالم کے فریم میں رہتے ہوئے کالم کے فارمیٹ کو تبدیل کیا، اور یوں اس کی زندگی کچھ طویل ہو گئی، اور کچھ موضوعات اس طور مضمون کیے گئے جس سے اس کی افادیت اور مطالعہ کیے جانے کی قوّت اگلے دن سے بھی کہیں بہت آگے نکل گئی۔ اسی طرح، عابد میر کے کالمز کا معاملہ کچھ الگ ہے۔

لکھتے ہوئے اکثر اچھے کالم نگاروں کا شکوہ سنسر شپ سے متعلق ہوتا ہے، لیکن اس حقیقت کو اچھے اچھے لکھاری بھی زندگی بھر محسوس نہیں کر پاتے کہ سب سے خوف ناک سنسر شپ خود ان کے اندر موجود رہی۔ عابد میر نے اپنے اندر ایسا کوئی جعلی ضمیر کبھی تعمیر نہیں ہونے دیا جس نے انھیں شرمندگی کی کسی بات پر کھل کر شرمندہ ہونے سے روکا ہو، بے عزّتی کے واقعات کو نظر انداز کر کے، یا ان کی الگ توجیہ کر کے اس پر برملا احساس کرنے سے محروم کر دیا ہو، یا چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے پر جعلی ضمیر نے ٹوکا ہو کہ لوگوں کے سامنے خود کو بڑا ظاہر کرو۔ دراصل ان کے کالم اس قسم کے احساسات سے بھرے ہوئے ہیں، شاید یہی وجہ ہو، کیوں کہ اس وقت میرا مقصود ان کا کوئی گہرا تجزیہ کرنا نہیں ہے، کہ 2022 میں یہ کالم پڑھتے ہوئے نہ تو کسی قسم کی بوسیدگی کا احساس ہوتا ہے، نہ بوریت کا۔

عابد میر انھی کالموں کی وجہ سے کوئٹہ سے نکل کر باقی پاکستان کے ادبی اور اخباری حلقوں میں پہچانے گئے، ہر جگہ ان سے پیار کرنے والوں کی کوئی کمی نہ دیکھی گئی، دوستوں کا اچھا حلقہ بنا، اور ان کے مختصر وجود کو وسیع بلوچستان کے طور پر دیکھا جانے لگا، یعنی بلوچستان کا ایک نہایت قابلِ اعتبار اور حقیقی نمایندہ۔

اس کتاب کو وقت کے اعتبار سے 3 فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ابتدائی دور کے کالموں میں ان کی تحریر کا کچا پن بلاشبہ واضح طور پر نظر آ جاتا ہے، لیکن اُس وقت بھی ان میں اتنی دل چسپی محسوس کی گئی کہ جلد ہی ان کے کالم بلوچستان کے اہم ترین اور بڑے لوگوں کی نظروں میں آگئے۔ کہیں کوئی اکا دکا کالم پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ اسے مجموعے میں شامل نہ کیا جاتا تو اچھا ہوتا، اور کوئی منفی فرق بھی نہ پڑتا، تاہم، مجموعی طور پر میں یہ ادراک کر کے ششدر رہ گیا کہ ایک نوجوان نے اپنے صوبے پر آئے ہوئے، تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے ہوئے فرزانگی کے عالم میں جو کچھ لکھا، وہ اس دور کی ایک فوری اور حقیقی ہسٹری کا روپ دھار گئی ہے۔

کالم کہانی سے آغاز کرتے ہوئے عابد میر آخر کار کالم کے فارمیٹ تک آئے، اور اس دوران وہ جو دل کا درد رقم کرتے گئے، اس نے بلوچستان کی ایک ایسی حقیقی پیٹنگ بنا دی ہے جسے دیکھتے ہوئے آگ کے دریا کی تصویر کا گمان ہوتا ہے، اسی لیے چار سو صفحات کی اس موٹی نظر آنے والی کتاب کو پڑھتے ہوئے ہر پل یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ آگ کے دریا میں کسی محفوظ کشتی میں بیٹھ کر گزر رہے ہوں (لیکن کیا واقعی آپ کو خود محفوظ کشتی میں بیٹھا محسوس کر رہے ہیں؟)۔

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ابھی اچھے اچھوں کو (بالخصوص اردو ادب کے نقاد تک) پاکستان میں نائن الیون سانحے کے علاقائی مضمرات کا ادراک نہ ہوا تھا، اور تب کوئٹہ کے اس نوجوان نے واضح طور پر کہا کہ ہماری نسل کا شعور نائن الیون کی گرد سے اٹھا ہے، ایک ایسی درد ناک لکیر جو صرف سیاسی ہی نہیں، سماجی، صحافتی اور (اگرچہ ہمارا ادب سو رہا ہے تاہم) یہ ادبی بھی ہے، یہ ہر رخ کو متاثر کر چکا ہے، بالخصوص جب خود کش بم باروں کے ایک دہشت ناک آئیڈیا کے ساتھ سماج کو کنٹرول کرنے والوں نے کھیپ کی کھیپ گلیوں اور بازاروں میں اتاری۔

عابد میر کی کالم نگاری کا ذکر اس لیے بھی اہم ہے کہ جب انھوں نے آغاز کیا تو بدقسمتی سے انھیں بلوچستان کے ‘نائن الیون’ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نائن الیون کلینڈر کی ایک تاریخ ہے، لیکن اس سے متاثر ہونے کی نوعیت کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی بہت بڑا سانحہ جو شہر یا ملک کی ڈائنامکس تبدیل کر کے رکھ دے، اسے اصطلاحاً نائن الیون کہا جانے لگا ہے۔ 2006 کے بعد بلوچستان نے ایسی ہی بڑی کروٹ بدلی، نواب اکبر خان بگٹی کو ایک آمر نے میزائل داغ کر شہید کر دیا، ڈاکٹر اللہ نذر جیسا شخص پہاڑوں کی اُور نکل گیا، اور صرف وہ ہی کیا، ڈگریاں اور بڑی نوکریاں رکھنے والوں نے بھی قلم اور کتاب اور گفت و شنید ایک طرف رکھ کر پہاڑی مزاحمت کا انتخاب کر لیا، اور بلوچ مزاحمتی تحریک سرحدوں سے بھی آگے نکل گئی۔

اس کے بعد سے اگلے دس برس تک عابد میر نے ملک کے مختلف اخباروں میں مسلسل، رُکے اور دم لیے بغیر بلوچستان کا مقدمہ لڑا۔ وہ بہت دور تک پہچانے گئے، مانے گئے اور پیشیاں بھی بھگتنی پڑیں۔ لیکن اچھی بات یہ رہی کہ عابد میر اتنا کچھ رقم کرنے کے بعد بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔

بات میں نے شروع کی کالموں کی زندگی سے، ان دس برسوں میں بلوچستان میں آگ اور خون کے دریا بہے، معصوم انسانی جذبوں کے برہنہ جنازے نکلے، اور اس کتاب میں ایک صحافی کے لکھے لفظوں سے خون رِستا محسوس ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ کالم اپنے اندر اتنے سارے واقعات سمیٹ کر لائے ہیں کہ ترتیب وار تاریخ کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ اگر آپ ان میں سے پچاس فی صد شدت کو منہا کر کے بھی دیکھیں تو بھی آپ پہلی بار سمجھ جائیں گے کہ جب صحافی برادری میں سے کچھ لوگ بلوچستان کا نام درد سے لیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ بلوچستان کے گرد جھوٹ کا کتنا مہیب ہالا بنا کر آپ کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے، یہ کہ اس صوبے کا سچ اور جھوٹ کیا ہے، اور یہ کہ بلوچستان ہونے کا مطلب کتنا درد انگیز ہے۔

یہ کتاب مہر در کوئٹہ نے چھاپی ہے جس کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے علم و ادب پبلشر اردو بازار، کراچی سے ان کے موبائل فون نمبر 03337466580 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

رفیع اللہ: رفیع اللہ اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں-