The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

جب تین چوہے میرا شکار کرنے نکلے (ایک ‘مشہور’ اور ‘مسلسل’ کہانی)

پہلے ہی جملے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ کہانی بچّوں کی ہے، اور غیر سیاسی ہے۔

ان تینوں کے نام بھی تھے، اگڑم بگڑم تگڑم۔ تینوں بھائی تھے اور جڑواں تھے۔ ان کی کوئی بہن نہیں تھی جو اِن کو بچپن سے ٹوکتی، اور بری حرکتوں پر ڈانٹتی۔

ان چوہوں کی ماں بے حد شریف چوہیا تھی، کبھی میاں جی سے جھگڑا نہ کیا، فاقے بھی کرنے پڑتے تو صبر و شکر سے دن گزار لیتی، اور چوہے میاں کو نہ کوستی، شاید یہی سبب تھا کہ اس کے دانت بھی تیز بالکل نہ تھے۔

تو میں بتا رہا تھا کہ جب یہ اگڑم بگڑم تگڑم، یعنی تین چوہے میرا شکار کرنے نکلے تو ایک بڑا راز افشا ہوا۔

نہیں نہیں، چوہوں کا نہیں، میرا اپنا راز۔ اچھا چلو، میں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ ظاہر ہے جب میں یہ کہانی سنا رہا ہوں تو کوئی چوہا تو نہیں ہو سکتا، جی ہاں، آپ ٹھیک سمجھے، میں ایک بِلّا ہوں، جس نے اُسی حلقے میں آنکھ کھولی اور وقت گزارا، تینوں جڑواں بھائیوں نے اودھم مچانے کے لیے جس کا انتخاب کر رکھا تھا۔ جی بالکل، ایک پیارا سا گھر جہاں ہمارے مفادات کا بری طرح ٹکراؤ ہو رہا تھا۔

تو اُس دن بڑا راز افشا ہوا، اور میں سچ مچ گھبرا گیا۔ اگرچہ میں ماہرین نفسیات کی تجویز پر خود سے بار بار کہتا رہتا کہ گھبرانا نہیں گھبرانا نہیں، لیکن میں نے پایا کہ اب مجھے کوئی بھی شے گھبرانے سے نہیں روک سکتی۔ پھر میں نے خود کو اس طرح تسلی دینی شروع کر دی کہ گھبرانا بھی ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور مجھے کوئی ماہرِ نفسیات اس حق سے چالاکی سے محروم نہیں کر سکتا۔

خیر، جب اگڑم بگڑم تگڑم، تین چوہے میرا شکار کرنے بِل سے نکلے، تو ہر دو جانب دلوں میں گھبراہٹ کی موجودی کے باعث ہمارا حتمی ٹکراؤ کچن کے چمکتے، ٹائل زدہ فرش پر ہوا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ جہاں ہم تھے، وہ ایک ریڈ زون ہے، ظاہر ہے اتنا تو آپ جانتے ہی ہوں گے، لیکن افسوس ہم اس وقت محسوس نہ کر سکے۔

ریڈ زون میں مفادات کے بری طرح ٹکراؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چولھے پر چڑھے دودھ کی پتیلی الٹ گئی، جانے کیسے اور کس نے کسی انجان لمحے میں فریج کا دروازہ کھولا، اور مختلف مخلوقات کے بدن کے گوشت کے تازہ قتلوں نے ہمارے دلوں پر چھریاں چلا دیں۔ مفادات کی جنگ اتنی گرم ہو گئی کہ ہر احتیاط اور تنبیہ یاد نہ رہی، اور ہم سب سیر ہو گئے۔

لیکن ….. اس کے بعد ایک آپریشن ہوا، ڈنڈوں کی ضربیں مجھے ہفتوں تک ایک میٹھی جنگ کی یاد دلاتی رہیں۔ اگڑم بگڑم تگڑم، تین چوہے، جو میرا شکار کرنے نکلے تھے، موت کے شکنجوں میں جکڑے گئے۔

جانتا ہوں، اب آپ آگے کی کہانی سننا چاہیں گے، لیکن آگے کی کہانی آج کل ایک اور بِلّا رقم کر رہا ہے، جو اُس پیارے سے گھر میں مفادات کی جنگ میں مصروف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email