The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

خالد معین کا ’’وفور‘‘

قصہ یا داستان گوئی ایک قدیم فن ہے جس کی کچھ خصوصیات اور فنی تقاضے بھی ہیں۔ انسان نے تہذیب اور تمدن کے مدارج طے کیے تو داستان گوئی کا انداز بدلا اور اس کامعیار بھی بلند ہوا۔

آج ہم اسی فن کو ناول کی صورت میں دیکھیں تو اس کی تعریف میں مختلف اور متنوع آرا سامنے آتی ہیں۔ کسی نقّاد نے لکھا تھا، ”ناول اُس زمانے کی زندگی اور معاشرے کی سچّی تصویر ہے جس زمانے میں اسے لکھا گیا ہو۔“

یہاں ہم بات کر رہے ہیں ’’وفور‘‘ کی، جو خالد معین کا پہلاناول ہے اور اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔ 25 ابواب میں منقسم اس ناول کے ہر باب میں ہمیں اپنے معاشرے کے وہ کردار نظر آتے ہیں جن سے ہم مانوس بھی ہیں اور جن کی زندگی کے حالات و واقعات بھی ہمارے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ بھی عشق کی ایک داستان ہے، لیکن اس ناول کا سب سے نمایاں وصف اور قابلِ توجہ پہلو مرکزی کرداروں کا جذباتی تعلق اور ان کی نفسیات کا بیان ہے جسے مصنف کے تخلیقی وفور اور جمالیاتی حِس نے نہ صرف انفرادیت بخشی ہے بلکہ اس ناول کو قاری کے لیے تحیر خیز بنا دیا ہے۔

ناول کی شکل میں عصری زندگی کو بیان کرنے اور کسی معاشرے کی سچّی روداد پیش کرنے کے لیے قصّہ یا پلاٹ اور کردار نگاری کے ساتھ مکالمہ اور تکنیک بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور وفور کے مصنّف نے اس کاخیال رکھتےہوئےناول کو ایک مخصوص فضا اور اس سے جڑی ہوئی جمالیاتی اقدار سے پُر تأثر بنادیا ہے۔ ان کے ناول کے دو اہم کردار فکشن رائٹر علی جمال اور دیارِ غیر میں‌ مقیم ایک پاکستانی تخلیق کار نبیلہ ہیں جنھیں ان کا ادبی ذوق اور مشاغل قریب لے آتے ہیں اور پھر یہ رابطہ محبّت کے تعلق میں ڈھل جاتا ہے۔

خالد معین نے کراچی کے ادبی حلقوں سے اپنا تعارف ایک شاعر کی حیثیت سے تین دہائی قبل کروایا تھا۔ ایک طرف صحافت ان کا حوالہ بن رہی تھی اور دوسری طرف شاعری ان کی پہچان۔ وہ اس زمانے میں پرنٹ میڈیا میں‌ فن و ثقافت سے متعلق اپنی تحریروں اور ادبی سرگرمیوں کا احوال رقم کرنے کے سبب اپنے ساتھیوں میں نمایاں رہے۔ بعد میں‌ ملک میں‌ نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات کا آغاز ہوا تو خالد معین بھی الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہوگئے اور کئی نشریاتی اداروں کے لیے کام کیا۔ خبر نویسی سے لے کر اسکرپٹ رائٹنگ تک اپنی صحافتی ذمہ داریاں‌ نبھاتے ہوئے خالد معین نے زبان و بیان کی باریکیوں کا خیال رکھا اور ہر شعبے میں‌ معیاری کام کیا۔

اردو ادب کو اپنی خوب صورت شاعری سے سجانے والے خالد معین کی نثر بھی شان دار ہے۔ انھوں نے تذکرہ نویسی، یاد نگاری اور ناول تک اپنے دل نشیں انداز کے سبب ادبی حلقوں اور قارئین کی توجہ حاصل کی ہے۔ خالد معین ان قلم کاروں میں سے ایک ہیں جو موضوع کو اہمیت دیتے ہیں اور ادب میں افادیت اور اثر انگیزی کے قائل ہیں۔

’’بے وحشت موسم‘‘ خالد معین کا پہلا مجموعۂ کلام تھا۔ اس کے بعد ’’انہماک‘‘، ’’پسِ عشق‘‘، ’’ناگہاں‘‘ اور ’’نئی حیرتوں کے خمار میں‘‘ کے نام سے ان کی شاعری قارئین تک پہنچی اور جب وہ نثر کی طرف مائل ہوئے تو ادبی یادداشتوں پر مبنی کتاب’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ سامنے آئی۔ ان کی اس کاوش کو خاص طور پر علمی و ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔ ’’اب سب دیکھیں گے‘‘ (اسٹریٹ تھیٹر) اور اس کے بعد ’’مصوّرانِ خوش خیال‘‘ (پانچ مصوّروں کے فن و شخصیت کا مطالعہ) خالد معین کے تخلیقی وفور کا مظہر ہیں۔

ان کاناول وفور 192 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی قیمت 500 روپے ہے. یہ ناول آواز پبلی کیشنز، اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک، راول پنڈی نے شایع کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email