The news is by your side.
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
escort antalya
supertotobet betist
casino siteleri kacak bahis

بالی وڈ بحران اور ساؤتھ انڈین فلموں کا طوفان

جب سمندر میں طغیانی ہو، تو لائٹ ہاؤس بحری جہازوں کی امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ پھر وہی تلاطم خیز موجوں میں ڈھلتے ہوئے دن اور شب کی تاریکی تک درست سمت میں منزل کی طرف بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ اب بدقسمتی دیکھیے کہ بحرانوں کے شکار بالی وڈ نے اپنا لائٹ ہاؤس بھی کھو دیا ہے اور اسے اِدھر اُدھر بھٹکنا پڑ رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی مشکلات اور شائقینِ سنیما کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت بالی وڈ انڈسٹری پر کیا گزر رہی ہے اور اس کی حالت کیوں غیر ہو رہی ہے، اس کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا اور ان اسباب پر نظر ڈالنا ہوگی جن پر بھارتی سنیما میں بحث کی جارہی ہے۔ یہ ایک دل چسپ مگر طویل اور سنجیدہ موضوع بھی ہے، اور یہاں ہم صرف چند عوامل پر بات کر رہے ہیں‌ جو اس کی بنیاد بنے۔

گو کورونا عالمی سنیما کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہوا، مگر اس وبا سے پہلے ہی بالی وڈ پر ضرب پڑ چکی تھی۔ اس ضمن میں پہلی ضرب ہندوستان میں قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور انتہا پسندی کی صورت پڑی۔ یاد رہے کہ ہندوستان خطّے کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح غربت و افلاس، بے امنی اور انتہا پسندی کا شکار ہے۔ مگر دو پراجیکٹر ایسے تھے، جن کی مدد سے ہندوستان عالمی دنیا میں اپنا مثبت امیج پیش کرنے میں کام یاب رہا۔

پہلا پراجیکٹر کرکٹ ہے۔ عالمی کرکٹ کے کاروبار میں سب سے بڑا حصہ ہندوستان کا ہے اور یہی اس کی ہٹ دھرمیوں کا محرک بھی ہے۔ اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے۔ اس وقت ہمارا موضوع وہ دوسرا پراجیکٹر ہے، جس نے دنیا کے سامنے ہندوستان کی چمکتی دمکتی، روشن اور توانا تصویر پیش کی۔ اور یہ ہے، ہندی سنیما، المعروف بالی وڈ۔

80 اور 90 کی دہائی کا ہندی سنیما ہالی وڈ کے کام یاب تجربات کو دہراتی فلموں میں اپنے رنگ شامل کرنے میں مگن تھا۔ اس کوشش نے جہاں اسے نئی شناخت عطا کی، وہیں اس کے فن کاروں کو دنیا بھر میں رسائی دی۔ بالخصوص خانز کی مقبولیت کو اسی زمانے میں پَر لگے اور عامر، سلمان اور شاہ رخ خان دنیا میں بالی وڈ کا نیا چہرہ بن گئے۔

واقعات تیزی سے رونما ہوئے۔ جہاں ہم نے ایشوریا رائے کے سَر پر حسینۂ عالم کا تاج سجتے دیکھا، وہیں امریکی صدر باراک اوباما “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” کا ڈائیلاگ دہراتے نظر آئے۔ ٹائمز میگزین نے شاہ رخ کو ٹام کروز سے بڑا اداکار قرار دیا اور عامر خان کی فلم “دنگل” نے چین میں ریکارڈ کا انبار لگا دیا۔

الغرض بالی وڈ کی چمک دمک اور شہرت کے وسیلے ہندوستان عالمی دنیا میں اپنی کئی خامیوں پر پردہ ڈالنے میں کام یاب رہا۔ دنیا کے لیے ہندوستان ایک روشن خیال، ترقی پسند اور سیکولر معاشرہ تھا، جس کے سپراسٹارز، ان کا پرکشش لائف اسٹائل اور اس کا اسٹارڈم یہ پیغام دیتا تھا کہ ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔

جب بیرونی دنیا میں بالی وڈ کا ڈنکا بج رہا تھا، تو اندرونِ ملک اس کی حکم رانی پر بھلا کیا سوال رہ جاتا ہے۔ گو اس وقت بھی تامل، تیلگو، ملیالم سنیما موجود تھے، کنٹر اور بھوجپوری فلمز بنتی تھیں، مگر انھیں کبھی مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں سمجھا گیا اور علاقائی سنیما کہہ کر بہ سہولت نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ ویسے تب تک یہ غلط بھی نہیں تھا۔ وسائل اور بجٹ کی کمی اور پرموشن کے فقدان کی وجہ سے ساؤتھ کا سنیما نئے ہزاریے تک پوری طرح نہیں ابھر سکا تھا۔

جنوبی ہند کے فقط وہی فن کار ہندی اور عالمی سرکٹ میں اپنی شناخت بناسکے، جنھوں نے بالی وڈ کی فلمز کا جوکھم اٹھایا۔ رجنی کانت اپنے کلیشے اسٹائل کے ساتھ ہمیں کبھی مختصر، کبھی مکمل کرداروں میں نظر آئے، ہم نے ناگ ارجن، چرن جیوی اور دیگر کو دیکھا۔ ہیروئز بھی وہاں سے کئی آئیں۔ البتہ جس فن کار نے حقیقی معنوں میں توجہ اور احترام حاصل کیا، وہ کمل ہاسن تھے، جنھیں ناقدین “میتھڈ ایکٹنگ” کے اہم ترین اداکاروں میں شمار کرتے ہیں۔

البتہ سچ یہ ہے کہ چند بھاری بجٹ کی کام یاب فلموں اور رجنی کانت، کمل ہاسن جیسے اداکاروں کی موجودگی کے باوجود ساؤتھ کا سنیما حقیقی شناخت سے کوسوں دور تھا۔ سوائے شنکر کی فلم “روبوٹ” کے کسی فلم نے شائقین کو متوجہ نہیں کیا تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نا وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ایک جانب جہاں ہندی سنیما ہالی وڈ کے زیرِ اثر جدید کلچر کی ترجمانی کرتی ایکشن اور کمرشل ازم سے بھرپور فلمیں بنا رہا تھا، وہیں ساؤتھ کا سنیما دھیرے دھیرے جدید آلات سے لیس ہورہا تھا۔ نئے ہزاریے پر دنیا بدلی تو اسے بھی یو ٹیوب کے ذریعے نیا پلیٹ فارم میسر آگیا، جہاں ساؤتھ کی فلموں کو ہندی ڈبنگ کے ساتھ پیش کیا جانے لگا اور حیرت انگیز طور پر اس نے خوب پذیرائی حاصل کی۔

ایک کھڑکی کھلی، تو گویا اندھیرا چھٹنے لگا۔ ایک جانب جہاں ہندی ناظرین کو ایک نیا، زمین سے جڑا ہوا زیادہ تخلیقی ذائقہ ملا، وہیں انھیں یہ خبر بھی ہوئی کہ ان کے بڑے بڑے اسٹارز کی کئی میگا بجٹ سپرہٹ فلمیں دراصل ساؤتھ میں بننے والی کسی کم بجٹ فلم کا ‘ری میک’ ہیں۔ سلمان خان، اکشے کمار اور اجے دیوگن کی کئی بلاک بسٹر فلموں کی کہانی بھی کھلتی چلی گئی۔ ان کے اصل ورژن ناظرین کو یوٹیوب پر دستیاب تھے۔ فلم بینوں کو اُن گانوں کی بھی خبر مل گئی، جن کی دھنوں پر مبنی ہندی گیتوں پر کبھی وہ سَر دھنتے رہے تھے۔ اب وہ ان ہدایت کاروں کو بھی شناخت کرسکتے تھے، جن کے پیش کردہ مناظر کو ہندی ناظرین کے سامنے جوں کا توں، بس تھوڑے اضافی بجٹ کے سہارے زیادہ چمک دمک کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ یوں سمجھیے کہ بُت ٹوٹنے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ بالی وڈ کے ناظرین کو یک دَم احساس ہوا کہ جن اسٹارز کی فلمیں دیکھنے کے لیے وہ مہنگے ٹکٹس خریدتے ہیں، وہ ان کے سامنے وہی چبائی ہوئی کہانیاں پیش کر رہے ہیں۔ بلکہ اب تو ایکشن کا انداز بھی وہی اختیار کر لیا گیا ہے، جو کل تک ساؤتھ کا خاصہ تھا، جہاں ہیرو ایک لات رسید کرتا تو ایک ساتھ دس کسرتی جسم والے بدمعاش ہَوا میں اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

ابھی یہ کھڑکی کھلی ہی تھی کہ بالی وڈ پر ایک اور افتاد ٹوٹ پڑی۔ یہ تھی مودی جی کی انٹری، جس کے ساتھ ہندوتوا کا تصوّر بھی ہندوستانی سماج میں‌ دَر آیا۔ انتہا پسندی اور قوم پرستی بڑھنے لگی۔ معاشرہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوتا چلا گیا۔ ماضی کی وہ انتہا پسند تنظیمیں، جن پر معاشرے کے سیکولر اور روشن خیال طبقات غالب تھے، یک دَم قوّت توانا ہونے لگیں۔ اس نئی سوچ نے بالی وڈ کو اپنا نشانہ بنایا۔ خانز کے خلاف محاذ گرم کیا گیا۔ ان کے اسٹارڈم میں دراڑ ڈالنے کے لیے قوم پرستی کی ترجمانی کرنے والے اداکاروں کے لیے گنجائش پیدا کی گئی۔ اس کے علاوہ بھارت میں پاکستانی فن کاروں کا راستہ بھی مسدود نظر آیا۔ ان کے کنٹریکٹ منسوخ کر دیے گئے۔ جن فلموں میں پاکستان فن کاروں نے کام کیا تھا، ان کی ریلیز میں رکاوٹیں کھڑی کی جانے لگیں۔ وہ کہانیاں اور معاشرے کے وہ کردار، جو کل تک سیکولر ہندوستان کے ترجمان تھے، معتوب ٹھہرے اور انتہا پسندانہ سوچ نے بالی وڈ میں دراڑ ڈال دی۔

اگر اس بحث کو نکات کی شکل میں سمجھا جائے تو یہاں ہم نے اس ضمن میں تین پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

پہلا: بالی وڈ کا روایتی کمرشل سوچ کا شکار ہو جانا۔

دوسرا پہلو: معیاری ساؤتھ انڈین فلمز کی ہندی ڈبنگ جس نے فلم بینوں‌ پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ ہندی سنیما ری میک پر انحصار کر رہا ہے۔

تیسرا پہلو: انتہا پسندی کا فروغ پانا ہے، جس نے بالی وڈ کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔

یہ سب جو بہت تیزی سے ہوا اور جس نے بہت کچھ ہلا کر رکھ دیا، تب ساؤتھ انڈیا سے ایک ایسی فلم کی آئی، جس نے منظر نامے کو یکسربدل دیا اور اس پر ہم بعد میں بات کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table