بینظیر کا بیٹا ماں کے نقشِ قدم پر

اٹھارہ اکتوبر ۲۰۰۷ کا دن تھا، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں اور عوام کا ٹھاٹیں مارتا سمندر اپنی عظیم لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب تھا، چاروں صوبوں سے آئے لوگ اس بات کی تائید کر رہے تھے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر بینظیر.
بینظیر بھٹو نے یہ جانتے ہوئے بھی کے انکی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر ۱۸ اکتوبر کو اپنے وعدے کے مطابق کراچی پہنچ گئی اور یوں انکی ۸ سالہ جلاوطنی کا خاتمہ ہوا. لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، کارساز کے مقام پر دہشتگردوں نے بینظیر بھٹو کے کارواں کو نشانہ بنایا جس میں محترمہ بینظیر بھٹو تو محفوظ رہیں مگر سینکڑوں جیالے اور جانثار شہید و زخمی ہوئے اور یوں ۱۸ اکتوبر جو خوشی کا دن تھا ماتم میں تبدیل ہوگیا.
اب ۷ سال بعد ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۴ کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی محترم بلاول بھٹو زرداری عملی طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے جارہے ہیں اور آج بلاول بھٹو کو انہی مشکلات کا سامنا ہے جس کا سامنا شہید بینظیر بھٹو کو کرنا پڑا تھا. وہی قوتیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بی بی کے خلاف تھیں آج وہی قوتیں بلاول بھٹو کے خلاف دیوار بن کر کھڑی ہیں یہ الگ بات ہے کہ بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بلاول بھٹو کا سیاسی قد بہت بڑا ہے اور بلاول بھٹو نہایت ہی بہادری سے ہر دیوار پھلانگ کر اور ہر مصیبت کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھ رھے ہیں۔

18 اکتوبر کو پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین تمام صوبوں سے تعلق رکھنے لوگوں اور پیپلزپارٹی کے جیالوں سے خطاب فرمائیں گے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پیپلز پارٹی آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ہے۔

بلاول بھٹو وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جنہوں نے نا صرف طالبان کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی بلکہ لائن آف کنٹرول پر جاری بھارتی جارحیت کے خلاف بھی سب سے پہلے آواز بلند کی اور بھارتی جارحیت کی مذمت کی اور ساتھ ہی ساتھ کشمیروں کے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کی اور پھر بلاول بھٹو کو بچہ کہنے والے عمران خان خود بلاول بھٹو کی پیروی کرتے نظر آئے اور کشمیروں کے لئے آواز اٹھائی لیکن عمران خان نے کبھی بھی طالبان کی جانب سے کی جانے والی ظالمانہ کاروائیوں کی مذمت نہیں کی اس لئے انہیں طالبان خان کے نام سے جانا جاتا ہے.
۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷ کو پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہونے والی دہشتگردی و بم دھماکوں کی ذمےداری طالبان نے قبول کی اور ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں بھی پیپلزپارٹی کے عوامی اجتماع میں فائرنگ اور دھماکوں کی ذمےداری طالبان نے قبول کی جس میں سابق وزیراعظم اور چیئرپرسن پاکستان پیپلزپارٹی محترمہ بینظیر بھٹو سمیت سینکڑوں جیالوں کو شہید اور زخمی کیا گیا. دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر نے ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷ کو پاکستان کی امیدوں کا چراغ بجھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے مگر وہ چراغ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ کو بجھا دیا گیا اور اب اس چراغ کو پھر سے روشن کرنے کےلئے 18 اکتوبر کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری میدان عمل میں آرہے ہیں۔

 

عمیر سولنگی: عمیر سولنگی بلاگر ہیں اور سیاست اورحالاتِ حاضرہ پرلکھنا پسند کرتے ہیں.